پاکستان کا معاشی بحران: شنگھائی تعاون تنظیم کی بجائے بھارتی تعاون اہم ہے

وزیر اعظم شہباز شریف نے  شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ماحولیاتی تباہی کے خلاف بند باندھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج پاکستان اس تباہی کا سامنا کررہا ہےلیکن کل  اس کا رخ کسی دورے ملک کی طرف ہوسکتا ہے۔ اس لئے سب ممالک کو مل کر کوئی دیرپا اور قابل عمل منصوبہ بنانے کی ضرورت ہے۔

پاکستانی وزیر اعظم  نے اپنی تقریر میں اگرچہ  اس امید کا اظہار کیا ہے کہ  پاکستان جلد ہی دوبارہ  اپنے پاؤں پر کھڑا ہو جائے گا  لیکن  زمینی حقائق اور مسائل گمبھیر  اور الجھے ہوئے ہیں۔ شہباز شریف کی حکومت ابھی تک کوئی ایسا قابل عمل معاشی منصوبہ سامنے لانے میں کامیاب نہیں ہوئی جس  کی بنیاد پر ایک طرف سیلاب سے تباہ ہونے والے علاقوں میں انفرا اسٹرکچر کی تعمیر نو اور بے گھر ہونے والے شہریوں کی آبادکاری کا کام ہوسکے تو دوسری طرف سیلاب کی وجہ سے فوری طور سے سامنے آنے والے چیلنجز کا مقابلہ کرنے  کی امید دکھائی دیتی ہو۔ پاکستانی دارالحکومت اور میڈیا میں عام طور سے  ملکی سیاسی صورت حال  کی خبریں نمایاں  ہوتی ہیں یا اس بات کا چرچا رہتا ہے کہ  عدالتیں تحریک انصاف کو کس حد تک سہولت فراہم کرکے  ملک کے سیاسی بحران کو مزید سنگین کرنے میں کردار ادا کررہی ہیں۔

سمر قند میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے   ماحولیات  کے اثرات  پرگفتگو کرنے کے علاوہ وزیر اعظم نے اس دوران ترک خبررساں ایجنسی   ’انادولو ‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ  اس مشکل وقت میں پاکستان کی امداد محض اظہار یک جہتی تک محدود نہیں رہنی چاہئے بلکہ اس تعاون کا تعلق انصاف فراہم کرنے سے بھی ہے۔ یہ تباہی صنعتی ممالک کی طرف سے زہریلی گیسوں کے اخراج سے رونما ہورہی  ہے۔ پاکستان کا تو اس  میں  آٹے میں نمک کے برابر بھی حصہ نہیں  ہے۔ انہوں نے  اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوئیتریس کے دورہ پاکستان کے دوران کہی ہوئی باتوں کو دہراتے ہوئے مطالبہ کیا کہ  ترقی یافتہ ملکوں کو اس سلسلہ میں آگے بڑھ کر ذمہ داری قبول کرنی چاہئے۔ شہباز شریف نے قرضوں کی  معطلی کے علاوہ ایسا عالمی فنڈ قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا جس  سے  موسمیاتی تباہی کا شکار ہونے والے ممالک کو مالی معاوضہ ادا  ہوسکے۔

