کانگریس مکت بھارت کا خواب تقریباً مکمل؟

2014 کے پارلیمانی انتخابات سے پہلے بھارتیہ جنتا پارٹی نے نریندر مودی کی قیادت میں جب ’کانگریس مُکت بھارت‘ یعنی ’کانگریس سے آزاد بھارت‘ کا انتخابی نعرہ بلند کیا تھا تو بیشتر عوامی حلقوں نے اس پر قہقہہ لگا کر اسے بی جے پی کی ذہنی خرافات سے تعبیر کیا تھا۔

 جملہ دہرایا، جب انہوں نے حصول آزادی کے بعد کانگریس کو ختم کرنے کی صلاح دی تھی تاکہ تاریخ میں اس پارٹی کی شبیہ قائم و دائم رہ سکے۔ تقریباً آٹھ برس کے بعد آج کے انڈیا پر نظر ڈالیے تو یہ یقین کرنا اب مشکل نہیں کہ کانگریس کی موجودگی صفر کے برابر ہے، ماسوائے راجستھان کے جہاں یہ پارٹی آخری سانس لیتی دکھائی دے رہی ہے۔

کانگریس کے تابوت میں آخری کیل سینیئر رہنما غلام نبی آزاد کا حالیہ استعفیٰ ہے، جس نے رہی سہی پارٹی کو نہ صرف اندرونی طور پر ہلا دیا ہے بلکہ جماعت کے نئے سرے سے اپنا وجود منوانے کی حالیہ ملک گیر مہم کو بھی شدید جھٹکا لگا ہے۔ غلام نبی آزاد کانگریس کے ’جی 23‘ کہلانے والے اس منحرف گروپ کے سرکردہ رکن ہیں جو کافی عرصے سے پارٹی سربراہ سونیا گاندھی پر پارٹی میں اندرونی ردوبدل کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں اور جس میں راہل گاندھی کو فیصلہ سازی سے دور رکھنے کی صلاح بھی شامل ہے۔

سونیا گاندھی نے گو کہ جی 23 کو سمجھا بجھا کر پارٹی سے ابھی تک جوڑے رکھا تھا لیکن کانگریس کے سینیئر رہنما آنند شرما اور اب غلام نبی آزاد کے راہل گاندھی پر بچگانہ فیصلے کرنے کے الزامات نے پارٹی کو مزید کمزور کر دیا ہے۔ عام خیال یہ ہے کہ مزید سینیئر رہنما کانگریس سے دوری اختیار کرنے کا سوچ رہے ہیں، جو شاید مستقبل میں ایک الگ پارٹی کی شکل میں نمودار ہوں۔

کانگریس کے ساتھ آزاد کا 50 برسوں کا قریبی رشتہ تھا۔ انہوں نے وزارت سے لے کر راجیہ سبھا تک میں اپوزیشن لیڈر کی حثیت سے کانگریس کی بھرپور طریقے سے ترجمانی کی ہے لیکن سینیئر رہنما جے رام رامیش کے مطابق ’آزاد نے ایسے نازک وقت پر پارٹی سے کنارہ کشی اختیار کی ہے جب انہیں ملک میں جاری معاشی بحران اور مذہبی تشدد کے خلاف شروع کی جانے والی کانگریس کی بھارت جوڑو مہم میں ساتھ دینا چاہیے تھا۔‘ کانگریس نے محتاط طریقے سے اپنا ردعمل ظاہر کیا البتہ یہ شدت سے محسوس کیا جارہا ہے کہ راہل گاندھی کے خلاف آزاد کے بیانات سے پارٹی کو شدید نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے، جس کے پیچھے شاید کوئی اور بول رہا ہے۔

ششی تھرور اور دوسرے رہنماؤں نے بھی پارٹی سربراہ کے انتخاب کو شفاف طریقے سے کروانے پر زور دیا ہے۔ کانگریس کا ایک بڑا حلقہ راہل گاندھی کو صدر بننے پر راضی کر رہا ہے جنہوں نے کئی بار اس پیش کش کو ٹھکرا دیا تھا۔ پارٹی کے نئے سربراہ کے لیے ستمبر میں انتخابات کروانے کا منصوبہ ہے۔ پہلی مرتبہ کسی غیر گاندھی کے رہنما بننے کی بھی بات سنی جا رہی ہے۔

