عمران خان کی جنگ کو ن لڑ رہا ہے؟

تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان نے اب ہفتہ کے روز سے حقیقی  آزادی تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ لاہور میں وکلا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ’وقت ہے ، فوری انتخابات کا اعلان کردو۔ ورنہ ایک کال دوں گا اور ہمارا ملک حقیقی معنوں میں آزاد ہوجائے گا‘۔  اب  کون سا بدنصیب پاکستانی ہوگا جو ملک کی تقدیر تبدیل ہوتے نہیں دیکھنا چاہے گا۔ اس لئے کہنا تو یہی چاہئے کہ ’تمہارے منہ میں گھی شکر‘۔

عمران خان ایک اپیل پر اگر ملک کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں  تو  نہ جانے اس نیک کام میں انہوں نے دیر کیوں کی۔  تاہم شاید عمران خان پر بھی یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ  جلسوں کے نعروں اور زور بیان کا حقیقی صورت حال سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔  ملک کی تقدیر تبدیل کرنے  کے لئے اب وہ ایک   کال دینے کی بات ضرور کرتے ہیں لیکن تقدیر نے انہیں ملک پر ساڑھے تین سال تک حکومت کرنے کا موقع دیا تھا۔ البتہ  وزارت عظمی کی ایک مدت پوری  ہونے سے پہلے  ہی آئیندہ مدت کے لئے بھی اقتدار پر قابض رہنے کی خواہش نے  ہی انہیں اقتدار سے محروم  کردیا۔ نہ عمران خان فوج پر مکمل ’کنٹرول‘ کے لئے مرضی کی تبدیلیوں کے اشارے عام کرتے اور نہ ہی اپوزیشن پارٹیوں کو یہ تشویش لاحق ہوتی کہ   عمران خان عجلت میں اپنی مرضی کا کوئی آرمی چیف لا کر ان کے لئے فئیر پلے کا راستہ مسدود کرنے والے ہیں۔ اور   آئیندہ انتخابات   میں بھی ان کے لئے سیاسی اقتدار کا  امکان پیدا نہیں ہوسکے گا۔ اسی خوف نے 9 اپریل کو سابقہ وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی راہ ہموار کی۔

اب اس خوف میں عمران خان  مبتلا ہیں۔  انہیں اندیشہ ہے کہ  اس وقت وفاقی حکومت پر  ’قابض‘ ان کی دشمن سیاسی پارٹیاں کسی ایسے شخص کو آرمی چیف مقرر کردیں گی جو تحریک انصاف کے لئے مشکلات پیدا کرے گا اور ان کی پارٹی کو  انتخابات  میں مناسب  کامیابی نصیب نہیں ہوسکے گی۔ شہباز شریف اور ان کے ساتھیوں نے  سیاسی عواقب کا اندازہ کرنے میں غلطی  کی  اور تحریک انصاف کی غیر مقبول حکومت کو گرا کر مشکل معاشی فیصلوں  کی ذمہ داری  خود قبول کربیٹھے۔ اب عمران خان موجودہ حکومت کو وہی طعنے دے رہے ہیں جو اپنے دور حکومت میں انہیں موجودہ حکمران اتحاد میں شامل جماعتوں کی طرف سے سننے کو ملتے تھے۔ یعنی مہنگائی نے غریب کی کمر توڑ دی ہے، پیٹرول و بجلی  غیر ضروری طور سے مہنگی کردی گئی ہے اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی گرتی ہوئی شرح نے پاکستان کو تباہی اور ڈیفالٹ کے کنارے پہنچا دیا ہے۔

اسے تقدیر کی ستم ظریفی ہی کہنا چاہئے کہ سال ڈیڑھ سال پہلے جو دلائل پی ڈی ایم اور پیپلز پارٹی کے لیڈر عمران خان اور ان کی حکومت کے خلاف استعمال کرتے تھے۔ اب وہی دلائل پرجوش طریقے سے  شہباز حکومت کے خلاف استعمال کئے جارہے ہیں۔ دعویٰ  تب بھی  یہی کیا جارہا تھا کہ عوام  کو ایک نااہل اور ناکام حکومت سے نجات دلانا ضروری ہے اور اعلان اب بھی یہی سننے میں آرہا ہے کہ عوام پر   چوروں کی بدعنوان حکومت مسلط کردی گئی ہے۔   اسے اقتدار سے محروم کئے بغیر عوام  کو ’حقیقی آزادی ‘ نہیں مل سکتی۔ نہ عمران خان کے خلاف تحریک چلانے والی پارٹیوں کے پاس کوئی متبادل معاشی پروگرام تھا اور نہ ہی اب عمران خان کے پاس کوئی ایسا منصوبہ ہے کہ مان لیا جائے کی وہ ملک کی تقدید بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ کل بھی نعرے سنائی دیتے تھے، اب  بھی نعروں اور الزامات سے عوام کے دل گرمانے کی کوشش ہورہی ہے۔