حکومت پاکستان کے اس  مؤقف کی  تائد  ایک بین الاقوامی موسمیاتی گروپ، ورلڈ ویدر ایٹریبیوشن (ڈبلیو ڈبلیو اے) کے ایک سائنسی مطالعے میں بھی کہی گئی ہے۔  گروپ کی رپورٹ کے مطابق  پاکستان میں رواں سال کے اوائل میں  گرمی کی لہر اور حالیہ تباہ کن سیلاب    میں  شدت  ، موسمیاتی تبدیلیوں  کی وجہ سے دیکھنے میں آئی ہے۔گروپ نے پاکستان  کو مشورہ دیا ہے  کہ اسے عالمی سطح پر  کاربن کے اخراج کو کم کرنے کی جد و جہد بھی کرنی چاہئے لیکن اس کے ساتھ ہی ترقی یافتہ ممالک سے  اپنے نقصان اور تباہی کے لیے معاوضہ طلب کرنا چاہئے۔  رپورٹ میں اعداد و شمار کے ساتھ واضح کیا گیا ہے کہ  کیسے  کاربن  کے اخراج کی وجہ سے عالمی درجہ حرارت میں اضافہ ہؤا ہے جس  سے پاکستانی پہاڑوں پر گلیشئیر پگھلنے لگے ہیں اور بارشوں کی غیر معمولی شدت کی وجہ سے  تباہی دیکھنے میں آئی ہے۔    ڈبلیو ڈبلیو اے کی یہ رپورٹ 26 ماہرین نے تیار کی ہے جن کا تعلق  20 بین الاقوامی یونیورسٹیوں، تھنک ٹینکس اور اداروں سے ہے۔  یہ ادارے  ماحولیاتی تبدیلی، موسمی حالات، ماحولیات، جغرافیہ، ماحولیاتی علوم، صحت عامہ اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ سے متعلق  امور پر تحقیقات کرتے ہیں اور اعداد و شمار جمع کرتے ہیں۔

ان ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان  اس وقت  جی  77 گروپ  کا سربراہ  ہے۔ اس حیثیت میں اسے  ماحولیاتی  شواہد کو گروپ میں ثبوت کے طور پر استعمال کرنا چاہئے تاکہ فوری طور پر کاربن کے  اخراج کو کم کرنے پر زور دیا جا سکے۔ اس کے علاوہ  پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک سے کہنا چاہیے کہ وہ  اپنی ذمہ داری قبول کریں۔ پاکستان کو کسی قصور کے بغیر جس ناگہانی موسمی تباہی کا سامنا کرنا پڑا ہے، اس کا بوجھ بٹانے  کے لئے مالی  معاونت فراہم کی جائے۔ پاکستان نے سرکاری طور سے  سیلاب سے ہونے والی تباہی کا تخمینہ 30 ارب ڈالر لگایا ہے۔   سیلاب سے ساڑھے تین کروڑ لوگ بے گھر ہوئے ہیں اور 1500 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔

گو کہ وزیر اعظم نے شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس سے خطاب اور میڈیا کے ذریعے  اس معاملہ کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس سے پہلے پاکستان کی وزیر  ماحولیات  شیری رحمان بھی اس اہم موضوع پر اظہار خیال کرچکی ہیں  لیکن یہ سنگین مسئلہ صرف  چند تقریروں اور انٹرویوز سے حل نہیں ہوگا۔ اس مقصد کے لئے پاکستانی حکومت کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر منظم اور ٹھوس سفارتی کوششیں کرنا ہوں گی۔ جیسا کہ  ڈبلیو ڈبلیو اے کی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے یا جیسے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اپنی تقریروں میں نشاندہی کرچکے ہیں کہ اس تباہی میں پاکستان کا قصور نہیں ہے بلکہ وہ اس قدرتی آفت کا سانحاتی طور سے نشانہ بنا ہے۔ یہ گناہ دوسری اقوام سے سرزد ہوئے ہیں جنہوں نے صنعتی ترقی کی دوڑ میں دنیا کے موسم اور ماحولیات کو تباہ کیا  لیکن اس کے اثرات ان ممالک کو برداشت کرنے پڑ رہے ہیں جن کے پاس اس نقصان سے نمٹنے کے وسائل دستیاب نہیں ہیں۔ اس مقصد کے لئے پاکستانی حکومت کو محض معمول کے سفارتی ذرائع استعمال کرنے کی بجائے علاقائی اور  عالمی سطح پر پرزور پبلک ریلشننگ کی مہم چلانا پڑے گی تاکہ  ترقی یافتہ ممالک کو اپنی ذمہ داری قبول کرنے پر آمادہ کیا جاسکے۔ عالمی ماحولیاتی تنظیمیں اور ماہرین ایسی کسی بھی کوشش میں پاکستانی حکومت کو بھرپور تعاون فراہم کرسکتے ہیں لیکن   وہ تن تنہا  طاقت ور امیر ممالک کو پاکستان کی امداد پر مجبور نہیں کرسکتے۔ اس کے لئے پاکستان کو خود ہی اقدام کرنا  ہوں گے۔

