سیاسی نقاب میں فوجی تسلط ختم کیا جائے

تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان نے ایک ٹی وی انٹرویو میں  موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت میں توسیع  پر آمادگی کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ نیا آرمی چیف صرف انتخابات میں کامیاب ہوکر حکومت بنانے والی پارٹی ہی کو  مقرر کرنا چاہئے۔ اس دوران وزیر دفاع خواجہ آصف نے الزام لگایا ہے کہ عمران خان اب دباؤ کے ہتھکنڈوں میں ناکام ہوکر  اسٹبلشمنٹ سے کسی  بھی طرح بات چیت کے ذریعے اقتدار حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

ان دونوں انٹرویوز میں واضح ہے کہ  حکومت یا اپوزیشن سیاست میں  فوج  کے عمل دخل کو تو بڑا مسئلہ نہیں سمجھتی لیکن ایک دوسرے کے ساتھ کسی قسم کی مصالحت اور قومی مسائل کے بارے میں کوئی قابل عمل اور  متحدہ حکمت عملی بنانے پر راضی نہیں ہے۔ عمران خان درحقیقت جمہوریت کی بات  باالواسطہ طور سے کرتے ہیں ۔ ان کا واحد فوکس اقتدار حاصل کرنا ہے۔  اسی لئے انہوں نے ’نیوٹرل ‘ کی اصطلاح اختیار کی اور فوج سے  اپیل کرتے رہے ہیں کہ غیر جانبداری چھوڑ کر وہ اس پارٹی کا ساتھ دے جو ملک کا بھلا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور جو کرپشن اور برائی کے خلاف ہے۔  ظاہر ہے  ان کی نگاہ میں تحریک انصاف کے علاوہ کوئی ان خوبیوں کا حامل نہیں ہے۔

اقتدار سے علیحدگی کے بعد  کامیاب عوامی رابطہ مہم کے نتیجہ میں  عمران خان  کے اعتماد میں اضافہ ہؤا ہے۔  اس سال اپریل میں اپوزیشن ایک ایسے وقت میں عمران خان کے خلاف عدم اعتماد لے کر آئی تھی جب  تحریک انصاف کی  حکومت کے پاس  صرف  ڈیڑھ سال  ہی کی مدت تھی اور وہ اپنی ناقص حکمرانی کی وجہ سے  عوام کی حمایت سے محروم ہورہی تھی۔ قیاس کیا جاسکتا ہے کہ اپوزیشن اگر عدم اعتماد  لانے کی بجائے عمران خان پر نئے انتخابات کا دباؤ بڑھاتی رہتی تو انہیں شاید وقت سے پہلے انتخابات کروانے کا مطالبہ  ماننا پڑتا۔ کیوں کہ  آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کرنے کی کوشش میں  جو مشکل فیصلے موجودہ حکومت نے کئے ہیں اور جن کا مالی بوجھ   مہنگائی  اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کی صورت میں عوام کو برداشت کرنا پڑا ہے، ان کی ذمہ داری بھی عمران خان کی حکومت پر عائد ہوتی۔ لیکن بعض نامعلوم وجوہات کی بنا  پر تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ کیا گیا۔

عمران خان نے سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کے ساتھ مل کر ایک غیر آئینی  رولنگ کے تحت اپوزیشن  کی تحریک عدم اعتماد مسترد کروادی تھی۔ اس طرح  عمران خان نے  پارلیمانی طور سے  سرخرو رہنے اور اقتدار سے چمٹے رہنے کا اہتمام کرلیا تھا۔  اس موقع پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے باقی ججوں کی مشاورت سے پارلیمنٹ  میں ہونے والے واقعات پر سو موٹو لینے کا فیصلہ کیا اور چند دن سماعت کے بعد قاسم سوری کی رولنگ کو غیر آئینی اور اس کے نتیجہ میں قومی اسمبلی توڑنے اور نیا انتخاب کروانے کے  صدارتی حکم کو بھی غیر آئینی قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔  اسی  عدالتی حکم کے نتیجہ میں ہی  عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی جاسکی اور منظور بھی  ہوگئی اور تحریک انصاف کے ارکان ایوان سے استعفے دے کر اس کی کارروائی سے علیحدہ ہوگئے۔ اس وقت سے قومی اسمبلی درحقیقت کسی اپوزیشن کے بغیر کام کررہی ہے۔ اپوزیشن لیڈر عمران خان جلسہ گاہوں میں نئے انتخابات کروانے کا مطالبہ کررہے ہیں تاکہ وہ دوبارہ اقتدار  حاصل کر سکیں۔

