بند کمروں میں کئے ہوئے فیصلے تبدیل کئے جائیں: عمران خان

  • جمعرات 18 / اگست / 2022

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمینعمران خان نے کہا ہے کہ سیاست دانوں کی کرپشن اور کک بیکس کے حوالے سے مجھے اسٹیبلشمنٹ اور آئی ایس آئی نے بتایا تھا۔ نیوٹرلز اپنی پالیسی پر نظرثانی کریں ابھی وقت ہے۔

اسلام آباد میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ میں ہمیشہ سمجھتا رہا کہ ہماری اسٹیبلشمنٹ کو ملک کی زیادہ فکر ہوگی۔ وہ جب چوری دیکھیں گے تو ردعمل دیں گے، کیونکہ میں جب جدوجہد کر رہا تھا تو اسٹیبلمشنٹ کی طرف سے، کئی دفعہ آئی ایس آئی نے بتایا کہ انہوں نے اتنی چوری کی ہے۔

عمران خان نے کہا کک بیکس لیے اور معاہدے کرنے کی ساری معلومات مجھے ان سے آئیں۔ جب میں وزیراعظم بنا تو سب کو پتا تھا ان کے مقدمات کا لیکن بدقسمتی سے نیب ہمارے کنٹرول میں نہیں تھی۔ اس وقت بھی میری سمجھ میں نہیں آیا کہ مضبوط کیسز ہیں کیوں نہیں چل رہے لیکن بعد میں پتا چلا ان پر شفقت کا ہاتھ تھا۔

وہ کبھی ایکسلیٹر دبا دیتے تھے تو پھر کبھی واپس آجاتا تھا۔ ہم تماشا دیکھ رہے تھے اور گالیاں ہمیں پڑ رہی تھیں کیونکہ وہ کسی کو نیب لے کر جاتے تھے تو مجھے گالیاں نکالتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ میرے ہاتھ میں نیب ہوتی تو کم از کم 15 سے 20 لوگوں کو جیلوں میں ڈال کر ان سے اربوں روپے نکال لیتے۔

عمران خان نے کہا کہ چلیں ہم کسی کو الزام نہیں دیتے کہ وہ ایک سازش کا حصہ تھے لیکن میں اسٹیبلشمنٹ سے سوال پوچھتا ہوں کہ آپ نے ان لوگوں کو کیسے ملک کے اوپر مسلط ہونے دیا۔ حالانکہ آپ خود کہتے تھے کہ کتنی چوری کی ہے، اس کا یہ مطلب ہے کہ چوری آپ کے لیے بری چیز نہیں ہے۔ معیشت کی بہتری کے حوالے سے ہر کسی کی اپنی رائے ہے۔ وہ ٹھیک ہوسکتی ہے کیونکہ مختلف اقدامات ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب ہماری اسٹیبلمشنٹ کو پتا تھا کہ 30 سال سے یہ ملک لوٹ رہے ہیں، مجھے انہوں نے دکھایا تو سوال پوچھتا ہوں کہ ان کا راستے کیوں نہیں روکا۔ اگر ملک کی فکر ہے تو کیسے ان کو اجازت دیتے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کے پاس پاور ہے، پاور کے ساتھ ذمہ داری آتی ہے۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ پاور آپ کے پاس اور ذمہ دار کسی اور کے پاس ہو۔ پاور اور اتھارٹی ساتھ ساتھ جاتے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ جب یہ اوپر آئے ہیں تو آپ جتنا مرضی کہیں نیوٹرل ہیں لیکن تاریخ میں لوگ آپ پر الزام لگائیں گے جو ملک کے ساتھ کیا ہے، تاریخ لکھی جارہی ہے کہ کیسے آپ نے ان لوگوں کو ہمارے اوپر مسلط ہونے دیا۔ اب کوشش کی جارہی ہے ہم بھیڑ بکریوں کی طرح اس سیٹ اپ کو تسلیم کریں اور اس کے لیے ہر حربہ استعمال کیا جارہا ہے، سوشل میڈیا کے لوگوں کو اٹھایا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی نے فوج کے خلاف ٹوئٹ کی ہے تو ان کو اٹھا کر یہ نہیں کہتے معافی مانگو بلکہ کہلواتے ہیں عمران خان نے ہم سے ٹوئٹ کروایا، بچوں کو اٹھایا ہوا ہے۔ اگر شہباز گل سے ایک جملہ نکل گیا جو اس کو نہیں کہنا چاہیے تھا جس کو غلط سمجھا جاسکتا ہے تو اے آر وائی کا کیا قصور تھا، اسے کیسے بند کردیا۔

