پارلیمان یا عدالت عظمیٰ۔۔۔ بالادست کون؟

عدلیہ کا پاکستان میں آئین کی سربلندی کے لیے کردار کافی متنازع اور کسی حد تک بظاہر جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے خلاف رہا ہے۔

عدلیہ نے حالات کے جبر یا سابق منصفوں کی ذاتی کمزوریوں کی وجہ سے نت نئے جواز گھڑ کر فوجی حکمرانوں کے اقتدار پر غاصبانہ قبضے کو قانونی چھتری مہیا کی اور سیاسی قیادت کو سیاست سے باہر کرنے کے لیے یا تو انہیں تختہ دار پر بھیجا یا انہیں توہین عدالت کے نام نہاد مقدموں کو استعمال کرتے ہوئے وزارت عظمیٰ سے ہٹایا یا زندگی بھر کے لیے انتہائی کمزور قانونی دلائل استعمال کرتے ہوئے ہمیشہ کے لیے نااہل قرار دیا۔

اس کے برعکس عدالت عظمیٰ نے کبھی بھی آئین توڑنے والے غاصبوں کا احتساب نہیں کیا بلکہ وہ اس حد تک کہ ایک فوجی آمر کی بغاوت کو نہ صرف جائز قرار دیا بلکہ اسے آئین میں ترامیم کی بھی اجازت دی۔ پاکستانی وکلا کی بہت سی بڑی تنظیمیں اور نامی گرامی وکلا ان بعض ہم خیال ججز کے فیصلوں پر کھلے عام تنقید کرتے آئے ہیں اور بڑے اہم مقدموں میں بڑے بینچز کی تشکیل پر زور دے رہے ہیں مگر عدالت عظمیٰ ان سب قانونی اپیلوں کو نظر انداز کر رہی ہے۔

ججوں کی طرف سے سیاسی معاملات کے بارے میں ریمارکس مزید تشویش کا باعث بن رہے ہیں۔ ایک سیاسی جماعت کے سربراہ کی طرف سے عدالت کے فیصلے کی خلاف ورزی پر انہیں سزا دینے کی بجائے یہ کہا گیا کہ شاید ان تک عدالت کا فیصلہ صحیح طریقہ سے نہیں پہنچایا گیا۔

جس پارٹی نے عدالت عظمیٰ کے عدم اعتماد کے ووٹ کے بارے میں فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور اس پارٹی کے کارکنوں نے ججوں کے خلاف شرمناک نعرہ بازی کی، ان کی تصویروں پر جوتے برسائے اور اس فیصلے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے پارلیمان سے استعفیٰ دیا، عدالت عظمیٰ کو اس پارٹی کی پارلیمان میں غیر حاضری کی وجہ سے کی گئی قانون سازی عوام کی امنگوں کی ترجمان نہیں دکھائی دیتی اور عوامی نمائندوں کی توہین کرتے ہوئے اہم قانون سازی کو ذاتی مفادات  پر مبنی قانون سازی کہا جاتا ہے۔

تقریباً سارے سول اداروں کے احتساب پر زور دینے والی عدالت عظمیٰ اپنے اخراجات کا حساب دینے سے گریزاں ہے اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے فیصلے کو اس نے رجسٹرار کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہوا ہے۔ کیا پاکستانی عوام کے خون پسینے کی کمائی سے کیے جانے والے اخراجات کا حساب دینا یا ان کا آڈٹ کرانا غیر آئینی فعل ہے یا عدالت عظمیٰ کی توہین ہے؟

اسلام آباد ہائی کورٹ نے تو فوراً اپنے اخراجات کا حساب دے دیا اور ساتھ ہی تمام ججوں کے اثاثہ جات کی تفصیل بھی جاری کر دی۔ عدالت عظمیٰ کے ایک جج نے رضاکارانہ طور پر خود ہی اپنے اثاثہ جات کی تفصیل عوام کے لیے کھول دی مگر عدالت عظمیٰ بحیثیت ادارہ باقی ججوں کے بارے میں ایسی تفصیل دینے سے کیوں گریزاں ہے؟ جبکہ وہ سارے دیگر سول اداروں اور سیاست دانوں سے اثاثے ظاہر کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔

عدلیہ کے اندر نئی تعیناتیوں کے طریقہ کار کے بارے میں بھی تقریباً اکثر قانونی تنظیموں نے اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ عدالت عظمیٰ کے سینیئر ججوں نے بھی اس طریقہ کار میں غیر شفافیت کی طرف نشاندہی کی ہے مگر ان اہم تعیناتیوں میں بھی شفافیت متعارف نہیں کروائی جا رہی ہیں۔ پچھلی جوڈیشل کونسل کی میٹنگ کی ریکارڈنگ کو عام کرنے سے ججوں کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں اور پانچ ججوں کی تعیناتی اب مہینوں سے کھٹائی میں پڑی ہوئی ہے۔ کیا ان تعیناتیوں میں تاخیر ذاتی مفادات کی بنیاد پر نہیں ہے؟

اب حالات اس نہج پر پہنچ گئے ہیں کہ پارلیمان اور عدالت عظمیٰ بظاہر آمنے سامنے آ گئے ہیں اور تصادم کے امکانات بڑھنے لگے ہیں۔ پارلیمان کی کمیٹی ججوں کی تعیناتی اور دیگر قانونی معاملات میں اپنے اختیارات بڑھانے کے بارے میں سوچ رہی ہے جو کہ یقیناً ایک بڑے قانونی تصادم کی شکل میں سامنے آئے گا۔ یہ تصادم کسی صورت ہمارے اداروں کی بقا کے لیے مناسب نہیں۔ اس تصادم کی صورت میں عدالت عظمیٰ بھی مزید تقسیم ہوگی اور شاید کچھ ججز واضح طور پر اپنے اختلافی خیالات کا اظہار کریں جیسا کہ کچھ عرصہ پہلے بھارتی سپریم کورٹ کے ججوں نے چیف جسٹس کے خلاف ایک پریس کانفرنس میں اپنے اختلافی خیالات کا اظہار کیا۔

عدالت عظمیٰ کو چاہیے کہ حالات کی سنگینی کا ادراک کرے اور غیر ضروری سیاسی معاملات میں دخل اندازی سے پرہیز کرے۔ ججوں کو سماعت کے دوران غیر مناسب سیاسی ریمارکس دینے سے بھی پرہیز کرنے کی ضرورت ہے اور کسی طرح سے بھی ان کو اپنا سیاسی جھکاؤ نہیں دکھائی دینا چاہیے۔ عدالت عظمیٰ کو اپنے اختیارات کے استعمال میں آئینی اعتدال کا راستہ اختیار کرنا چاہیے اور تمام ججوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے۔ ہم خیال ججوں کا تصور نہ صرف عدلیہ کے وقار کو نقصان پہنچائے گا بلکہ ادارے کے اندر شدید دراڑوں کا بھی سبب بنے گا۔

پارلیمان کی تضحیک یا اس سے غیرضروری تصادم سے گریز کرنے کی ضرورت ہے۔ جس ادارے کے بنائے ہوئے آئین سے عدالت عظمیٰ اور اس کے اختیارات وجود میں آئے ہیں، اس کی قانونی طاقت کو قانونی نظرثانی کا حق استعمال کرتے ہوئے کمزور کرنا یا چیلنج کرنا، جمہوریت اور آئینی حکمران کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔

(بشکریہ: انڈی پنڈنٹ اردو)

loading...