ترقی یافتہ دنیا کو   پاکستان میں بحالی کے کام میں حصہ ادا کرنے پر مجبور کرنے کے لئے شنگھائی تعاون تنظیم  جیسے ادارے  بھی معاون ہوسکتے ہیں لیکن  یہ گروپ   چین اور روس کی  سرپرستی میں بننے والی تنظیم ہے جس کا بنیادی مقصد علاقائی سیکورٹی ہے۔   اور اسے امریکہ کے توسیع پسندانہ عزائم کے خلاف   بند باندھنے کی کوشش بھی کہا جاتا ہے تاکہ چین اور روس    ہمسایہ ممالک میں اثر و رسوخ میں اضافہ کے ذریعے امریکہ  کو خبردار کرتے رہیں۔  اس پس منظر میں یہ گروپ عالمی ماحولیات میں مباحث کا کوئی قابل  ذکرفورم نہیں ہے اور نہ ہی پاکستان  اس ذریعہ سے عالمی سفارت کاری میں کوئی بڑا بریک تھرو حاصل کرسکتا ہے۔  البتہ اگر ہمسایہ ملکوں، عالمی اداروں، ماحولیاتی ماہرین اور دیگر دوست ممالک کے تعاون سے موجودہ انسانی المیہ کو بنیاد بنا کر اس معاملہ کو اہم عالمی فورمز پر اٹھایا جاتا ہے  تو شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کو پاکستانی مؤقف  کی حمایت  پر آمادہ کیا جاسکتا ہے۔  تاہم اس مقصد کے لئے پاکستان کو اپنے طور پر ہر ملک کے ساتھ مواصلت کرنا ہوگی ۔    سیلاب کی تباہ کاری سے پیدا ہونے والے انسانی المیہ کو اس وقت عالمی میڈیا میں مناسب جگہ  مل رہی ہے۔ یہی وقت ہے حکومت پاکستان   اقوام عالم ، میڈیا اور لوگوں کی ہمدردیاں سمیٹتے ہوئے اپنا مقدمہ مناسب طریقے سے  پیش کرسکتی ہے۔   یہ وقت اگر باہمی  جھگڑوں اور محض سوچ بچار میں ضائع کردیا گیا تو  تباہ کاری کی خبریں عالمی میڈیا سے ہٹنے کے بعد  دباؤ ڈالنے کا مقصد حاصل کرنا  ممکن نہیں ہوگا۔

اس مقصد کے لئے پاکستان کو سب سے پہلے اپنے قریب ترین ہمسایہ ممالک کو ساتھ ملانے کی ضرورت ہے جن میں بھارت سر فہرست ہے۔ اس کے بعد افغانستان اور ایران کا نمبر آتا ہے۔ شہباز شریف نے شنگھائی تعاون تنظیم میں تقریر کرتے ہوئے افغان کاز کو مناسب طریقے سے پیش کیا ہے اور دنیا سے اس ملک کو تنہا نہ چھوڑنے کی اپیل کی ہے۔ اس خیرسگالی کو بہتر بنانے اور افغانستان کے ساتھ دو طرفہ تعلقات  کو  دو مساوی اقوام کے طور پر استوار کرنے کے لئے کام  کی ضرورت ہے تاکہ بھارت کے بعد اب افغانستان کے عوام میں بھی پاکستان کے بارے میں معاندانہ احساسات راسخ نہ ہوں۔

