ٹونی عثمان کا نیا ڈرامہ اکتوبر میں اسٹیج کیا جائے گا

پاکستانی نژاد نارویجئن ہدایت کار، اداکار اور ڈرامہ نگار ٹونی عثمان  اکتوبر میں ایک نیا اسٹیج ڈرامہ   ’سو فیصد‘ کے نام سے پیش کررہے ہیں۔ ان دنوں اس ڈرامہ کی ریہرسل اوسلو میں جاری ہے۔ کاروان نے  اس موقع پر ہدایت کار  ٹونی عثمان کے علاوہ اس ڈرامہ میں کام کرنے والے اداکاروں  اور  اس فنی کاوش کی پروڈیوسر آندریا جیرویل سے ملاقات کی اور  ڈرامہ کے بارے میں ان سے استفسار کیا۔

’سو فیصد‘  ٹونی عثمان اور کرستیان استروم اسکاگ  کا تحریر کردہ ڈرامہ ہے جس میں وہ  دو کامیاب انسانوں کی زندگی کے نشیب و فراز، مسائل، ذہنی کیفیت اور جذباتی  کشمکش کو سامنے لاتے ہیں۔  ٹونی عثمان کا کہنا ہے کہ  وہ کئی برس سے  ڈرامہ کے مسودے پر کام کررہے تھے لیکن اب وہ اسے ڈرامہ کی شکل میں پیش کرنے  میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ڈرامہ کے دو کرداروں میں  ایک جانا پہچانا وکیل ہے جو بظاہر زندگی میں کامیاب ہے، اسے شہرت حاصل ہے اور  معاشرہ اسے ایک کامیاب اور خوش انسان کے طور پر دیکھتا ہے۔  ڈرامے کا دوسرا کردار ایک ماہر نفسیات ہے۔  وہ  بھی اپنی پیشہ وارانہ مہارت  کی وجہ سے   مشہور ہے اور  مریضوں کو اس سے وقت لینے کے لئے طویل انتظار کرنا پڑتا ہے۔ وہ  نفسیاتی دباؤ کا شکار مریضوں کا علاج کرنے کے  لئے نئے اور غیر روائیتی طریقے اختیار کرنے کی شہرت بھی رکھتا ہے۔ تاہم ڈرامہ کے دوران انکشاف ہوتا ہے کہ  ماہر نفسیات خود بھی ذہنی خلفشار اور اندرونی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔

یہ ڈرامہ   ایک کامیاب وکیل اور ایک کامیاب ماہر نفسیات کے باہمی مکالمہ  پر منحصر ہے جسے سات مناظر میں تقسیم کیا گیا ہے۔   وکیل فاروق  اپنی ذاتی زندگی  میں پیش آنے والے جذباتی اور  ذہنی دباؤ کی وجہ سے  ماہر نفسیات   اوسمُند ہارولدسن سے رابطہ کرتا ہے۔ اس طرح ڈرامہ کا ہر سین    ماہر نفسیات کے ساتھ ایک مریض  کے سیشن پر استوار ہے ۔ ہر سین کے اختتام  پر فیض کی نظموں  کی گائیکی  کے ساتھ رقص پیش کیا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لئے فیض کی  نظم ’صبح آزادی ‘ اور ان کی غزل ’گلوں میں رنگ بھرے، باد نو بہار چلے ‘ کا انتخاب کیا گیا ہے ۔ اس نظم اور غزل کی موسیقی اور گائیکی خاص طور سے اس پروڈکشن کے لئے تیار کی گئی ہے۔ ڈائیریکٹر ٹونی عثمان کا کہنا ہے کہ اس طرح ایک تو  دو  کرداروں  کے مکالمہ پر مشتمل ڈیڑھ گھنٹے  کے طویل ڈرامہ میں   وقفہ سے سامعین کی دلچسپی اور تجسس برقرار رہے گا۔  دوسرے  محض مکالمہ پر استوار ڈرامہ  کو سمجھنے اور اس  کی گہرائی تک پہنچنے میں مدد ملے گی۔

ڈرامہ میں وکیل   فاروق  گُھمن کا کردار بھارتی نژاد  نارویجئن اداکار منیش شرما نے نبھایا ہے جبکہ ماہر نفسیات کے طور پر اداکار کنوت ستین کا انتخاب کیا گیا ہے۔ ٹونی عثمان نے بتایا کہ یہ دونوں اداکار  اداکاری کی باقاعدہ تعلیم و تربیت حاصل کرچکے ہیں۔ منیش نے ناروے سے ہی  تعلیم مکمل کی اور گزشتہ چار سال سے وہ  فلم اور ڈرامہ  میں اداکاری کے جوہر دکھا رہے ہیں۔ جب کہ   کنوت دس سال پہلے   ڈنمارک سے اداکاری کی تربیت حاصل کرکے  آئے تھے۔  لیکن انہوں نے ناروے میں  ہی  ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے  ہیں۔

