مائنس ون کی بجائے پلس تھری کرنا بہتر ہے

ملتان میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان نے الزام لگایا کہ  اس وقت ملکی سیاست میں  مائنس ون فارمولے پر عمل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اسی بات کو کل رات گوجرانوالہ کے جلسہ میں دہراتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ  مخالفین  انہیں عدالتوں سے نااہل قرار دے کر سیاست سے باہر کرنا چاہتے ہیں۔

  کاش عمران خان کو مائنس ون کی سیاسی ہلاکت خیزی کا اس وقت بھی احساس ہوگیا ہوتا جب وہ دوسرے سیاسی لیڈروں کو غیر سیاسی ہتھکنڈوں سے میدان سے باہر کرنے کے لئے  اسی اسٹبلشمنٹ کے آلہ کار بنے ہوئے تھے  جس سے وہ اب ملک کی آئینی حکومت کا تختہ الٹ کر اپنی واپسی کا راستہ ہموار کرنے کی اپیلیں کررہے ہیں۔ بنیادی طور پر عمران خان نے گوجرانوالہ  میں مستقبل کے لائحہ عمل کا اعلان کرنا تھا ۔ اس سے یہ مراد لی جارہی تھی کہ وہ اسلام آباد کی طرف  لانگ مارچ  کا اعلان کرنے والے ہیں کیوں کہ گزشتہ ایک ہفتہ کے دوران  وہ متعدد بار یہ دعویٰ کرچکے  تھے  کہ فوری انتخابات کا اعلان کروادیا جائے ورنہ وہ اسلام آباد پر دھاوا بول کر اس حکومت کو بھاگنے پر مجبور ر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔  البتہ  گوجرانوالہ میں بھی وہ لانگ مارچ کی کال نہیں دے سکے۔

اس سے پہلے مئی کے آخر میں عمران خان اسلام آباد ’فتح‘ کرنے کی  ناکام کوشش کرچکے ہیں۔  عدالتوں کی حوصلہ افزائی کے باوجود وہ اس مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکے تھے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ وہ بوجوہ اتنے لوگ جمع نہیں کرسکے جن کے سہارے وہ اسلام آباد میں داخل ہوجاتے۔ گو کہ اس کی دوسری اہم وجہ وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کی حکمت عملی کو بھی کہا جاتا ہے جنہوں نے  احتجاجیوں کے  اسلام آباد میں داخل ہو کر ریڈ زون میں دھرنا  دینے کے منصوبے کو کامیاب نہیں ہونے دیا۔    مبصرین کا خیال ہے کہ اس وقت پنجاب میں حمزہ شہباز کی حکومت تھی جس کی وجہ سے عمران خان کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کے لئے مناسب حمایت حاصل نہیں ہوسکی۔ اب پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت ہے اور وزیر اعلیٰ پرویز الہیٰ زبانی  دعوؤں کی حد تک  عمران خان کی حمایت میں کسی بھی حد تک جانے کے لئے تیار ہیں۔ خیال ہے کہ اگر عمران خان  اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کرتے ہیں تو خیبر پختون خوا اور پنجاب حکومتوں کے تعاون سے وہ وفاقی حکومت کے لئے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔

یہ سوال اپنی جگہ بحث طلب ہے کہ عوامی جتھوں کے ذریعے کسی حکومت کو غیر مؤثر کرکے  اپنی مرضی کا نظام تھوپنا کس حد تک ملکی آئین و قانون کے مطابق ہوگا اور اسے کیسے جمہوری طریقہ کہا جائے گا۔ تاہم عمران خان کی تقریروں سے اب یہ واضح ہوچکا ہے کہ  ان کے نزدیک جمہوریت صرف اس نظام کا نام ہے جس میں انہیں حکومت کرنے کا حق دیا جائے۔ جو بھی نظام ان کے راستے کی دیوار بنے وہ  ان کی لغت میں نہ صرف ’غیر جمہوری‘ ہے بلکہ غیر اخلاقی اور غیر شرعی بھی ہے۔ اسی لئے وہ فوج سے  حق پرستی کے نام پر تحریک انصاف کا ساتھ دینے کی اپیل کرتے رہتے ہیں۔  عمران خان کے نزدیک اس وقت ملک میں دو ہی طرح کی سیاسی قوتیں ہیں۔ ایک قوت کی  قیادت وہ خود کررہے ہیں جو  ’حقیقی آزادی اور انصاف‘  کے لئے کوشاں ہے۔ اسے وہ حق کی قوت کہتے ہیں جبکہ ان کے مد مقابل  اتحادی جماعتیں ہیں جنہوں نے تحریک عدم اعتماد کے بعد شہباز شریف کی سربراہی میں وفاق میں حکومت قائم کی ہوئی ہے۔ اسے وہ’ چوروں لٹیروں‘ کا جتھا قرار دے کر گمراہ لوگ کہتے ہیں۔  حق و باطل کی اس وضاحت کے بعد عمران خان کی تعبیر کے مطابق  ملک کے کسی شخص  یا ادارے کے پاس تحریک انصاف کی حمایت کے سوا کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے۔

