پاکستان کا’ نیرو‘ کون ہے؟

تعصب سے پاک ہوکر ہمارے عہد  کے حالات و واقعات لکھنے والا مؤرخ  آنے  والی  نسلوں کی عبرت کے  لئے  ضرور لکھے گا کہ  جب آدھا ملک پانی میں ڈوبا  ہؤاتھا،  جب ایک تہائی آبادی  غذا سے محروم  تھی،  جب ہر پانچواں شخص بے گھر ہوچکا تھا۔ اس وقت پاکستان کی قیادت ملک میں عوام کی بحالی اور امداد کا کام این جی اوز اور غیر ملکی امداد کے آسرے چھوڑ کر،  یہ طے کرنے میں مصروف تھی کہ ان میں  سے بڑا غدار کون ہے اور  کسے ملکی فوج کا بہتر خدمت گزار  کہا جائے۔

پاکستان اس وقت جن حالات کا سامنا کررہا ہے ان پر  ’روم جل رہا تھا اور نیر و بانسری بجا رہا تھا ‘ کی ضرب المثل لاگو ہوتی ہے۔ جس وقت پاکستانی عوام شدید احتیاج، تباہی اور مشکل کا سامنا کررہے ہیں ، ایسے وقت میں ان مباحث کو ضرور ی سمجھا جارہا ہے کہ ملک کا آئیندہ آرمی چیف کون ہوگا  اور  کیا    ملکی فوج کی قیادت خدا نخواستہ کسی ایسے جنرل کے ہاتھوں میں بھی آسکتی ہے جو ایک خاص خاندان کے جرائم پر پردہ ڈالنے کے لئے  ملک و قوم کے مفاد کو نظر انداز کردے گا۔  سیاسی تصادم کی اس فضا کا کیا نتیجہ نکلے گا ، کوئی نہیں جانتا لیکن یہ بات طے ہے کہ حالیہ بارشوں اور طغیانی  نے جو تباہی  پھیلائی ہے  ،  ملکی تاریخ تو کیا دنیا میں  قدرتی  آفات کے حوالے سے  بھی اس کی نظیر تلاش کرنا ممکن نہیں ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل  انتونیو گوئیتریس سیلاب کی سنگین  صورت حال اور اس سے پہنچنے والے نقصانات کی وجہ سے بنفس نفیس پاکستان کا دورہ کرچکے ہیں تاکہ پاکستانی عوام اور حکومت کے ساتھ اظہار یک جہتی کریں۔

دورہ کے دوران اور یہاں سے واپس جانے کے بعد سیکرٹری  جنرل نے تباہی کی صورت حال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور  کہا  ہے کہ  اس تباہی کی ذمہ داری پاکستان پر نہیں ڈالی جاسکتی۔ یہ قدرت کا رد عمل ہے جو ماحولیاتی  کو تباہ کرنے  کی وجہ سے دیکھنے میں آرہا ہے۔ انہوں نے خاص طور سے اقوام عالم کو جھنجوڑنے کی کوشش کی اور کہا کہ زہریلی گیسز کے اخراج کے ذمہ دار ترقی یافتہ صنعتی ممالک  ہیں۔ پاکستان   کا ان مٰیں حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے لیکن اس بے اعتدالی کی وجہ سے جو موسمی تبدیلیاں ملاحظہ کی جارہی ہیں، ان کا نشانہ بننے میں  پاکستان سر فہرست ہے۔  انتونیو گوئیتریس نے   بتایا ہے کہ عالمی درجہ حرارت میں اضافہ کی وجہ سے گلیشئر تیزی سے پگھلے ہیں جس کی وجہ سے اس وقت تقریباً نصف پاکستان ڈوبا ہؤا ہے اور اس سے جنم لینے والے انسانی اور مالی نقصان  کا تخمینہ کرنا بھی ممکن نہیں ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا اقوام عالم کو یہی پیغام ہے کہ  جو قدرتی تباہی اس وقت پاکستان  میں دیکھنے میں آئی ہے ، اس سے سبق سیکھا جائے اور بحالی کے کام میں آگے بڑھ کر پاکستانی حکومت و عوام کا ہاتھ بڑھایا جائے۔

