میں ہوں پچھتر سالہ میاں مٹھو؟

آج جنوبی ایشیا میں آزادی یا پارٹیشن کی پچھتر سالہ ڈائمنڈ جوبلی منائی جا رہی ہے اور مزید پچیس برس گزرنے کے بعد یہاں صدی کے شادیانے بھی بجائے جائیں گے۔

ہم بائیس یا تیئس کروڑ پاکستانی خوشی سے پھولے نہیں سما رہے ہیں کہ ہم نے پون صدی قبل انگریز اور ہندو کی غلامی سے نجات حاصل کرلی تھی اس کے بعد آزاد قوم کی حیثیت سے ہم نے ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے نہ صرف اپنے ملک سے بھوک ننگ اور ظلم و بربریت کا خاتمہ کر دیا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی پوری دنیا ہماری طرف للچائی ہوئی نظروں سے دیکھتی ہے۔ ہم سے امداد اور قرضے مانگتی ہے۔ ہمارے آئین اور عظیم جمہوریت کی دنیا بھر مثالیں دی جاتی ہیں کیونکہ ہم زندہ قوم ہیں باقی امریکی، اسرائیلی یا بھارتی سب مردہ اقوام ہیں جن کے پاس کھانے کو روٹی نہیں ہے۔ بس اسلحہ کے ڈھیر ہم سے خرید خرید کر جمع کئے جا رہے ہیں۔ اسی لئے تو ہمارے عظیم شاعر اقوام غیر کو فرما گئے ہیں کہ تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گی/ شاخ نازک پہ جو آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا۔

اس سے قبل ہمارے سب سے بڑے قائد کہ ان جیسا سکالر لیڈر دنیا میں آج تک کوئی آیا ہے اور نہ تاقیامت کوئی آئے گا ۔ صاف صاف فرما گئے ہیں کہ میں پاکستان کی صورت میں اسلام کی ایک ایسی تجربہ گاہ یا لیبارٹری قائم کر رہا ہوں جہاں ہمارے مذہب کی بنیاد پر ایسے تجربات ہوں گے کہ پوری دنیا انہیں اپنانے پر مجبور ہو جائے گی۔ آج پچھتر سالوں پر محیط ہمارے یہ تجربات پوری دنیا کے لئے نمونہ ہیں اور ہم پوری دنیا میں اپنے دین کا قلعہ مانے جاتے ہیں۔ ہماری ہمسائیگی میں سٹوڈنٹس نے جو عظیم الشان سلطنت قائم کی ہے یہ ہماری خوشہ چینی ہی نہیں ہے بلکہ اس کی بنیادوں میں ہمارا لہو بھی شامل ہیں۔ ہمارے عظیم ملک کی بنیاد دو قومی نظریہ پر ہے اس لئے کہ مسلمان پوری دنیا میں جہاں بھی ہوں وہ الگ قوم ہیں۔ وہ کہیں بھی اقوام دیگر کے ساتھ مل جل کر نہیں رہ سکتے۔ برصغیر جنوبی ایشیا میں تو اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اس لئے کہ یہاں کی قدیمی اکثریتی قوم ہندو سے ہماری کوئی چیز نہیں ملتی تھی۔ نہ تہذیب نہ تمدن، نہ رہن سہن کے آداب یا طور طریقے، نہ کھانے پینے اور سونے جاگنے کے اوقات، نہ ذات پات نہ رنگ نہ نسل، نہ زبان، نہ تاریخ، نہ رسوم و روایات، نہ علاقہ، کچھ بھی تو نہیں بلکہ ہمارے قائد کے الفاظ میں پاکستان تو اس دن بن گیا تھا جب ہمارے عظیم فاتح محمد بن قاسم نے عربستان سے تشریف لا کر یہاں سندھ کی ہندو دھرتی میں قدم رنجاں فرمایا تھا۔

712 سے لے کر 1947 تک یہاں ہندوستان یا انڈیا نام کے ملک میں ہم دل کے ساتھ اکٹھے کبھی نہیں رہے۔ یہ تو صرف اقتدار کی مجبوریاں تھیں ورنہ ایک پکا سچا مسلمان بھلا اندرونی خوشی کے ساتھ کس طرح کافروں اور مشرکوں کے ساتھ اکٹھے رہ سکتا ہے۔ جنہیں کتاب مقدس میں نجس یعنی ناپاک قرار دیا گیا ہے۔ اس لئے جونہی ہمیں موقع ملا ہم نے اس ناپاکی کو تین حروف بھیجتے ہوئے اپنا الگ پاک وطن بنا لیا جس کا مطلب ہے پاک لوگوں کے رہنے کی جگہ۔

14 اگست 1947 کو جب ہمارا پاک وطن پاکستان قائم ہوا تو یہاں غیر مسلموں کی آبادی کوئی ایک چوتھائی کے لگ بھگ تھی آج الحمد للہ ہم نے یہ چار فیصد بھی نہیں رہنے دی ہے اور جو بچی ہے اسے بھی ہم اکثر و بیشتر کلمہ طیبہ کی دعوت پیش کرتے رہتے ہیں جو ہمارے مقدس عقیدے کا تقاضا ہے ان کے بوڑھے مرد عورتیں یالڑکے تو نہیں البتہ ان کی نوعمر لڑکیاں اکثر ہماری یہ دعوت قبول کرتی رہتی ہیں جن کی شادیاں ہم اپنے بزرگوں سے کروائیں یا بچوں سے یہ ہماری مرضی ہے۔ کوئی ہندو ہم پر جبر نہیں کرسکتا اپنا الگ ملک بنوا کر بھی اگر ہم نے کسی کا دباؤ سہنا ہے تو پھر کیا فائدہ دو قومی نظریے کا؟

