استعفوں سے متعلق آڈیو لیک کی تحقیقات کیلئے تحریک انصاف کا عدالت سے رجوع

  • ہفتہ 01 / اکتوبر / 2022

پاکستان تحریک انصاف نے پارٹی استعفوں سے متعلق وزرا کی آڈیو لیک پر تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ سے جوڈیشل کمیشن بنانے کی درخواست کی ہے۔

استعفوں سے متعلق زیر التوا مقدمے میں پی ٹی آئی کی جانب سے دائر درخواست میں اسپیکر قومی اسمبلی اور دیگر اراکین کو فریق بنایا گیا جبکہ درخواست کے ساتھ آڈیو لیکس کا ٹرانسکرپٹ بھی لگایا گیا ہے۔ درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی وزرا نے اسپیکر کے ساتھ مل کر پی ٹی آئی استعفوں سے متلعق فوج داری سازش کی۔

درخواست میں استدعا کی گئی کہ پی ٹی آئی استعفوں سے متعلق آڈیو لیک کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیشن تشکیل دیا جائے۔ انکوائری کمیشن وزیراعظم شہباز شریف ، رانا ثنا اللہ، اعظم نذیر تارڑ، خواجہ آصف اور اسپیکرقومی اسمبلی راجا پرویز اشرف سے تحقیقات کرے، تمام فریقین کے خلاف سازش پر فوجداری کارروائی شروع کی جائے۔

بعدازاں اس حوالے سے پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے اپنی ٹوئٹ میں کہا ہے کہ تحریک انصاف نے استعفوں سے متعلق وزراء کی گفتگو کی آڈیولیکس کا اسکرپٹ سپریم کورٹ میں جمع کرواُ دیا ہے۔ اب یہ لیکس سپریم کورٹ کے سامنے ہیں۔ ایک تو سپریم کورٹ ان لیکس کے بعد تحریک انصاف کے 11 اراکین کے استعفوں کے معاملے پر فیصلہ کرے اور اس سے زیادہ اہم یہ کہ ان لیکس کی تحقیقات کا حکم دے۔

خیال رہے کہ تحریک عدم اعتماد کے ذریعے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی بطور وزیر اعظم برطرفی کے بعد پی ٹی آئی ارکان اسمبلی نے 11 اپریل کو قومی اسمبلی سے اجتماعی طور پر استعفیٰ دے دیا تھا۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے وزیراعظم کی مبینہ آڈیو لیک سامنے آنے کے بعد وزرا، حکمراں اتحاد کے رہنماؤں اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی بھی مبینہ آڈیو کلپس منظر عام پر آ چکی ہیں۔

 سلامتی کے اجلاس میں آڈیو لیکس کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی تشکیل دینے کی منظوری بھی دے دی گئی ہے۔

loading...