پاکستان میں آنے والا سیلاب اور اس سے رونما ہونے والی تباہی کو  تحقیقات کی روشنی میں عالمی موسمی تبدیلی سے منسلک کیا جارہا ہے۔  بدقسمتی کی بات ہے کہ اس بارے میں  پاکستانی قیادت  کو کوئی عالمگیر مہم چلانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی بلکہ یہ کام بھی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور ماحولیات کے چند ماہرین کے حوالے کردیا گیا ہے۔  یہی وجہ ہے کہ اس تباہ کاری کے  جو بھی تخمینے لگائے جائیں اور متاثرین  کو خواہ کیسی ہی مختصر االمدت اور طویل المدت مشکلات کا سامنا ہو، پاکستان کا کوئی ادارہ، ماہر، لیڈر یا تنظیم عالمی منظر نامہ پر یہ واویلا کرتی دکھائی نہیں دیتی کہ  دوسروں کی بے اعتدالی اور فطرت سے چھیڑ چھاڑ کرنے کی سزا پاکستانی عوام کو بھگتنا پڑ رہی ہے۔ اس کی ذمہ داری بھی انہی اقوام اور ممالک کو قبول کرنی چاہئے۔  اس کے برعکس پاکستان کی حد تک سیلاب اور متاثرین کے حوالے سے یا تو سیاسی بیانات دیے جاتے ہیں جن میں ایک دوسرے کو مطعون کیا جاتا ہے۔ یا پھر  یہ توقع کی جارہی ہے کہ  عالمی تنظیمیں،  مخیر حضرات اور امیر  یا دوست ممالک مل جل کر ہاتھ بٹائیں گے بلکہ خود ہی یہاں آکر بحالی و آبادکاری کا کام بھی سرانجام دیں گے۔

پاکستانی حکومت کو  تو اتنی  ہمت بھی نہیں ہے  کہ وہ  ان غیر معمولی حالات  کو واقعی ہنگامی صورت حال سمجھے اور ان سے نمٹنے کے لئے جنگی بنیادوں پر فیصلے  کئے جاسکیں جو مقامی سیاسی ضرورتوں اور مجبوریوں کے پابند نہ ہوں۔ اس کی اہم ترین مثال چند روز پہلے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا یہ بیان تھا کہ  متعدد ادارے و ممالک  اس بحران سے نمٹنے کے لئے بھارتی سرحد کھولنے اور وہاں سے اجناس و ادویات  درآمد کرنے کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔ انہوں نے اشارہ بھی دیا کہ حکومت شاید اس سلسلہ میں اقدام کرے۔ اطلاعات کے مطابق متعدد عالمی تنظیمیں بھارت میں اپنے مر اکز سے فوری طور سے غذا اور دیگر امدادی سامان پاکستان لاکر  ضرورت مندوں کی امداد کرنا چاہتی تھیں۔ لیکن یہ  خواہش قومی ’غیرت‘ اور حکومت کی سیاسی مجبوریوں کے سامنے دم توڑ گئی۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے اسی رات اعلان کیا کہ کچھ ہوجائے بھارت سے   اجناس درآمد کرنے کی  اجازت نہیں دی جائے گی۔

اس کی واحد وجہ کشمیر کے سوال پر پیدا کی گئی سیاسی جذباتی کیفیت ہے۔ ابھی بھارت سے تجارت کھولنے کی تجویز ابتدائی مرحلے میں ہی تھی کہ   سیلاب اور شدید تباہی کے باوجود روزانہ کی بنیاد پر  ’حقیقی آزادی‘ کے لئے جلسے کرنے والی تحریک انصاف نے اسے  کشمیر پر حکومت کی  پسپائی اور بھارت کے ساتھ پینگیں بڑھانے کی سازش قرار دیا۔  اس کا نتیجہ کہ  یہ بیل تو منڈھے نہ چڑھ سکی لیکن بھارتی زرعی پیداوار متحدہ عرب امارات کے راستے ضرور پاکستان لانا پڑی ۔ یعنی جس وقت حکومت کو پائی پائی بچانے اور کم سے کم لاگت پر اشیا فراہم کرنے کی ضرورت تھی۔ اس وقت  بھی سیاسی تقاضے  عوام کی بھوک اور ضرورت سے زیادہ  اہم تھے۔  پاکستان کو اس وقت سیلاب کی تباہ کاری کی صورت میں   ایک بہت بڑے چیلنج کا سامنا ہے  لیکن اہل پاکستان کو آزادی اور غیرت   کے نام  پر بھارت  کا مقابلہ کرنے اور جہاد کے ذریعے قومی وقار بلند کرنے کا سبق یاد کروایا جارہا ہے۔   سوشل میڈیا  ، یہ درس عام کرنے والوں

کا  سہولت کار بنا ہؤا ہے کہ ایسی سزائیں صرف ان اقوام کو ملتی ہیں جن سے اللہ ناراض ہوتا ہے ۔ اسی لئے بدعنوان اور نااہل حکمران ان پر مسلط کردیے جاتے ہیں۔

