دھول چٹانے کا فلسفہ

میری اپنے پڑوسی سے نہیں بنتی ۔ اس صورتِ حال کو یوں بھی دیکھ سکتے ہیں کہ میرے پڑوسی کی مجھ سے نہیں بنتی۔ میرے کہنے کا مطلب ہے کہ ہم دونوں کی آپس میں نہیں بنتی ۔

میرا پڑوسی اور میں ایک دوسرے کو برداشت نہیں کرسکتے۔ ایک دوسرے کو ایک آنکھ نہیں بھاتے۔ جی چاہتا ہے ایک دوسرے کو کچا چبا ڈالیں۔ فقیر کی ایک بات آپ یاد رکھیں۔ نفرت یک طرفہ نہیں ہوتی۔ آپ جب کسی سے نفرت کرتے ہیں تب یاد رکھیں کہ وہ شخص بھی آپ سے نفرت کرتا ہے۔ اور دوسری بات بھی یاد رکھیں کہ بغیر سبب کے، بغیر کسی وجہ کے آپ کسی سے نفرت نہیں کرتے ۔ نفرت کرنے کےلئے ٹھوس اسباب کا ہونا لازمی ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوسکتا کہ بغیر کسی وجہ کے دولوگ ایک دوسرے سے نفرت کرنے لگیں۔

اس سلسلے میں، میں نے کافی تحقیق اور چھان بین کی ہے۔ یوں سمجھ لیجئے کہ چھان بین میری فطرت میں شامل ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میں پیدائشی طور پر محقق ہوں۔ میرے ایک ہم نوالہ اور ہم پیالہ دوست محقق ہیں ان کی دس کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ کتاب میں ایک انتساب کے علاوہ ان کی اپنی کوئی تحریر نہیں ہوتی۔ وہ کسی ایک موضوع پر دوسرے لوگوں کے لکھے ہوئے مضامین جمع کرتے ہیں، اور ترتیب دے کر کتابی صورت میں شائع کردیتے ہیں۔ مضامین لکھنے والوں کے نام کتاب کی فہرست میں شامل ہوتے ہیں۔ کتاب کے ٹائٹل یعنی سر ورق پر جلی حروف میں اپنا نام لکھتے ہیں اور اپنے نام کے ساتھ ’ محقق اور مرتب‘ لکھتے ہیں۔ آج کل ان کا شمار ملک کے نامور محققوں میں ہوتا ہے۔

یہ تمہید میں نے اس لئے باندھی ہے تاکہ آپ کو باور کرواسکوں کہ میں حقیر فقیر محقق وغیرہ نہیں ہوں۔ بچپن میں مجھے اڑوس پڑوس کے گھروں میں تانک جھانک کی عادت تھی ۔ پکڑا جاتا تو مجھے بچہ سمجھ کر چھوڑ دیاجاتا۔ میرے والد کے ایک دوست نجومی تھے۔ ان کوجب پتہ چلا کہ مجھے تانک جھانک کی عادت ہے، تب انہوں نےمیرے والد کو نوید سناتے ہوئے کہا تھا : ’آپ کا ہونہار بڑا ہوکر نامور محقق بنے گا‘۔ نجومی کی پیش گوئی غلط ثابت ہوئی ۔ میں وہی تانک جھانک کرنے والا بچہ ہوں۔ اب میں بوڑھا ہوگیا ہوں۔ رویے بدل گئے ہیں۔

بدلتے ہوئے حالات میں لوگ تانک جھانک کو چھان بین کہتے ہیں۔ اور تانک جھانک کرنے والے کو تفتیشی افسر، محقق، کھوجی وغیرہ کہتے ہیں۔ میں چوں کہ سرکاری ملازم نہیں ہوں، اس لئے آپ مجھے تفتیشی افسر نہیں کہہ سکتے۔ میں عام رواجی کھوجی ہوں ۔ اڑوس پڑوس، خاص طور پر اپنے ہمسایہ یعنی پڑوسی پرکڑی نظر رکھتا ہوں۔ وہ کیا کھاتا ہے، کیا پیتا ہے، کس کس سے میل جول رکھتا ہے۔ کس کس سے اس کا لین دین ہے۔ میں چوں کہ اکثر اوقات مقروض رہتا ہوں، اس لئے کھوج لگاتا رہتا ہوں کہ میرا پڑوسی میری طرح کس کس کا مقروض ہے۔ اگر میرا بد بخت پڑوسی کسی کا مقروض نہیں ہے، تو کیوں نہیں ہے؟