ورنہ ایک کال پر پاکستانی عوام کو حقیقی آزادی دلانے کے دعویدار لیڈر کو معلوم ہونا چاہئے کہ عوام کو سڑکوں  پر لاکر اور احتجاج کے ذریعے حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کرکے ملک میں انارکی تو  پیدا کی جاسکتی ہے لیکن اس میں سے فلاح یا ترقی و خوشحالی کا کوئی راستہ تلاش نہیں کیا جاسکتا۔  ملک کو اگر معاشی طور سے مستحکم کرنا مقصود ہو  تو انتشار اور بداعتمادی کی بجائے  مفاہمت اور باہمی تعاون کی فضا پیدا کرنا ضروری ہے۔ پاکستان کو اس وقت  پیدا واری صلاحیت میں اضافہ کے لئے بیرونی سرمایہ کاری کی شدید ضرورت ہے لیکن جس ملک میں  سیاست دانوں کا ایک گروہ اقتدار میں اور دوسرا سڑکوں پر ہو ، اس میں کون  سا ادارہ یا سرمایہ دار اپنا روپیہ لگا کر نقصان کا سودا کرے گا۔ نہ عمران خان کے دور میں اعتماد سازی کا ماحول  پیدا کیا جاسکا اور نہ اب یہ صورت حال دیکھنے میں آرہی ہے۔ ایک طرف ملک کا وزیر اعظم اقوام متحدہ کے اجلاس کے موقع پر عالمی لیڈروں سے ملاقاتوں میں مالی تعاون کی درخواست کررہا  ہے تو دوسری طرف عمران خان ان کی واپسی سے بھی پہلے اسلام آباد کی طرف چڑھائی کے پر جوش اعلانات کررہے ہیں۔

سوچنا چاہئے کہ   عمران خان کے پاس کوئی ٹھوس سیاسی یا معاشی منصوبہ نہیں  ہے، نہ ہی تحریک انصاف کے انتخابی پروگرام میں  کوئی  ایسا ’اسم اکبر‘  چھپا ہے کہ عمران خان کے چھو منتر کہتے ہی ،  ملک کے مسائل حل ہوجائیں گے اور حقیقی آزادی سے مالامال   پاکستان اپنے عوام کی بنیادی ضرورتیں چٹکی بجاتے پوری کرنے لگے گا۔ اگر یہ سچ ہوتا تو شہباز شریف اور ان کے ساتھی بھی تو یہی دعوے کرتے ہوئے عمران خان کی حکومت کو ناکام ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی  کا  زور لگاتے تھے۔    ان کے  اقتدار سنبھالنے کے بعد کیا تبدیل ہؤا؟ بس یہی کہ کل عمران خان دست سوال دراز کرتے تھے اور  مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے لوگ  انہیں ’بھکاری اور منگتا‘ قرار دے کر سیاسی پوائینٹ اسکورنگ کرتے تھے اور اب  یہی کام شہباز شریف کررہے ہیں۔  اور تحریک انصاف کا سوشل میڈیا سیل  بدستور شہباز شریف کو  چور اور مجرم کے علاوہ  بھکاری ہونے کا طعنہ دیتا ہے۔  کیا عمران خان  ساری جد و جہد محض  غیر ملکی امداد مانگنے کا ’حق‘ حاصل کرنے کے لئے  کررہے ہیں؟ معروضی صورت حال  کا مطالعہ کیا جائے تو  حکومت تبدیل ہونے سے  اس رول کی تبدیل کے علاوہ کسی بڑی تبدیلی کا امکان دکھائی نہیں دیتا؟

جہاں تک  ملک میں  کوئی سیاسی  پروگرام نافذ کرنے اور آئینی انتظام  کو  مؤثر کرنے کا معاملہ ہے تو دونوں سیاسی گروہوں  کے نظریات، خیالات اور حکمت عملی میں حیرت انگیز مماثلت تلاش کی جاسکتی ہے۔ کل تک شہباز شریف یہ شکوہ کرتے تھے کہ   ’عمران خان  کو جو حمایت فراہم کی جارہی ہے ، ہمارے ساتھ اگر اس سے کہیں کم تعاون بھی کیا جاتا تو ہم ملک کی تقدیر بدل دیتے‘۔ اب عمران خان  شہر شہر جلسے منعقد کرکے یہی شکایت کررہے ہیں کہ ’اگر آپ غیر جانبداری کا ڈھونگ  نہ کرتے تو تحریک انصاف اب تک پاکستان کی  حالت بدل چکی ہوتی‘۔ جن عناصر سے یہ شکوے کئے جارہے ہیں ، انہیں بخوبی علم ہے کہ ان دونوں سیاسی دھڑوں کے تلوں میں تیل نہیں ہے۔ انہیں بس اقتدار   کا دھوم دھڑکا چاہئے۔ ورنہ معاملات طے کرنے کا اختیار جہاں ہے، وہیں رہے گا۔   حیرت انگیز طور پر بر سراقتدار یا اپوزیشن میں موجود سیاسی دھڑوں کو اس انتظام پر کوئی اعتراض بھی نہیں ہے لیکن عوام کو دھوکہ دینے کے لئے گفتگو میں  ان کے حق حکومت یا حقیقی آزادی کا  تڑکا لگانا ضروری سمجھا جاتا ہے۔