بعد از وقت ان حالات کا جائزہ لیا جائے تو دیکھنا پڑے گا کہ تحریک عدم اعتماد لانے کے فیصلے کو تو اپوزیشن جماعتوں کی سیاسی غلطی یا بدحواسی کہا جاسکتا ہے لیکن   اسے کامیاب کروانے میں سپریم کورٹ کے واضح کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔  ملکی سیاسی و آئینی مباحث میں ابھی تک اس پہلو سے غور کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی کہ  سپریم کورٹ کو کس حد تک  پارلیمنٹ میں ہونے والی کارروائی میں سو موٹو  اختیار کے ذریعے مداخلت کرنے اور کوئی ایسا حکم جاری کرنے کا  حق دیا جاسکتا ہے جس سے ملک  میں سیاسی، معاشی اور سماجی صورت حال متاثر ہوتی ہو۔ جمہوریت  پر دلیل کرتے ہوئے آئین کی موجودگی میں اعلیٰ ترین عدالت کے تمام تر احترام  کے باوجود یہ ایک جائز اور مناسب سوال ہے جس پر وقت کے ساتھ غور بھی ہونا چاہئے اور  ایسے مناسب اقدامات  بھی کئے جانے چاہئیں کہ عوام کے منتخب ایوان میں ہونے والے فیصلوں پر چند ججوں پر مشتمل   عدالت کے اختیارات کو محدود کیا جاسکے۔  یہ فیصلے کسی وسیع تر سیاسی اتفاق رائے کے ساتھ آئینی ترمیم کے ذریعے ہی ممکن ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں سیاسی ہم آہنگی اور اختلافات کو ذاتی سطح پر لے جانے کی بجائے سیاسی ایجنڈے کی بنیاد پر مباحث اور جد و جہد تک محدود کرنے کی ضرورت  پر زور د یاجاتا ہے۔

اس  بحث کا  یہ  پہلو  بھی اہم اور غور طلب ہے کہ کسی بھی ادارے کو خواہ وہ سپریم کورٹ ہو یا فوج، اسی وقت ملکی سیاسی معاملات میں مداخلت کا موقع ملتا ہے جب پارلیمنٹ میں عوام کی نمائیندگی کرنے والی جماعتیں  عوامی مینڈیٹ  کا احترام کرتے ہوئے  کردار ادا کرنے کی بجائے، ذاتی اقتدار کے لئے رسہ کشی شروع کردیتی ہیں۔ آئینی جمہوریت میں  فرد واحد  اہم نہیں ہوسکتا۔ کسی بھی سیاسی  پارٹی کا  منشور اور پروگرام کلیدی حیثیت رکھتا ہے اور  وہ پارٹی اسی کی تکمیل کے لئے  ایوان میں اکثریت حاصل کرکے حکومت بنانا چاہتی ہے یا پارلیمانی نظام میں حکمران جماعتوں کے ساتھ بعض نکات پر مفاہمت پیدا کرکے اپنے سیاسی ایجنڈے کی تکمیل کے لئے کام کرتی ہے۔  پاکستانی  پارلیمانی سیاست میں یہ صورت حال دیکھنے میں نہیں آتی۔ اسی لئے اپوزیشن پارٹیاں حکومتی اتحاد میں رخنہ ڈال کر ایک  وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد لاتی ہیں  یا حکومتی پارٹی غیر آئینی و غیر پارلیمانی ہتھکنڈے اختیار کرکے اپوزیشن کے جائز سیاسی  حق کو مسترد کرنے کی کوشش کرتی ہے۔  عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کے معاملہ میں  یہ دونوں عناصر ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں۔

اس پر مستزاد  یہ کہ عمران خان نے اپنے تمام ارکان کو  قومی اسمبلی سے استعفے  دینے پر مجبور کرکے  احتجاج کے ذریعے اقتدار واپس لینے کو ترجیح دی۔ اور ایک جمہوری لیڈر کی طرح پارلیمنٹ میں اپوزیشن کا کردار ادا کرنے  کو اہم نہیں سمجھا۔ اب  دنیا ٹیلی ویژن پر دیے گئے انٹرویو میں وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ 84 سیٹوں والی مسلم لیگ (ن) کو کیسے آرمی چیف مقرر کرنے کا اختیار حاصل ہوسکتا ہے۔ وہ یہ بھول رہے ہیں کہ جس طرح  تحریک انصاف نے دیگر پارٹیوں کے ساتھ مل  کر اکثریت حاصل کی تھی، اسی طرح اب شہباز شریف نے وزارت عظمی تک رسائی حاصل کی ہے۔ عمران خان اگر جمہوریت میں جارحیت  سے کام لینے  کی بجائے اس وقت قومی اسمبلی میں  اپوزیشن لیڈر کے طور کا کام کررہے ہوتے تو وزیر اعظم  کو کسی بھی اہم تقرری کے لئے ان کی رائے کا احترام کرنا پڑتا۔ اگرچہ آئینی طور سے آرمی چیف  کی تقرری کے لئے وزیر اعظم اپوزیشن لیڈر سے مشاورت کا پابند نہیں ہے لیکن کسی بھی وزیر اعظم  کے لئے ایوان میں ڈیڑھ سو سے زائد ارکان کی نمائندگی کرنے والی پارٹی کی رائے کو نظر انداز کرنا ممکن نہ ہوتا۔ عمران خان نے خود یہ موقع ضائع کیا ہے۔