سیلاب سے ہونے والی تباہی کا تخمینہ 40 ارب ڈالر لگایا جارہا ہے لیکن ملک کے زرد مبادلہ کی کل پونجی آٹھ ارب ڈالر ہے اور اس سے دوگنی مقدار میں ادائیگیاں  کرنا مقصود ہے۔ وزیر خزانہ ایک روز قبل بتا چکے ہیں کہ ملکی معاشی حالت اس قدر دگرگوں ہے کہ روائیتی طور سے پاکستان کی مدد کرنے والے دوست ممالک بھی   آگے بڑھنے پر تیار نہیں ہیں۔  وزیر اعظم شہباز شریف نے آج ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آئی ایم  ایف کے ساتھ ہونے والے  مشکل مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’عمران حکومت نے آئی ایم ایف معاہدے کی پاسداری کرنے کے بجائے  اس کی  دھجیاں بکھیریں جس کے باعث  معاہدہ بحال کرنے کے لئے  عالمی مالیاتی ادارے نے ہمیں  آڑے ہاتھوں لیا اور ناک سے لکیریں نکلوائیں‘۔  ناک سے لکیریں نکالنے کے باوجود  شہباز شریف  عوام کو یہ پیغام دیتے رہتے ہیں کہ ’انشااللہ ہم ان مشکلات سے نکل آئیں گے اور ہمارے اچھے دن لوٹ آئیں گے‘۔ تاہم ان کی ایک ہی شرط ہے کہ ساری قوم بیک زبان ہوکر عمران خان پر تبرا بھیجے اور شہباز شریف کو  آنے والی غیر معینہ مدت کے لئے اپنا محبوب لیڈر مان لے۔

ایسا ہی مطالبہ عمران خان بھی کرتے نہیں تھکتے۔ ان کا بھی یہی خیال ہے کہ  ملک کی معاشی ابتری کی ساری ذمہ داری موجودہ حکومت  پر عائد ہوتی ہے کیوں کہ یہ چور لٹیروں کی حکومت ہے   جو امداد کی رقم  اپنے ذاتی بنک اکاؤنٹس میں جمع کرواتے ہیں  جس کی بھاری قیمت غریب عوام کو ادا کرنا پڑتی ہے۔       اقوام متحدہ  کے سیکرٹری  جنرل  دورہ پاکستان کے  دوران  بعض عناصر نے ’امدادی سامان‘  کی عام مارکیٹ میں فروخت کی تصاویر لگا کر دنیا  کو متنبہ کرنے کی کوشش کی کہ پاکستان کو مدد نہ دی جائے کیوں کہ یہاں  ’چور‘ حکومت کررہے ہیں۔ بعد میں اگرچہ یہ واضح ہوگیا کہ یہ تصاویر پرانی تھیں اور ان کا موجودہ امدادی سرگرمیوں یا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں  تھا۔ لیکن ایک  بار بات پھیلا دی جائے تو جھوٹ بے پر بھی  محو پرواز رہتا ہے اور اس کی تردید سے  ایسی افترا پردازی  پر یقین کرنے والوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔

موجودہ قدرتی آفت کے نتیجہ میں بحالی کے اخراجات کا جو بھی تخمینہ ہو لیکن  فوری طور سے پیدا ہونے والی غذائی قلت سے صرف سیلاب زدہ علاقوں کے لوگ ہی متاثر نہیں ہوں گے بلکہ قومی زرعی پیداوار میں شدید کمی سے  سب کو غذا مہیا کرنے کے لئے   غلہ درآمد کرنا پڑے گا۔ مویشیوں کی بڑی تعداد سیلاب کی نذر ہوجانے کی وجہ سے دودھ اور گوشت جیسی بنیاد ضروریات نایاب ہوجائیں گی اور ان کی قیمتیں آسمان  سے باتیں کرنے لگیں گی۔   طویل عرصہ تک وسیع رقبہ زیر آب  رہنے کی وجہ سے اگلی  فصلوں پر بھی منفی اثرات  مرتب ہوں گے۔  یہ سارے عوامل مل کر قومی پیداوار پر اثر  انداز ہوں۔ زرعی پیداوار پاکستان کی قومی اوسط پیداوار میں  کلیدی کردار ادا کرتی رہی ہے۔ فی الوقت پاکستان  کو متاثرین اور باقی ماندہ آبادی کا پیٹ بھرنے کے لالے پڑے ہیں۔

تاہم ملکی سیاست کے لئے زیادہ اہم یہ ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کو توسیع ملے گی یا نومبر میں کوئی نیا  جنرل پاک فوج کی کمان سنبھالے گا۔ کیا یہ فیصلہ موجودہ وزیر اعظم ہی کریں گے یا ان سے یہ اختیار واپس لینا ضروری ہے۔ یا پھر انتخابات مارچ میں ہونے چائیں یا اگست تک انتظار کیا جاسکتا ہے ۔ اور کیا پنجاب میں پرویز الہیٰ کو حکومت کرنے دی جائے یا وزیر دفاع کے بقول  مناسب وقت پر تبدیل کا ڈول ڈالا جائے تاکہ وفاقی حکومت کو کچھ  سہولت ملے اور قومی سیاست میں ’استحکام ‘ پیدا ہوجائے۔

پاکستانی عوام  قدرتی آفت سے ہونے والی تباہ کاری سے نمٹنے کے لئے ہاتھ  پاؤں ماررہے ہیں لیکن  سیاسی لیڈر   اقتدار کی شطرنج پر اپنے مہرے  سجانے اور انہیں مضبوط کرنے میں مصروف ہیں۔  مؤرخ نے یہ داستان رقم کی تو اس المناک کہانی سے عبرت پکڑنے والی نسلیں ضرور آج کی قیادت   کو کٹہرے میں کھڑا کریں گی۔

loading...