اس سال کے شروع میں  مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کسی ’ناقابل قبول‘  آرمی چیف کے خوف میں متحرک ہوئے تھے اور  اب عمران  خان کو یہی اندیشہ لاحق ہے۔ اس سیاسی کشمکش میں  ملکی فوج  کی دیانت و صلاحیت پر سوال در سوال کھڑے کئے جارہے ہیں۔   کوئی بھی یہ تسلیم کرنے  پر آمادہ نہیں ہے کہ جسے بھی فوج کا سربراہ بنایا جائے ، وہ کسی سیاسی پارٹی کا بھلا چاہنے کی بجائے پہلے اپنے ادارے کے مفاد  کو پیش نظر رکھے گا۔   کوئی بھی آرمی چیف یہ نہیں دیکھتا کہ کس سیاست دان کو فائدہ پہنچانا ہے ، اسے قومی مفاد کے وسیع تر تناظر میں وہی فیصلے کرنا پڑتے ہیں جو مجموعی فوجی قیادت کے خیال میں مناسب اور ضروری ہوں۔ ان فیصلوں کی زد میں کبھی نواز شریف آجاتا ہے اور کبھی عمران خان کو اس کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ اس کے باوجود کوئی سیاست دان یہ ماننے  کے لئے تیار نہیں ہے کہ آئین کی بالادستی اور   حقیقی جمہوری انتظام کا راستہ پارلیمنٹ سے ہوکر گزرتا ہے۔ فوج کا سیاسی اثر و رسوخ اسی وقت کم ہوگا جب سیاست دان آئین کی بالادستی کے ایک نکاتی  ایجنڈے پر متفق ہوکر کام کریں گے۔   ملک کے سیاسی لیڈر ابھی   ایسی بالغ النظری کا مظاہرہ کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔

عمران خان  جلدی میں ہیں۔ حالانکہ  اگر وہ واقعی   عوامی مقبولیت کی بنیاد پر آئیندہ انتخابات جیتنا چاہتے ہیں تو انہیں  اپنی صلاحیت اور وسائل انتخابی مہم کے لئے بچا کر رکھنے چاہئیں۔ انہیں کسی ایسے  فاؤل پلے سے گریز کرنا چاہئے جس  کی وجہ سے کسی بھی ادارے کو انہیں سیاسی مقابلہ  سے آؤٹ  کرنے کا موقع مل سکے۔ لیکن  وہ  ہر حد عبور کرنے پر بضد ہیں اور آرمی چیف کی تقرری سے لے کر انتخابات کی تاریخ تک کا فیصلہ خود ہی کرلینا چاہتے ہیں۔  کاش عمران خان کا کوئی خیر خواہ انہیں سمجھا جاسکتا کہ سیاست میں ایسا ممکن نہیں ہوتا۔   گزشتہ ہفتہ کے دوران عمران خان اور فوجی قیادت میں مفاہمت کی کچھ خبریں سامنے آئی تھیں لیکن اب ان کی عجلت اور باتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کوششیں بار آور نہیں ہوسکیں۔  اندیشہ ہے کہ اگر عمران خان  نے جلدی میں اسلام آباد پر دھاوا بولنے کا فیصلہ کیا تو انہیں  مئی سے بھی بڑی خجالت اور مشکل کا سامنا  نہ کرنا پڑے۔ ملکی سیاست  کے لئے  عمران خان کی قیادت  میں تحریک  انصاف کی قوت بے حد اہم ہے۔ عمران خان کو اسے مناسب وقت  کے لئے محفوظ رکھنا چاہئے۔

 عمران خان کے لب و لہجہ کی تندی  و تیزی اور  احتجاج  کی شدت میں  اضافہ کی حکمت عملی سے  تو یہی لگتا ہے کہ عمران خان سپہ سالار ضرور ہیں لیکن   وہ خود جنگی حکمت  عملی تیار  نہیں کرتے۔ جاننا چاہئے کہ پس پردہ  عمران خان کی جنگ کون لڑنے میں مصروف ہے۔  کیا یہ  جنگجو ان کا دوست ہے یا اپنے کسی  درپردہ مقصد کے لئے  عمران خان کے کاندھے پر  بندوق دھرے ہوئے ہے۔

loading...