ہماری، یعنی پڑوسی اور میری آپس میں دیرینہ دشمنی ہے۔ کسی کو ہمارے درمیان بیچ بچاؤکی ضرورت نہیں ہے ۔ ہم جانیں، ہمارے درمیان عداوت جانے۔ ثالثی کا کردار ادا کرنے والے اپنے کام سے کام رکھیں۔ میری ٹیم کے کھوجیوں نے پتہ چلالیا ہے کہ میرے دیرینہ حریف یعنی پڑوسی کو بھی مفت مشورے دینے والوں نے بہت سمجھا نے کی کوشش کی ہے۔ جھلاتے ہوئے میرا پڑوسی مشورے دینے والوں پر ٹوٹ پڑتا ہے، ’اپنے مشورے اپنے پاس رکھو… تم میرے نابکار پڑوسی کو نہیں جانتے۔ میں جب بھی بیج بوتا ہوں تب میرا دشمن پڑوسی چڑیوں کے جھنڈ کے جھنڈ میری طرف بھیج دیتا ہے۔ بدمعاش چڑیاں میرا کھیت چگ جاتی ہیں۔ اس بارے میں میرے کھوجی مجھے مطلع کرچکے ہیں۔ میں نے کسی سے اس طرح کی شکایت نہیں کی ہے۔ میرا پڑوسی بڑا کائیاں قسم کا آدمی ہے۔ قحط سالی کے دوران میرا بدبخت پڑوسی بادلوں کو میری خشک زمینوں پر برسنے نہیں دیتا۔ جھکڑ چلا کر بادلوں کو تتر بتر کردیتا ہے۔ پانی سے بھرے ہوئے بادل دور جاکر ویرانوں پر برستے ہیں۔ آپ کی طرح دل میں دنیا کا درد رکھنے والے مہربان، جھگڑوں سے بھرپور اس جہاں میں امن، آشتی، بھائی چارہ ، تحمل، برداشت اور رواداری کا بول بالا دیکھنے کے داعی آج تک سمجھ نہیں پائے کہ پڑوسی اور میرے درمیاں دشمنی اور عداوت کی آخر وجہ کیا ہے؟

سچ پوچھئے تو میں خود نہیں جانتا کہ سکھ چین برباد کرنے جیسی دشمنی کی وجہ کیا ہے؟ میں بس اتنا جانتا ہوں کہ یہ دشمنی مجھے اور میرے پڑوسی کو نسل درنسل ورثے میں ملی ہے۔ روایت کے مطابق میں اور میرا پڑوسی اپنی اپنی آنے والی نسلوں کو دیرینہ دشمنی کا بیڑا اٹھانے کے لئے بڑی ایمانداری سے تیار کررہے ہیں۔ پڑوسی کے بچے اور میرے بچے اکثر آپس میں گتھم گتھا ہوجاتے ہیں اور لڑ پڑتے ہیں۔ لڑائی جھگڑوں میں کبھی میرے اور کبھی پڑوسی کے بچے خوب پٹتے اور مار کھاتے ہیں۔ پٹ کر آنے کے بعد میں اپنے بچوں کی دل جوئی کرتے ہوئے کہتا ہوں: ’گرتے ہیں شہسوار ہی میدانِ جنگ میں، اپنی غلطیوں سے سیکھو۔اگلی مرتبہ دشمن کی اینٹ سے اینٹ بجا دینا‘۔

اور جب میرے بچے گھمنڈی پڑوسی کے بچوں کی خوب پٹائی کرنے کے بعد گھر آتے ہیں تب میں ان کو خوب انعام و اکرام دیتے ہوئے کہتا ہوں: ’میرے بچو، نابکار پڑوسی کے بچوں کوآج تم نے صرف پچھاڑا نہیں ہے۔ تم نے دراصل آج بدبخت پڑوسی کے بچوں کو دھول چٹا دی ہے‘۔

(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

loading...