گوجرانوالہ میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دو انتہائی اشتعال انگیز باتیں کی ہیں۔   ایک تو انہوں نے  فوج کو  براہ راست آئین شکنی پر اکساتے ہوئے حکومت  کا تختہ الٹنے  پر اکسایا ہے۔  ان کا کہنا تھا  کہ ’میں ملک کے حقیقی طاقت ور لوگوں سے پوچھتا ہوں۔ میں اس ملک کی اسٹبلشمنٹ سے سوال کرتا ہوں کہ یہ حکومت جس طرح ملکی معیشت کو تباہ کررہی ہے، آپ لوگ اگرچہ خود کو نیوٹرل کہتے ہو لیکن قوم اس تباہی کا ذمہ دار آپ کو ہی قرار دے گی۔ کیوں کہ آپ لوگ اس تباہی کے سفر کو روک سکتے تھے لیکن آپ نے کچھ نہیں کیا۔ اگر معیشت تباہ ہوتی ہے تو قومی سلامتی پر اثرات مرتب ہوں گے۔ کیوں کہ ایسی صورت میں ہم غیر ملکی طاقتوں کے سامنے بے اختیار ہوجائیں گے۔ اب بھی وقت ہے کہ  اس ملک کو مزید تباہی سے بچایا جائے‘۔

عمران خان کی دوسری  اشتعال انگیزی  یہ دعویٰ  ہے کہ ’اگر آزادانہ اورشفاف انتخابات نہ کروائے گئے تو ان کے حامی پر امن احتجاج کے لئے گلیوں میں نکل آئیں گے اور ’طاقت کے زور پر‘ اپنی بات منوائیں گے۔  انتخابات کا مطالبہ نہ مانا گیا تو ہم  اپنی طاقت سے انتخابات منعقد کروالیں گے۔ کیوں کہ ہمارے مخالفین خوفزہ ہوکر انتخابات سے بھاگ رہے ہیں‘۔  اس کے ساتھ ہی انہوں نے  تحریک انصاف کے نوجوانوں کو  مخالطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ وہ جس حقیقی آزادی کی جد و جہد کررہے ہیں ، اس میں انہیں نوجوانوں کی ضرورت ہوگی۔ وہ تیار رہیں‘۔

یوں تو سپریم کورٹ سے ہائی کورٹس تک متعدد جج عمران خان اور تحریک انصاف کو ریلیف فراہم کرنے اور  عمران خان کی باتوں کو درگزر کرنے پر آمادہ دکھائی دیتے ہیں لیکن  کیا ملک کی کوئی عدالت جو خود کو آئین کا پاسدار اور محافظ کہتی ہو،  فوج کو آئین شکنی پر اکسانے والی تقریروں کو  محض سیاسی بیان قرار دیتے ہوئے خاموشی اختیار کرسکتی ہے۔ یہ  باتیں  عمران خان کی جمہوریت پسندی ہی نہیں بلکہ  قانون  کا احترام کرنے کے دعوؤں کی بھی نفی کرتی ہیں۔  قانون  کی بالادستی چاہنے والا کوئی لیڈر کیسے یہ دعویٰ کرسکتا ہے کہ اگر اس کا   سیاسی مطالبہ نہ مانا گیا تو وہ  طاقت کے زور پر خود ہی انتخابات منعقد کرواکے نہ صرف موجودہ حکومت کو فارغ کردے گا بلکہ اپنی سربراہی میں ایک نئی حکومت قائم کرلے گا۔  وہ ملک کے قانونی طور سے مقرر کئے گئے چیف الیکشن کمشنر کو علی الاعلان ’بے ایمان اور جانبدار‘ کہتے ہیں لیکن باغیانہ انداز  میں حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار کا راستہ ہموار کرنے کو جائز قرار دیتے ہیں۔ آئین سے بغاوت اورقانون شکنی کا اس سے واضح اور دوٹوک اعلان اور کیا ہوسکتا ہے؟