ڈائیریکٹر  ٹونی عثمان   اور پروڈیوسر آندریا جیرویل نے  ان دونوں اداکاروں کی صلاحیتوں  اور اس ڈرامہ میں ان کی فنی مہارت کی تعریف کی ہے۔ ان دونوں کا خیال ہے کہ  دونوں اداکار جس محنت اور جذبے سے ڈرامہ کی ریہرسل میں حصہ لے رہے ہیں، اس سے امید ہے کہ یہ ڈرامہ  ناظرین کو ضرور پسند آئے گا۔ منیش اور کنوت  بھی اس ڈرامہ کے بارے میں پرجوش ہیں۔ ان کے خیال میں اس  کی کہانی  زندگی کی حقیقت پر استوار ہے اور  غیر محسوس طریقے سے  معاشرے کا ایک پہلو سامنے لاتی ہے۔ منیش کا کہنا تھا کہ بظاہر فاروق ایک کامیاب  وکیل ہے۔ اس کا ایک چھوٹا سا محبت کرنے والا خاندان ہے۔ بیوی اور دو بچے ہیں لیکن ان سب کے باوجود وہ  تنہائی  اور بے چینی کا شکار ہے۔   وہ اپنی پریشانی کا ذکر  بیوی یا کسی دوست سے نہیں کرسکتا کیوں کہ ایک تو یہ سمجھانا مشکل ہے کہ وہ کس پریشانی کا  ذکر کررہا ہے، دوسرے نفسیاتی الجھنوں کے بارے میں بات کرنا  معاشرتی لحاظ سے  ’باعث شرم‘ محسوس ہوتا ہے۔

فاروق اس مقصد سے   ایک شہرت یافتہ ماہر نفسیات اوسمُند ہارولدسن سے رابطہ کرتا ہے اور اس سے وقت لیتا ہے۔  تاہم  ان دونوں کے مکالمہ  کے دوران انکشاف ہوتا ہے کہ   نفسیات کا ماہر خود بھی جذباتی و نفسیاتی دباؤ کا شکار ہے اور وہ اپنی کیفیت  کے بارے میں  فاروق کے ساتھ بات کرنا شروع کرتا ہے۔ اس مکالمہ میں مصنفین نے مہارت سے نہ صرف ان دو کرداروں کی   زندگی، الجھنوں ، نفسیاتی  پیچیدگیوں  کو پیش کیا ہے بلکہ معاشرے میں رونما ہونے والے سیاسی و سماجی معاملات کا حوالہ بھی ملتا ہے۔ اس طرح   ایک ایسی تصویر  ناظرین کے سامنے آتی ہے  جس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ   ہمارے ارد گرد رونما ہونے والے واقعات بھی ہماری زندگیوں اور سوچ و احساسات پر اثر اندازہوتے ہیں۔  یعنی  نہ  تو کوئی مسائل سے بچا ہؤا ہے اور نہ ہی   معاشرتی حیثیت  یا معاشی کامیابی کسی شخص کو مکمل طور سے خوش و مطمئن کرسکتی ہے۔ ڈرامہ کے آخر میں ناظرین کے لئے فیصلہ کرنا مشکل ہوتا ہے کہ ان دو کرداروں میں مریض کون تھا اور معالج کون۔ یا پھر ناظرین ان کرداروں کے  ذریعے پیش کی جانے والی کہانی  میں خود اپنی زندگی کی جھلک تلاش کرسکتے ہیں۔

کہانی میں  نفسیاتی دباؤ کا شکار وکیل کا کردار  فاروق  گُھمن پاکستانی نژاد نارویجئن ہے۔  کاروان نے  سوال کیا کہ کیا    اس  کردار میں  جان بوجھ کر ایک     ایسے شخص کو پیش کیا گیا ہے جو نسلی اعتبار سے  سفید فام نارویجئن نہیں ہے اور کیا اس طرح ڈرامہ نگار ناروے میں تارکین وطن کی صورت حال یا معاشرے میں  ان کی قبولیت کے مسائل کو اجاگر کرنا چاہتا ہے؟

ٹونی عثمان کا کہنا تھا کہ پاکستانی نژاد کردار ایک کامیاب وکیل  ہے۔ اس سے  علامتی طور سے یہ بات تو واضح ہوتی ہے کہ یہاں آکر آباد ہونے والے تارکین وطن کی دوسری نسل معاشرے میں پوری طرح ضم ہورہی ہے اور مختلف شعبوں میں کامیاب ہے۔ لیکن بنیادی طور پر یہ ڈرامہ دو انسانوں  کی کہانی ہے جن کی زندگی کے نشیب و فراز میں سماجی رویوں اور انسانی الجھنوں کو سمجھا جاسکتا ہے۔  یہ ڈرامہ دو کامیاب انسانوں کی زندگی اور جذباتی کیفیت کو پیش کرنے کی کوشش ہے۔

ٹونی عثمان اس سے پہلے متعدد ڈرامے اسٹیج کرچکے ہیں۔ ان میں ’چچا سام‘،  تاریک ایام اور کافی کی چسکی شامل ہیں۔

ٹونی عثمان کی ہدایت کاری میں  نیااسٹیج ڈرامہ 13 اکتوبر سے 16 اکتوبر تک رومن   کے اسٹیج پر پیش کیاجائے گا۔ اس کے ٹکٹ  ’ٹکٹ کُو ‘ سے خریدے جاسکتے ہیں۔

loading...