یہ بھی ہمارے دشمنوں کا پھیلایا ہوا منفی پروپیگنڈہ ہے کہ پارٹیشن کے موقع پر کوئی خونی لکیر کھینچی گئی تھی یا بہت زیادہ قتل و غارت گری ہوئی تھی۔ ہمارا دین ہمیں اس نوع کے ظلم کی قطعی اجازت نہیں دینا جو امن اور سلامتی کا دین ہو، بھلا اس میں ایسی گنجائش کہاں ہوسکتی ہے؟ یہ بھی ہمارے ازلی دشمن ہندو کی کارستانی تھی جنہوں نے مشرقی پنجاب اور مغربی بنگال میں خون کی ہولی کھیلی اور بے گناہ مسلمانوں کوقتل کرتے ہوئے ان کی لاشوں سے ٹرینیں بھر بھر کر پاک سرزمین کی طرف روانہ کیں۔ ہمارے خطے میں جتنے بھی ہندو یا سکھ آباد تھے ہم نے ان سب کو بھائیوں کی طرح اپنے بال بچوں، خواتین و اموال و جائیداد کے ساتھ آہوں اور سسکیوں کے ساتھ رخصت کیا بلکہ ہم تو انہیں ان ہر دوخطوں سے جانے دینا چاہتے ہی نہیں تھے۔ ہمارے قائد نے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے سامنے دلائل کے انبار لگا دیے تھے کہ پنجاب اور بنگال کی تقسیم نہ ہو۔ انہوں نے فرمایا تھا کہ پنجابی یا بنگالی پہلے پنجابی یا بنگالی ہوتا ہے اس کے بعد کچھ اور، مگر اس متعصب انگریز پہلے انڈین گورنر جنرل نے ہمارے قائد کی ایک نہ سنی اور صاف کہہ دیا، مسٹر جناح یہی بات تو مہاتما گاندھی کہتے ہیں کہ وطن پہلے اور عقیدہ بعد میں ہے۔

ہمارے قائد نے ماسٹر تارا سنگھ کی قیادت میں سکھوں کو بلینک چیک پیش کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ آپ لوگ پاکستان میں رہنے کے لئے جو بھی شرائط مرضی لکھ لو میں ان سب پر من و عن دستخط کر دوں گا۔ اس سے بڑھ کر غیر مسلموں کو سینے سے لگانے کی اور ایک قوم بنانے کی اور کیا مثال ہوسکتی ہے؟ انہوں نے تو ایک ہندو جوگندر ناتھ منڈل کو پاکستان کا پہلا وزیر قانون اور ایک احمدی سرظفر اللہ کو پاکستان کا پہلا وزیر خارجہ تک بنا دیا تھا۔ کیا اقلیتوں کے ساتھ اس سے بڑھ کر حسن سلوک کی کوئی مثال دی جاسکتی ہے؟ پاکستان تو بنایا ہی اقلیتوں کو تحفظ دینے کے لئے گیا تھا۔ ہندو مجارٹی کے بالمقابل مسلم منارٹی کے حقوق کی حفاظت کے لئے۔ یہ الگ بات ہے کہ ہمارا مطالبہ ان خطوں کے لئے تھا جن میں مسلمان پہلے سے اکثریت رکھتے تھے یا مسلم مجارٹی خطے تھے جن کے حقوق کی ہمیں اتنی فکر تھی کہ ہمارے قائد نے کان پور میں میڈیا کے سامنے یہ فرمادیا تھا کہ مجارٹی خطے کے سات کروڑمسلمانوں کی آزادی کے لئے اگر مجھے منارٹی خطوں کے دو کروڑ مسلمانوں کو شہید کروانا پڑا تو میں یہ قربانی دینے کے لئے تیار ہوں۔

قائد کی اس درد مندی کو ہم اس وقت ملاحظہ کرسکتے ہیں جب 7اگست 1947 کو وہ کراچی روانہ ہونے کے لئے دہلی سے پرواز کر رہے تھے۔ یو پی کے مسلمانوں کا ایک وفد ان سے ملتے ہوئے پوچھتا ہے مسٹر جناح آپ ہمیں اب کس کے رحم و کرم پر چھوڑ کر جا رہے ہیں؟ تو صاف صاف فرما دیا کہ میں تمام انڈین مسلمانوں کو یہ ہدایت کرتا ہوں کہ وہ آئندہ انڈین شہری کی حیثیت سے اپنے ملک ہندوستان کے وفادار شہری بن کر رہیں اور کراچی پہنچتے ہی دستور ساز اسمبلی کے اولین اجلاس میں دو قومی نظریہ کو لپیٹتے ہوئے اعلان فرما دیا کہ آج کے بعد یہاں پاکستان کے شہری کی حیثیت سے نہ کوئی ہندو ہو گا نہ مسلمان، مذہبی عقیدہ آپ کا ذاتی معاملہ ہے ریاست پاکستان کو کسی عقیدے سے کوئی سروکار نہیں ہوگا۔ یہ ہے ہماری پچھتر سالہ آزادی کا آغاز اور انجام کسی اگلی قسط میں.....۔

loading...