عمران خان  کا یہی اشتعال انگیز اور ناجائز طرز تکلم درحقیقت ان کے خلاف قانونی شکنجہ سخت کرنے کا سبب بن رہا ہے۔  جو معاملات سیاسی مفاہمت سے طے کئے جاسکتے تھے ، انہیں دھمکیوں سے حل کرنے کا دعویٰ کیا جارہا ہے۔ ملک میں انتخابات کے لئے  ماحول  ہموار کرنے کی بجائے جب عمران خان مسلسل امن و امان  تباہ کرنے کی دھمکیاں دیں گے اور اداروں کو قانون شکنی پر اکسائیں گے تو اس سے کیوں کر انتخابات کا راستہ ہموار ہوسکتا ہے۔ عمران خان کا یہ طرز عمل اب پوری قوم کے پیش نظر ہے کہ  انہوں نے سیلاب کی تباہ کاری اور کروڑوں لوگوں  کے بے سر و سامانی کے باوجود   سیاسی  جلسے منعقد کرنے کا طریقہ ختم نہیں کیا بلکہ ان میں شدت پیدا کی ہے ۔ اس سے ان  کی عوام دوستی نہیں ہوس اقتدار کا اظہار ہوتا ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ  جلسوں   کے شرکا کی تعداد کے بارے میں  بلند بانگ دعووں  اور  محنت سے تیار کی گئی   فوٹیج   سے یہ مان لیا جائے گا کہ ملک  کے ساڑھے گیارہ کروڑ ووٹر ان کے سوا کسی کو اپنا لیڈر  نہیں مانتے۔ حالانکہ انہیں خود بھی ادراک ہوگا کہ یہ درست بات نہیں ہے ۔  انتخابات  میں تحریک انصاف کے لئے اکثریت حاصل کرنا  اتنا آسان نہیں ہوگا جیسے وہ جلسوں میں لوگوں کو جمع کرلیتے ہیں یا   ان کی تعداد کے بارے میں تاثر پیدا کردیتے ہیں۔ سیاسی حریفوں سے مقابلہ کرکے نشستیں نکالنا ، لوہے کے چنے چبانے کے مترادف  ہوتا ہے۔

اس کے باوجود  عمران خان کی اس بات سے اختلاف نہیں کیا جاسکتا کہ ملکی سیاست میں مائنس ون کا کوئی فارمولا نہ پہلے کارگر ہؤا ہے اور نہ ہی مستقبل میں  اس سے کوئی مثبت نتائج حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ لیکن عمران خان اگر خود ہی قانون و آئین کو ہاتھ میں لینے کا اعلان کریں گے اور  حکومت ہی نہیں اداروں کو بھی للکارتے رہیں گے تو انہیں یہ توقع بھی نہیں رکھنی چاہئے کہ کوئی رد عمل نہیں آئے گا۔ عمران خان اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ  مقبولیت کی وجہ سے انہیں گرفتار نہیں کیا جاسکتا۔  کاش یہ اصول پاکستانی سیاست میں لاگو ہوتا اور مقبول لیڈروں کو احترام دینے کی کوئی روایت موجود ہوتی۔ ہمیں  اس کے برعکس مقبول لیڈروں کو پھانسی، نااہلی اور جلا وطنی کے ذریعے راستے سے ہٹانے کی روایت ضرور ملتی ہے۔

عمران خان کو یہ بھی غلط فہمی  ہے کہ وہ جیل کی کوٹھری میں بھی ویسے ہی ’خطرناک‘ ہوں گے جیسے وہ  اپنے ہی الفاظ میں اس وقت پورے نظام کے لئے بنے ہوئے ہیں۔ انہیں جاننا چاہئے  کہ   ان کی غیر موجودگی میں تحریک انصاف میں جمع ’بھان متی کا کنبہ‘  بکھر کر رہ جائے گا ۔ انہوں نے اسٹبلشمنٹ کی مدد سے جو اینٹ روڑے  پارٹی میں جمع کئے ہیں ،  براوقت آنے پر وہ  کوئی نیا ٹھکانہ تلاش کرنے کی جد و جہد میں ہوں گے۔  عمران خان اور ملکی سیاست کے لئے بہتر یہی  ہوگا کہ تحریک انصاف سیاسی طور سے بدستور مضبوط رہے لیکن اس مقصد کے لئے عمران  خان کو دھمکیوں کی بجائے سیاسی مفاہمت  کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ مخالفین کو تہس نہس کرنے کے لئے دھاوا بولنے سے پہلے اپنی پارٹی کی تنظیم سازی  کرنی چاہئے۔  نعروں کی بنیاد پر  حاصل سطحی مقبولیت پر تکیہ کرنے کی بجائے  کارکنوں کی بنیاد پر فعال سیاسی  تنظیم سامنے لانی چاہئے تاکہ  ان کی  جد و جہد صرف ایک شخص کی مقبولیت اور نعروں کی بنیاد پر استوار نہ ہو۔