تاہم سب سے اہم یہ ہے  کہ پاکستان ، بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظر ثانی کرے اور موجودہ تباہی میں اسے اپنا  ہمنوا  بنانے کے نقطہ نظر سے حکمت عملی  ترتیب دی جائے۔  وزیر اعظم نے  ترک نیوز ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے بھارت کے بارے میں حکومت پاکستان کا پرانا مؤقف دہرایا ہے اور ایک بار پھر  دوطرفہ تعلقات میں تعطل و سرد مہری کی ساری ذمہ داری  نئی دہلی پر عائد کرتے ہوئے کشمیر کو تنازعہ کی بنیاد قرار دیا ہے۔  واضح رہے پاکستان  اس سے پہلے مقبوضہ کشمیر میں  اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے  مطابق استصواب   کروانے کی ضرورت پر زور دیتا رہا ہے لیکن 5  اگست 2019 کو نریندر مودی کی حکومت نے کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے کے جو اقدام کئے ہیں، اس کے بعد سے اسلام آباد کا فوکس  اس مطالبے پر ہے کہ کشمیر کی پرانی حیثیت  بحال کی جائے ۔ حالانکہ  اگر کشمیر ایک مقبوضہ علاقہ ہے تو بھارتی قانون میں اسے جو بھی کہا جائے ،  اس سے  پاکستانی  مؤقف میں تبدیلی ناقابل فہم  ہے۔   کشمیر کا مسئلہ حل ہونے تک بھارت کے ساتھ  تعلقات کشیدہ رکھنے کی  پاکستانی پالیسی سفارت کاری کے مسلمہ عالمی اصولوں کے برعکس ہے۔ چین ، تائیوان کو اپنا  ’اٹوٹ انگ‘ قرار دیتا ہے لیکن اس کے ساتھ تجارت  اور  معاملات طے کرنے  سے بھی گریز نہیں کرتا۔ اسی طرح بھارت کے ساتھ سرحدی تنازعہ اور سفارتی کشیدگی کے باوجود 2021 میں چین اور بھارت کی تجارت  کا  حجم  120 ارب ڈالر تھا جو 2020 کے مقابلے میں چالیس فیصد زیادہ تھا۔

پاکستان کو بھی سفارت کاری کے اسی چینی ماڈل پر عمل کرنے کی ضرورت  ہے۔ اس کے برعکس  بھارت کے ساتھ پاکستان کی خارجہ پالیسی نعروں اور گھڑے گھڑائے بیانات پر مشتمل ہے۔ پاکستان اس وقت جس معاشی مشکل کا سامنا کررہا ہے ، اس میں بھارت کے ساتھ تعلقات کی بحالی پاکستان کے لیے اہم ہے۔ اس  کے لئے پاکستان کو ہی کوشش کرنا ہوگی۔    اس اہم معاملہ کو ملکی سیاسی مجبوریوں کی وجہ سے نظر انداز کرنا ، قوم و ملک کے مفادات سے گریز کی حکمت عملی ہے۔   سمر قند میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں شہباز شریف کے علاوہ نریندر مودی بھی شریک تھے۔  پاکستان اگر کوشش کرتا تو دونوں رہنماؤں کی ملاقات ہوسکتی تھی تاکہ  باہمی تعلقات میں جمی برف  پگھلنے میں مدد ملتی۔ اس کے برعکس پاکستان  کی وزارت خارجہ  نے اس اعلان میں  فخر محسوس کیا کہ  ہماری طرف سے اس ملاقات کی کوئی خواہش  ظاہر نہیں کی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ اس سربراہی اجلاس میں دونوں رہنما ایک دوسرے سے  کتراتے رہے تاکہ کوئی کیمرا ان کی کوئی تصویر سامنے  نہ لا سکے اور کوئی صحافی دونوں میں ’قربت‘ کا کوئی شائبہ محسوس نہ کرے۔  اس موقع پر جاری ہونے والی سرکاری تصویر میں  7 سربراہان میں سے  پانچ پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم کے درمیان کھڑے ہیں تاکہ دونوں کے درمیان ’فاصلہ‘ کا تاثر قائم رہے۔ یہ ذہنیت اور حکمت عملی تبدیل کرنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔

ایسا کوئی بڑا  سفارتی مقصد حاصل کرنے کے لئے  قومی سطح پر جرات مندانہ مؤقف اختیار کرنے اور اہم  معاملات پر بنیادی افہام و تفہیم  پیدا  کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستانی سیاست میں تو یہی معلوم نہیں ہوتا کہ کون سا سیاسی لیڈر  فوج  کا ترجمان ہے اور  کون سی پالیسی پارلیمنٹ کی بجائے جی ایچ کیو میں تیار ہوتی ہے۔ شہباز شریف تمام سیاست دانوں کو سمجھنا ہوگا کہ ملک کے داخلی سیاسی مسائل پاکستان کی عالمی شہرت اور مفادات پر اثر انداز ہورہے ہیں۔

loading...