اب حکومت اور اپوزیشن دونوں ایک دوسرے پر اسٹبلشمنٹ سے ساز باز کا  الزام لگارہے ہیں۔  درحقیقت دونوں ہی اسٹبلشمنٹ کی نظر کرم کے محتاج ہیں۔ عمران خان کو  یقین ہے کہ انہیں عوام کی حمایت حاصل ہے اور وہ بڑی اکثریت سے انتخاب جیت سکتے ہیں۔ موجودہ سیاسی منظر نامہ میں یہ اندازہ شاید بہت زیادہ غلط بھی  نہیں ہے لیکن وہ  اب بھی حقیقی جمہوری لیڈر کا رویہ اختیار کرنے کی بجائے  کسی بھی طرح فوج   کی مدد چاہتے ہیں تاکہ وہ جلد از جلد اقتدار تک پہنچ سکیں۔  اسی لئے انہیں نئے آرمی چیف کی تقرری کے بارے میں شدید پریشانی لاحق ہے۔  ان کا خیال ہے کہ   تحریک انصاف سے  شیفتگی  نہ رکھنے والا آرمی چیف آگیا تو ان کے لیے انتخاب جیتنا ممکن نہیں رہے گا۔   حکومت بھی اسی ’حقیقت‘ کو مان کر  حکمت عملی اختیار کررہی ہے۔ انتخابات سے تھوڑی دیر پہلے اپنے تئیں کوئی ’ہمدرد‘ آرمی چیف مقرر کرکے حکمران اتحادی جماعتیں  اور خاص طور سے مسلم لیگ (ن) کسی بھی طرح یہ بازی جیتنا چاہتی ہے۔ اسی لئے  وزیر دفاع خواجہ آصف  نے   نئے آرمی چیف کے بارے میں اپنی پوزیشن واضح  نہیں  کی۔  اور  جنرل قمر جاوید باجوہ کے  اس واضح اعلان کے باوجود کہ وہ اپنی مدت پوری ہونے  پر ریٹائر ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں،  خواجہ آصف انہیں مزید توسیع دینے کا آپشن  برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ عمران خان نے جنرل باجوہ کی مدت ملازمت میں  توسیع  پر آمادگی کے ذریعے درحقیقت حکومت کے اسی منصوبہ کو ناکام بنانے کی کوشش کی ہے۔

یہ سیاسی ہتھکنڈے  ملکی سیاست میں  اسٹبلشمنٹ بطور خاص فوج کے اثر ورسوخ کو مستحکم کرتے  رہیں گے۔ سیاسی لیڈر وں کو سمجھنا چاہئے کہ  فوج کو سیاسی میچ کا ریفری بنانے  سے ملک میں نہ جمہوریت مستحکم ہوگی اور نہ ہی آئینی تقاضے پورے ہوں گے۔  عمران خان کہتے ہیں کہ  وہ  انتخابات کے اعلان کے بعد حکومت سے ہر موضوع پر بات چیت کے  لئے تیار ہیں۔ حالانکہ انہیں انتخابات کے  اصول  طے کرنے  اور اسٹبلشمنٹ کو حقیقی معنوں میں ’نیوٹرل ‘ کرنے کے لئے حکومت کو انگیج کرنے کی ضرورت ہے۔ موجودہ طاقت ور سیاسی پوزیشن میں وہ بہ آسانی یہ مقصد حاصل کرسکتے ہیں۔  لیکن   بدقسمتی سے وہ  بدستور اسی اسٹبلشمنٹ کی  سیاسی حیثیت  مضبوط کرنا چاہتے ہیں جس کے بارے میں انہیں یقین ہے کہ وہی  ان کے خلاف عدم اعتماد کا حقیقی سبب بنی تھی۔

اسی طرح وزیر دفاع کا یہ بیان  بھی طفل تسلی اور خود کو دھوکہ دینے کے سوا کوئی حیثیت نہیں رکھتا کہ ’75 سال بعد اسٹبلشمنٹ نے قانونی اور آئینی کردار اختیار کیا ہے۔ سیاست دانوں کی ذمہ داری ہے کہ اس طریقہ کی حفاظت کی جائے‘۔ اسٹبلشمنٹ کی سرپرستی سے پارلیمانی کامیابی حاصل کرنے کے بعد  فوج کی غیر جانبداری کے پرچار سے ملک میں آئینی انتظام کے تحت عوامی  کی چنی ہوئی حکومت قائم کرنے کا مقصد حاصل نہیں ہوسکتا۔  جب تک  تمام سیاسی پارٹیاں  تہ دل سے اس اصول کو مان کر ایک دوسرے کی طرف دست تعاون نہیں بڑھائیں گی، سیاسی چہرے ملک پر فوجی حکمرانی  کی علامت سے زیادہ کوئی حیثیت اختیار نہیں کرسکیں گے۔ 

loading...