عمران خان ملکی معیشت کو تباہی سے بچانے کے لئے فوج کو مداخلت کی دعوت دے رہے ہیں لیکن ملک کو  اس وقت    جن معاشی مشکلات کا سامنا ہے وہ تحریک انصاف کی ساڑھے تین سالہ بدانتظامی اور  ملک پر ایک غیر نمائیندہ پارٹی کو مسلط کرنے کا نتیجہ  ہے۔ دنیا  کا کوئی بھی معیشت دان اس دعوے کو تسلیم نہیں کرے گا کہ شہباز حکومت کے چار پانچ ماہ میں ملک کو اچانک معاشی زوال کا سامنا کرنا پڑا ہے۔    عمران خان  نعروں کے زور پر جلسوں میں معاملات طے کرنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ انہیں ان پر ٹھنڈے دل و دماغ سے سنجیدہ غور و خوض کی ضرورت ہے۔   یہی مقصد حاصل کرنے کے لئے  آئین نے پارلیمنٹ کا فورم تجویز کیاہے لیکن عمران خان  اسے مضبوط کرنے کی بجائے تباہ کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔

انہیں یہ بھی جان لینا چاہئے کہ وہ جس طرح فوج کو  اقتدار پر قبضہ کے لئے سیاسی  ‘حمایت‘ فراہم کرنے کی  پیشکش  کررہے ہیں،  خدا نخواستہ اس پر عمل کرتے ہوئے اگر ملک پر ایک بار پھر آئین شکن حکومت  مسلط کردی گئی تو اس سے عمران خان کو کچھ حاصل  نہیں ہوگا۔  کوئی  بھی جرنیل اپنے بجائے عمران خان  کو ’ مسیحا‘ سمجھ کر  اپنی  طاقت ان کے ہاتھ میں نہیں تھمائے گا۔   

اسی طرح کسی سیاسی لیڈر کو میدان سے آؤٹ کرنا درست طریقہ نہیں ہے۔ عمران کو ملکی سیاست سے مائنس کرنا غلط ہوگا۔ لیکن انہیں خود بھی دوسروں کو مائنس کروانے کے خواب دیکھنا بند کردینا چاہئے۔ عمران خان اگر واقعی ملک میں غیر جانبدارانہ اور شفاف انتخابات چاہتے ہیں  تو وہ   نفرت انگیزی کی مہم ختم کریں، اپنے لئے قانونی مشکلات پیدا کرنے سے گریز کریں اور سب کو مساوی موقع دینے کے  اصول کو تسلیم کریں۔  ملکی سیاست  میں مائنس ون فارمولے نے نہ پہلے کام کیا ہے اور نہ ہی  یہ مستقبل میں مفید ثابت ہوگا۔ اس لئے مائنس ون کی بجائے پلس  تھری  فارمولے پر عمل کرکے دیکھا جائے۔ الطاف حسین کے علاوہ نواز شریف کو ملکی سیاست سے زور ذبردستی  کے ہتھکنڈوں سے  نکالا گیا  تھا۔  انہیں سیاسی کردار ادا کرنے کا ویسا ہی موقع ملنا چاہئے  جو اس وقت عمران خان کو حاصل ہے۔ 

عمران خان نے اگر مائنس ون کی  سیاسی تباہی کو محسوس کرلیا ہے تو  انہیں   یہی مطالبہ کرنا چاہئے تاکہ یقین کیا جاسکے کہ  وہ جب عوامی خواہشات کی بات کرتے ہیں تو وہ حقیقی  سیاسی مقابلہ کرنا چاہتے ہیں ، میچ فکس کرنے کا مطالبہ نہیں کرتے۔

loading...