کیا مذہب اور بادشاہت کو تاریخ میں جینا چاہئے ؟

آئین، جمہوریت اور انسانی عظمت وقار پر ایمان رکھنے والا کوئی شخص اگر کسی کنگ یا کوئین کی مدح سرائی میں قلم اٹھائے تو بلاشبہ کچھ عجیب ہی نہیں برا سا لگتا ہے۔ لیکن اگر وہی کنگ یا کوئین عوام کو طاقت و اقتدار کا منبع و چشمہ تسلیم کرتے ہوئے ان کی عظمت و خودمختاری کے سامنے سرنگوں ہو جائے تو پھر نفرت حقارت یا بدتمیزی کا کوئی خاص جواز نہیں رہتا۔

 پھر بھی برطانوی بادشاہت کے وجود یا عدم پر بحث ہوتی رہنی چاہئے ۔ برٹش امپیریلزم کی داستان بڑی طویل ہے ۔رومن امپائر کی خاکستر پر برٹش امپائر کیونکر وجود میں آئی اور اس کو دنیا میں کیسا عروج نصیب ہوا، یہ دنیا کی ایسی نادر امپائر بنی کہ کبھی جس پر سورج غروب نہیں ہوتا تھا۔ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سے لےکر کینیڈا اور امریکہ تک دنیا کے چھ براعظموں پر یہ سلطنت چھائی ہوئی تھی۔ بچپنے میں درویش یہ تفاخر نہیں بھولتا تھا کہ ہمارے خلیفہ راشد ثانی کی سلطنت ساڑھے بائیس لاکھ مربع میل پر محیط تھی یا یہ کہ ’’ہماری ‘‘ سلطنت عثمانیہ تین براعظموں میں پہنچ رکھتی تھی۔ یہ کتنی ظالم وحشی اور خون خوار تھی اس کو ہمیشہ گول کر جاتا تھا ۔

جب ذرا بڑا ہوا اور مزید سٹڈی کی تو معلوم ہوا کہ برٹش امپائر تو ساڑھے تین کروڑ مربع میل پر پھیلی ہوئی تھی۔ دنیا کی عظیم الشان تہذیبیں اور ممالک و اقوام اس کے زیر سایہ یا حلقہ بگوش تھے۔ بلاشبہ کچھ زیادتیاں ان کے ہاتھوں بھی سرزد ہوئیں بعد میں آنے والے جن کا اعتراف کرتے ہوئے افسوس کے ساتھ معافی کے خواستگار رہے۔ ناچیز کا انگریز دوست ٹم گرین بتا رہا تھا کہ ہم اپنے بزرگوں کی جارحیت کو اپنی نئی نسلوں کے سامنے خوشنما بنا کر پیش نہیں کرتے بلکہ قبضہ گیری کی مذمت کرتے ہوئے جیسی وہ تھی ویسی ہی پیش کرتے ہیں۔ البتہ درویش یہ واضح کرنا چاہتا ہے کہ اس کی دعائیں ہمیشہ برٹش ایمپائر اور مابعد ریاست ہائے متحدہ کے شامل حال رہیں۔ کیونکہ انہوں نے عالمی تہذیبوں یا دنیا سے جو کچھ لیا اس سے کئی گنا زیادہ انہیں دیا۔ خواہ تہذیب و جمہوریت اور آگہی کی صورت میں یا انفراسٹرکچر کی شکل میں۔

مختصر کالم کا مدعا فوت ہو رہا ہے اس لئے 1215کے میگناکارٹا سے ہوتے ہوئے ہم 8ستمبر یا 18ستمبر پر آتے ہیں۔ میگنا کارٹا وہ گریٹ چارٹر آف ہیومینٹی ہے جس نے ہیومن ہسٹری کو دو حصوں میں بانٹ دیا ہے۔ جو ہیومن رائٹس کا اولین زینہ یا سنگ میل ہے۔ بلاشبہ اتار چڑھاؤ مابعد آئے، کنگ جان ہنری تو اگلےبرس ہی مر گیا لیکن کنگ پر روک لگاتے ہوئے ہاؤس آف لارڈ یا امرا کے راستے دارالعوام یا پارلیمینٹ کی راہیں عوامی اتھارٹی کیلئے کھلتی چلی گئیں ۔ برٹش یا مغرب کو نہ صرف اپنی اقوام بلکہ اقوام عالم کیلئے یہ ابدی اعزاز جاتا ہے کہ انہوں نے پرامن انتقال اقتدار کا نہ صرف سبق پڑھایا بلکہ بالفعل اس حوالےسے رہنمائی فرمائی ۔

