لالہ فہیم کے گھر آئی غیر قانونی آفت

پاکستان بلاشبہ ایک مضبوط ریاست ہے۔ کتنے کرپٹ سیاستدانوں، کتنے ایماندار جرنیلوں، کتنے نوکری کو عبادت سمجھ کر کرنے والے ججوں کو سنبھال گئی ہے۔

ہمارے ملک کا ایک حصہ، بڑا حصہ، ہم سے کٹ کے جدا ہو گیا۔ ہم کپڑے جھاڑ کر اٹھ کھڑے ہوئے اور پھر کوئیک مارچ شروع کر دیا۔ آج کل بھی ایک طرف کروڑوں لوگ خیمے اور اگلے وقت کی روٹی کے انتظار میں سڑکوں کے کنارے پڑے ہیں تو دوسری طرف جلسہ گاہیں بتیوں اور جھنڈوں سے بھری ہوئی ہیں اور لے کے رہیں گے آزادی کے نعروں سے گونج رہی ہیں۔

ریاست اس لئے مضبوط ہے کہ ہمارے کروڑوں بھائی جس چارپائی پر سوتے تھے اس کو سر کا سائبان بنائے ہوئے ہیں۔ بچوں کو دودھ، اور بچے کھچے جانوروں کو چارہ نہیں مل رہا لیکن ریاست کے پاس اتنا وقت اور ذرائع ہیں کہ اس نے کراچی کے اردو بازار میں ایک کتابوں کی دکان ڈھونڈ لی جہاں پر کچھ بلوچی اور کچھ اردو کی کتابیں چھپتی ہیں۔ پھر اس دکان کے  مینیجر فہیم جان عرف لالہ فہیم کو ڈھونڈ نکالا۔ اپنے آپ کو ریاست کے کارندے کہنے والے ساتھ لے گئے۔

 ایک ہفتے سے زیادہ ہو گیا ہے لالہ فہیم کی بہن بھی وہی کر رہی ہے جو بلوچستان کی مائیں بہنیں سالوں سے کرتی آ رہی ہیں۔بھائی کی فوٹو کا پینا فلیکس بنا کر سڑکوں پر آ گئی ہے اور پوچھ رہی ہے کہ میرا بھائی کہاں ہے۔ اگر جرم کیا ہے تو پرچہ کاٹو، عدالت میں لاؤ ایک دفعہ ملوا دو، بات کروا دو۔

ہماری ریاست کا اتنا دبدبہ ہے کہ جب کسی کو غائب کرتی ہے تو ہم سب یہ کہہ کر منہ دوسری طرف کر لیتے ہیں کہ غائب ہونے والے نے کچھ تو کیا ہی ہو گا۔ میں نے اپنے طور پر لالہ فہیم کے ممکنہ جرائم کی تفتیش کرنے کی کوشش کی۔کراچی میں کتابوں کا ایک پرانا بازار ہے جسے اردو بازار کہتے ہیں وہاں پر سینکڑوں دکانیں اور پبلشر ہیں۔ وہاں پر بلوچی کتابیں چھاپنے والا صرف ایک پبلشر ہے جس کا نام ہے ادارہ علم و ادب۔ وہ وہاں پر بلوچ ادب اور تاریخ پر کتابیں چھاپتے ہیں لیکن اردو میں بھی چھاپتے ہیں۔

لالہ فہیم وہاں پر چار سال سے مینیجر تھا۔ دکان چلانے کے علاوہ ایک ویب سائٹ صدائے بلوچستان چلاتا تھا۔ درجنوں بلوچی ویب سائٹس پاکستان میں بین ہیں۔ صدائے بلوچستان کو ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اس کے ساتھ وہ ایک بلوچی ادبی پرچہ گیڑان کے نام سے چلاتا تھا، ریاست نے کبھی کوئی شکایت نہیں کی۔ جب 26 اگست کو ڈوبے ہوئے پاکستان کے کارندے ادارہ علم و ادب میں آئے تو انہوں نے لالہ فہیم سے کہا کہ اس نے کوئی کتاب جرمنی بھیجی ہے۔

باقی صوبوں کی طرح بلوچستان کے بھی بہت سے باشندے روٹی روزی کی وجہ سے اور کچھ ریاستی جبر کی وجہ سے ملک سے باہر رہتے ہیں۔ وہ بھی ان تارکین وطن میں شامل ہیں جو ڈالر کما کر ہمیں بھیجتے ہیں۔ ادارہ علم و ادب کوریا، ناروے، خاص طور پر عمان، جہاں سے بھی کتاب کا آرڈر آ جائے وہاں کتاب بھیج دیتا ہے۔ لالہ فہیم نے بھی پتہ نہیں بلوچی ادب کی کتنی خدمت کی ہے لیکن پاکستان کے زرِ مبادلہ میں دوچار ڈالر کا اضافہ تو یہ کتابیں بیچ کر کیا ہی ہو گا۔ لیکن 26 اگست کو لالہ فہیم کو غائب کر دیا گیا۔ کیمرہ کی ریکارڈنگ موجود ہے، گواہ موجود ہیں لیکن ہماری ڈوبتی مگر مضبوط ریاست لالہ فہیم کو یہ حق دینے کے لیے تیار نہیں ہے کہ اس کے گھر والوں کو یہی بتا دے کہ اس کا جرم کیا ہے، اسے رکھا کس تہہ خانے میں ہے۔

ادارہ علم و ادب اب تک کوئی ایک سو کتابیں چھاپ چکا ہے۔ اگر ان کی کتابوں پر نظر ڈالیں تو ان میں انور سین رائے کا ناول چیخ، حال ہی میں وفات پانے والے کراچی کے صحافی اختر بلوچ اور فرانسیسی مفکر فوکوچ کی کتابیں شامل ہیں۔کیا واقعی ہماری سب سہہ جانے والے مضبوط ریاست کو ان کتابوں سے خطرہ ہے۔

بچپن میں پہلی دفعہ سکول میں انعام میں مولانا مودودی کی ’تفہیم القران‘  ملی تھی۔ پھر اس کتاب کو عسکری اور سول اداروں میں اسی طرح تقسیم کیا گیا کہ ہر افسر اپنے آپ کو چھوٹا موٹا مودودی سمجھنے لگا۔ اگر کتابیں اس ریاست کا کچھ بگاڑ سکتیں تو آج پاکستان میں جماعت اسلامی کی خلافت ہوتی لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا۔ تو یہ خبطی ریاست کب سمجھے گی کہ اگر حضرت مودودی اس قوم کا کچھ نہیں بگاڑ سکے تو انور سین رائے، اختر بلوچ اور فوکوچ کی کتابیں بیچنے والے کیا کر لیں گے۔

اس قدرتی آفت کے زمانے میں لالہ فہیم کی بہن گھر سے خیمہ اور راشن مانگنے نہیں نکلی، وہ نکلی ہے اس ریاست سے سوال پوچھنے جو ایک مسلسل غیر قدرتی، غیر قانونی، غیر اخلاقی اور غیر انسانی آفت بن کر ہمارے گھروں کو اپنے کارندے بھیج کر اجاڑنے پہنچ جاتی ہے۔

(بشکریہ: بی بی سی اردو)

loading...