سائفر سے متعلق عمران خان کی دوسری آڈیو لیک

  • ہفتہ 01 / اکتوبر / 2022

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیرِاعظم عمران خان کی سفارتی مراسلہ کے بارے میں ایک اور آڈیو لیک سامنے آئی ہے۔

سائفر سے متعلق لیک ہونے والی اس مبینہ آڈیو میں عمران خان، شاہ محمود قریشی، اسد عمر اور اعظم خان کے درمیان گفتگو سنی جاسکتی ہے۔ آڈیو میں عمران خان کہہ رہے ہیں کہ ’اچھا شاہ جی ہم نے کل ایک میٹنگ کرنی ہے، آپ نے، ہم تینوں نے اور وہ فارن سیکریٹری نے، اس میں ہم نے کہنا ہے کہ وہ جو لیٹر ہے نا اس کے چپ کرکے کے منٹس اپنے پاس لکھ لینے ہیں‘۔

عمران خان کو اس مبینہ آڈیو میں کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ ’اعظم کہہ رہا ہے اس کے منٹس بنا لیتے ہیں۔ نہیں اسے فوٹو اسٹیٹ کرا لیتے ہیں‘۔ آڈیو میں اعظم خان کہتے ہیں کہ ’یہ سائفر آٹھ، نو کو آیا ہے۔ آٹھ کو آیا‘۔ جس کے بعد عمران خان مبینہ آڈیو میں کہہ رہے ہیں کہ  لیکن میٹنگ تو سات کو ہوئی ہے۔ ہم نے تو کسی صورت بھی امریکیوں کا نام لینا ہی نہیں ہے۔ لہٰذا اس معاملے پر براہ مہربانی کسی کے منہ سے ملک کا نام نہ نکلے۔

یہ بہت اہم ہے آپ سب لے لیے، کہ کس ملک سے لیٹر آیا ہے؟ میں کسی کے منہ سے اس کا نام نہیں سننا چاہتا۔ اس موقع پر اسد عمر کی آواز سنی جاسکتی ہے، جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ ’ آپ جان بوجھ کر لیٹر کہہ رہے ہیں؟ یہ لیٹر نہیں ہے میٹنگ کی ٹرانسکرپٹ ہے‘۔

اس پر عمران خان کہتے ہیں ’وہی ہے نا، میٹنگ کی ٹرانسپکرپٹ ہے، ٹرانسکرپٹ یا لیٹر ایک ہی چیز ہے۔ لوگوں کو ٹرانسکرپٹ کی تو سمجھ نہیں آنی تھی ناں، آپ عوامی جلسے میں ایسے ہی کہتے ہیں‘۔

اس دوران کابینہ نے اعلان کیا ہے کہ وزیر اعظم ہاؤس سے واشنگٹن سے بھیجا جانے والے سائفر کی اصل کاپی غائب ہے۔ اب اس معاملہ کی تحقیقت کی جارہی ہیں۔ حکومت اسے مجرمانہ فعل قرار دے رہی ہے۔

loading...