آج سےنہ صرف امریکی یا کینیڈین آئین بلکہ دنیا بھر کی آئین سازی میں ہیومن رائٹس یا ہیبیس کارپس کی بدولت کسی بھی انسان کو بلاجواز پکڑا نہیں جائے گا۔ جیسی بنیادیں میگنا کارٹا اور اس کی اپروچ نے پوری دنیا کو فراہم کر رکھی ہیں۔ آج کوئین الزبتھ کو جو عقیدت و سپاس پیش کی گئی ہے، یہ اس کی فوج، توپوں یا تلواروں کے باعث نہیں بلکہ عوام سے محبت و خدمت کی بدولت ہے۔ کنگ چارلس یا پرنس ولیم کی چمک دمک عوام اور پارلیمینٹ کی مرہون منت ہے اور اس کا خاتمہ پارلیمینٹ کے ایک ایکٹ کی مار ہے۔ درویش کو یہ شکایت ضرور ہے کہ برٹش عوام کا پیسہ رائل فیملی پر یوں بے دریغ خرچ نہیں ہونا چاہئے، ان پر بھی ٹیکسز اسی طرح لگنے چاہیں جس طرح عام برٹش عوام پر لگتے ہیں۔ کوئین کی میت کو لے کر بینڈ باجے کےساتھ لندن کی سڑکوں پر یوں مارچ کیا جا رہا تھا جیسے جنازہ نہیں کوئین کی شادی ہو یا تخت پوشی، بیچارے اہل کار سارا دن سڑکوں پر رلتے رہے۔ ایسی لاحاصل نمائش اور عیاشیوں پر پارلیمینٹ کی طرف سے پابندی لگنی چاہئے ۔

دوستوں نے اس حوالے سے پوچھا تو کہا کہ انگریزوں کی ماں مر گئی ہے وہ اسے بڑا کر رہے ہیں۔ ہمارے دیہاتی کلچر میں جب کوئی بزرگ کھا ہنڈا کر اتنی عمر پا کر جائے تو اسے سوگ نہیں بڑا کرنا کہتے ہوئے خوشی کے ساتھ روانہ کیا جاتا ہے۔ اور پھر کوئین الزبتھ نے تو اپنی پیدائش 21اپریل 1926سے لے کر 8ستمبر 2022 تک شاید ہی کوئی صدمہ دیکھا ہو سوائے اس کے کہ 6 فروری 1952کو جب ان کے والد کنگ جارج پنجم کی وفات ہوئی تو ان کی عمر محض پچیس برس تھی۔ یوں اس وقت جب انہیں کوئین بنایا گیا تو 32ریاستوں کی ملکہ تھیں جن میں ہمارا پیارا ملک پاکستان بھی شامل تھا۔ اور آج جب فوت ہوئی ہیں تو 15 ریاستوں کی آئینی سربراہ تھیں۔ ان کی والدہ محترمہ جنہیں مادر ملکہ کے نام سے یاد کیا جاتا تھا ایک سو دو برس زندہ رہیں۔ ان کے شریک حیات پرنس فلپ جن سے انہوں نے عشقیہ یا من پسند شادی کی تھی ایک برس قبل 99سال کی عمر میں دنیا سے سدھارے۔ واضح رہے کہ یہ ہمارے وائسرائے ہند لارڈ مائونٹ بیٹن کے بھانجے تھے۔

 کوئین الزبتھ کی نسبت کوئین وکٹوریہ نے زیادہ دکھ یا محرومیاں دیکھیں۔ شاید اسی لئے وہ نسبتاً زیادہ سخت طبع ہو گئی تھیں ۔ 8 ستمبر کو جب کوئین الزبتھ دوئم کے انتقال کی خبر سنی تو ناچیز نے فیس بک پر ان کی تصویر لگاتے ہوئے شاعر مشرق حضرت علامہ اقبال کو بہت یاد کیا کہ اگر وہ آج زندہ ہوتے تو ضرور اس طرح کا طویل مرثیہ تحریر فرماتے جو انہوں نے 22جنوری 1901کو کوئین وکٹوریہ کی وفات پر لکھا، خاص مجلس میں پڑھا اور ایک ادبی میگزین میں چھپوایا۔ ہمارے سطح بین لوگوں کو اس حوالے سے بڑی حیرت ہوتی ہے کہ علامہ اقبال ایک طرف فرنگی کے خلاف قوم کو ابھارتے رہے اور دوسری طرف ان کے قصیدے یا مرثیے بھی لکھتے رہے۔ اگرچہ یہ بحث ایک الگ آرٹیکل کی متقاضی ہے پھر بھی یہ عرض ہے کہ ہماری اس معصوم قوم کے سامنے مطالعہ پاکستان گھڑنے والوں نے شدید زیادتی کر رکھی ہے۔ انہوں نے قسم اٹھا رکھی ہے کہ قوم کے سامنے کبھی سچائی نہیں آنے دینی۔ ہر ہر چیز میں چاہے کوئی کارن نہ بھی ہو جھوٹ ہی بولنا ہے جھوٹ ہی لکھنا اور چھاپنا ہے۔ چاہے وہ سرسید ، جناح اور اقبال جیسے باصلاحیت لوگ ہی کیوں نہ ہوں انگریز ہوں یا برٹش سرکار ہمارے یہ ہر سہہ قائدین ہمیشہ ان کی خوبیوں کے قائل اور مداح رہے۔

loading...