حیدرآباد کے سیاسیات کے استاد رویندر یادو کہتے ہیں کہ آزاد انڈیا کے دوسرے مفتی محمد سید بن گئے ہیں جنہوں نے مرکز میں رہ کر اعلیٰ وزارتیں لینے کے بعد کشمیر کا رخ کیا تھا۔ اب مفتی کی طرح آزاد بھی خود کو کشمیریوں کا مسیحا ثابت کرنے کی کوشش کریں گے۔ مفتی نے واجپائی سے مل کر ’ہیلنگ ٹچ‘ کا نعرہ دیا تھا لیکن انتخابات کے بعد عوام کو بی جے پی کی جھولی میں ڈال دیا۔

آزاد مودی کے ساتھ مل کر جہاں کشمیر کی اندرونی خودمختاری کے خاتمے کو مہر بند کروانے پر گامزن ہیں، وہیں اسلامی ملکوں میں کشمیری چہرے کو پیش کرکے مودی اپنا کھیل تمام کرنا چاہتے ہیں۔ پھر انڈیا کے مسلمانوں میں اسد الدین اویسی کی گرج کو بھی زائل کرنا لازمی ہے، جس کے لیے آزاد کے سوا یہ کام اور کوئی نہیں کرسکتا ہے۔ مودی ایک تیر سے کئی شکار کرنے کے عادی ہیں۔

جموں و کشمیر میں خاص طور پر غلام نبی آزاد کے استعفے کے بعد کافی ہلچل مچی ہوئی ہے۔ مقامی مین سٹریم جماعتیں انہیں اپنے لیے ایک بڑا چیلنج تصور کر رہی ہیں، کشمیر میں کانگریس کو ویسے بھی تین چار سیٹوں کے علاوہ نمائندگی نہیں ملتی تھی لیکن اب کانگریس کا پوری طور سے جیسے صفایا ہوچکا ہے۔ بیشتر کارکن کانگریس چھوڑ کر آزاد سے جُڑ گئے ہیں۔ انڈیا کی بیشتر ریاستوں میں پہلے ہی کانگریس کا بالکل صفایا ہوچکا ہے۔

خیال ہے کہ اگر آزاد کو جموں و کشمیر میں آنے والے ممکنہ انتخابات میں چند سیٹیں بھی ملتی ہیں یا انتخابی جوڑ توڑ کے ذریعے چند نشستیں دلوانے کی کوشش کی جائے گی تو مودی کی خواہش پر آزاد اس خطے کے نئے وزیراعلیٰ ہوں گے۔ دو برس قبل انڈین پارلیمان میں جب آزاد کی بحیثیت راجیہ سبھا ممبر کے مدت ختم ہورہی تھی تو مودی نے ان کی تعریف کرتے ہوئے چند آنسو بھی بہائے تھے، پھر انہیں اعلیٰ اعزاز سے بھی نوازا۔

مودی کے دور اقتدار میں آنے کے بعد تقریباً ان کے وہ سارے خواب شرمندہ تعبیر ہو رہے ہیں، جس کا احوال انہوں نے سیاسی منظرنامے پر آنے سے قبل بتایا تھا۔ وہ کشمیر کے لال چوک میں 1992 میں ترنگا لہرانے آئے تھے جب عسکری تحریک عروج پر تھی اور سابق گورنر جگ موہن نے کہا تھا کہ ’کشمیر پاکستان کے پیٹ میں چلا گیا ہے‘، پچھلے تین برسوں سے مودی اب اپنے کارکنوں سے لال چوک میں ترنگا لہرانے کی رسم ادا کروا رہے ہیں گوکہ اب بھی یہ سکیورٹی کے پہرے میں کیا جاتا ہے۔

دوسرا کانگریس مکت بھارت کا خواب تقریباً مکمل ہوچکا ہے اور کانگریس کو دفن کرنے کا کام شاید آزاد کو دیا گیا ہے، جو کانگریس کے جی 23 گروپ سے ابھی تک جڑے ہوئے ہیں۔ اس کے بدلے میں انہیں کشمیر کے اس سنگھاسن پر بٹھانے کا شاید وعدہ کیا گیا ہے جو ایک کروڑ بیس لاکھ کی آہوں، امنگوں اور خوابوں کے قبرستان پر سجایا جا رہا ہے۔

دنیا اس ڈرامے سے فی الحال لطف اندوز ہو رہی ہے البتہ کیا بی جے پی انڈیا کو کانگریس سے واقعی آزاد کرسکتا ہے؟ میرے خیال میں اس کے لیے بی جے پی کو ابھی مزید چند دہائیوں تک اقتدار میں رہنا ہوگا۔

(بشکریہ: انڈی پنڈنٹ اردو)

loading...