مشہور جاپانی پہلوان انوکی وفات پا گئے

  • ہفتہ 01 / اکتوبر / 2022

ریسلنگ کی دنیا کے عظیم ترین پہلوانوں میں سے ایک جاپانی پروفیشنل ریسلنگ سٹار محمد حسین انوکی سنیچر کو 79 برس کی عمر میں ٹوکیو میں وفات پا گئے۔

انتونیو انوکی کے نام سے مشہور پہلوان کی وفات کا اعلان ان کی کمپنی نے ٹوئٹر پر کیا۔ اس میں لکھا ہے کہ 'نیو جاپان پرو ریسلنگ اپنے بانی انتونیو انوکی کی وفات پر شدید غمزدہ ہے۔ پروفیشنل ریسلنگ اور عالمی برادری میں ان کی کامیابیاں بے مثال ہیں اور کبھی بھی بھلائی نہیں جائیں گی۔' پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بھی ان کی وفات پر اظہارِ تعزیت کیا ہے۔

انوکی 60 کی دہائی میں جاپان کی پروفیشنل ریسلنگ کے سب سے بڑے ناموں میں سے ایک بن کر ابھرے تھے۔  1976 میں اُنہوں نے باکسنگ لیجنڈ محمد علی کے ساتھ مکسڈ مارشل آرٹس مقابلے میں حصہ لیا تو اسے 'صدی کا سب سے بڑا مقابلہ' قرار دیا گیا۔ 15 راؤنڈز تک جاری رہنے والا یہ مقابلہ برابر رہا تھا تاہم اسے جدید مکسڈ مارشل آرٹس کی بنیاد ڈالنے والا مقابلہ قرار دیا جاتا ہے۔

اس کے بعد جون 1979 میں اکرم پہلوان کے بھتیجے جھارا پہلوان اور انوکی کے درمیان لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں مقابلہ ہوا جس میں جھارا پہلوان نے انوکی کو شکست دی۔ بعد میں انوکی جھارا پہلوان کے بھتیجے اور اسلم پہلوان کے پوتے ہارون عابد کو اپنے ساتھ جاپان لے گئے تاکہ وہ وہاں تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ پہلوانی کی تربیت بھی حاصل کر سکیں۔

اُنہوں نے جاپانی پارلیمان کے ایوانِ بالا میں 1989 میں نشست بھی جیتی اور اگلے برس وہ خلیجی جنگ کے دوران عراق گئے اور صدام حسین سے جاپانی یرغمالیوں کی رہائی کی استدعا کی جنہیں رہا کر دیا گیا۔ عراق کے دورے کے دوران ہی اُنہوں نے اسلام قبول کر لیا تھا۔ پریس ٹی وی سے گفتگو میں اُنہوں نے کہا تھا کہ اُنہوں نے کربلا کی زیارت کے دوران اسلام قبول کیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ وہ کربلا کی مقدس تقریبات اور امن کے تصور سے اتنے متاثر ہوئے کہ جب اُنہیں کہا گیا کہ آپ مسلمان ہو جائیں تو وہ ہو گئے۔

loading...