انہوں نے کہا کہ اے آر وائی کو اس کی وجہ سے بند نہیں کیا گیا۔ شہباز گل نے جو کہا اس کا مجھے پہلے دو دن تک پتا نہیں چلا، جب ہمارا وکیل مل کر آیا تو تب پتا چلا کہ اس بیچارے کے ساتھ کیا کیا گیا۔ اس کو ننگا کرکے مارا گیا، ایک انسان کی عزت ہوتی ہے۔ یہ منصوبہ بنارہے ہیں کسی طرح تحریک انصاف ٹوٹ جائے، ہمارے لوگوں، اراکین اسمبلی اور سینئرز کو فون کر رہے ہیں اور خوف پھیلا رہے ہیں۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ شہباز گل سے پوچھ رہے ہیں عمران خان کھاتا کیا ہے، ان کو میری ڈائٹ کی فکر نہیں ہے۔ شہباز شریف کے کیس میں ایف آئی اے کے 4 گواہ تھے وہ دو مہینے کے اندر دل کا دورہ پڑنے سے وفات پا گئے ہیں، ان کو کھانے کا پتا تھا کہ وہ کیا کھاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کھاتے کیا ہیں پتا ہو تو پھر ان کو کیسے ٹھکانے لگاتے ہیں۔ اپنے نیوٹرلز کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ کیا آپ کو ملک کی فکر ہے، جب تک سیاسی استحکام نہ ہو معیشت بحال ہوسکتی ہے۔ جب کسی کو نہ پتا ہو ایک مہینے یا دو مہینے میں کیا ہوگا تو معیشت کیسے بحال ہوگی۔

نیوٹرلز سے کہتا ہوں کہ ابھی بھی وقت ہے، اپنی پالیسی پر نظر ثانی کریں، بند کمروں میں بعض اوقات فیصلے ہوتے ہیں وہ فیصلے اچھے نہیں ہوتے ہیں۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ آپ کو سوچنا چاہیے اور نظرثانی کرنی چاہیے اگر اس وقت صحیح فیصلے نہیں ہوں گے اور اگر کوئی ان کے نیچے زبردستی رکھنا چاہے اور مجھے کوئی کہے کہ ان کے نیچے زندگی گزارنی ہے تو میں سمجھوں گا موت بہتر ہے بجائے ان چوروں کے نیچے زندگی گزاروں۔

چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ میں حقیقی آزادی کی بات کرتا ہوں تو میں چاہتا ہوں کہ قوم آزاد ہو، صرف آزاد قوم اوپر جائے گی۔ قوم اس وقت تک آزاد نہیں ہوگی جب تک معاشرے میں آزادی رائے نہ ہو۔ مجھے کہتے ہیں اپنے دور میں سختیاں کیں تو میں یقین دلاتا ہوں مجھے کبھی آزاد میڈیا سے خوف نہیں ہوا۔

مشرق وسطیٰ جہاں بادشاہت ہے وہاں کوئی آزادی رائے نہیں ہے کیونکہ وہ لوگوں پر کنٹرول چاہتے ہیں۔ کرپٹ سیاست دانوں کو اس لیے خوف ہوتا ہے کیونکہ انہوں نے کرپشن کی ہوتی ہے یا قانون توڑنے ہوتے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ مجھے صرف ایک مسئلہ ہے کہ آزادی رائے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ لوگوں کی توہین کریں اور ان کی کردار کشی کریں۔ ہر کسی کی پگڑی نہیں اچھال سکتے بلکہ اس کے ساتھ چیک اور بیلنس ہے۔ لوگوں کو اپنی عزت بحال کرنے کا موقع ملتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر وزیراعظم کو انصاف نہیں ملتا ہے تو عام آدمی کو کیا ملے گا۔

loading...