نئے آرمی چیف کے لیے کوئی نام فائنل نہیں ہؤا : وزیرِ دفاع

  • بدھ 05 / اکتوبر / 2022

پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ نئے آرمی چیف کی تقرری کے لیے وزیرِ اعظم پاکستان کے پاس پانچ سینئر ترین جنرلز کے نام آتے ہیں۔ لیکن ماضی میں یہ مثالیں بھی موجود رہی ہیں کہ اس عہدے پر الگ سے بھی تقرری ہوتی رہی ہے۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے نومبر میں اپنے عہدے سے سبکدوش ہونے کے عندیے پر خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اس سے آرمی چیف کی تقرری کے معاملے پر حالیہ عرصے میں پیدا ہونے والا ابہام ختم ہو جائے گا۔ اسلام آباد میں بدھ کو نیوز کانفرنس کے دوران خواجہ آصف نے کہا کہ نئے آرمی چیف کی تقرری کا عمل رواں ماہ کے اواخر یا آئندہ ماہ کے آغاز میں شروع ہو جائے گا۔ لیکن تاحال ابھی اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔

وزیرِ دفاع کا نئے آرمی چیف کی تقرری پر یہ بیان ایسے موقع پر آیا ہے جب پاکستان کے سرکاری ٹی وی پی ٹی وی نے بدھ کو رپورٹ کیا تھا کہ امریکہ کے دورے پر موجود آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے واشنگٹن ڈی سی میں غیر رسمی گفتگو کے دوران اپنی مدتِ ملازمت مکمل ہونے پر سبکدوش ہونے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اُن کی ذاتی رائے ہے کہ کوئی بھی تھری سٹار جنرل آرمی چیف کے عہدے کے لیے اہل ہوتا۔ لیکن جن ناموں کی جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) اور وزارتِ دفاع کی جانب سے سفارش کی جاتی ہے، ان کی اپنی اہمیت ہوتی ہے۔ کیوں کہ یہ نام مختلف مراحل سے گزر کر سامنے آتے ہیں، تاہم پھر بھی حتمی فیصلے کا اختیار وزیرِ اعظم کے پاس ہی ہوتا ہے۔

loading...