نیب ترامیم پر قومی اسمبلی میں سوال کیوں نہیں اٹھایا: سپریم کورٹ

  • بدھ 05 / اکتوبر / 2022

قومی احتساب بیورو کے قانون میں ترامیم کے خلاف چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی درخواست پر سماعت کے دوران جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے ہیں کہ نیب ترامیم پر تمام سوالات عمران خان اسمبلی میں بھی اٹھا سکتے تھے۔

‏سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کے خلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی۔  ‏چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ کیس کی سماعت کر رہا ہے۔ ‏جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منصور علی شاہ بھی بینچ کا حصہ ہیں۔

دوران سماعت ‏چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل خواجہ حارث کے دلائل دیے جب کہ نیب نے اٹارنی جنرل کا مؤقف اپنانے کی درخواست جمع کرائی۔ عمران خان کے وکیل نے کہا کہ نیب قانون کو مضبوط کرنے کے بجائے حالیہ ترامیم سے غیر مؤثر کیا گیا۔ ماضی میں سپریم کورٹ کرپشن کو ملک کے لیے کینسر قرار دے چکی ہے، احتساب کے جتنے بھی قوانین آئے عوامی عہدیداروں کو استثنیٰ نہیں دیا گیا۔

جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ پارلیمان نیب کے قانون کو ختم کردے تو عدالت کیا کرسکتی ہے۔ کیا عدالت نے کبھی ختم کیے گئے قانون کو بحال کرنے کا حکم دیا جس پر خواجہ حارث نے جواب دیا کہ 1990میں ختم کیے گئے قانون کو عدالت نے بحال کیا تھا۔ عوامی عہدیدار ہونا ایک مقدس ذمہ داری ہوتی ہے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ عدالت اور پارلیمان آئین اور شریعت کے تابع ہے، احتساب اسلام کا بنیادی اصول ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے وکیل سے سوال کیا آپ نیب ترامیم کو سپریم کورٹ میں لائے ہیں، بہتر نہیں تھا آپ کے مؤکل (عمران خان) پارلیمنٹ پر اعتماد کرتے؟ جس پر خواجہ حارث نے جواب دیا کہ یہ ایک سیاسی فیصلہ تھا۔ میں اس میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔

loading...