پاکستان کی ممنوعہ تاریخ

جس ملک اور معاشرے میں سوال پوچھنے پر بندش نہ ہو، سوال پوچھتے ہوئے کسی قسم کا ڈر محسوس نہ ہوتا ہو، ایسا ملک ذہین لوگوں کا ملک ہوتا ہے۔ ایسے ملک میں لوگ بہت کچھ جانتے ہیں اور بہت کچھ جاننے کے لئے ان پر کسی قسم کی بندش نہیں ہوتی۔

ایسے ملک میں رہنا، جینا اور مرنا اچھا لگتا ہے۔ کچھ پوچھتے ہوئے خدشہ محسوس نہیں ہوتا کہ سوال پوچھتے ہی آپ کفر، الحاد اور غداری کے الزام کے تحت دھر لئے جائیں گے۔ کرہ ارض پر ایسے ممالک کی کمی نہیں ہے۔ مجھے یاد نہیں پڑتا کہ میں نے ایسے دور کی جھلک اپنے ملک میں کبھی دیکھی ۔ انیس سو پچاس کی دہائی میں ہم نے لیڈر صاحبان کے منہ سے دو باتیں برملا سنی تھیں۔ وہی دو باتیں لیڈر صاحبان اپنے جلسے جلوسوں میں دہراتے رہتے تھے۔ وہ دو باتیں تھیں، پاکستان اپنے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے اور اسلام خطرے میں ہے۔ اپنی دونوں باتوں کو سچ ثابت کرنے کیلئے لیڈر صاحبان دلیلوں سے لیس رہتے تھے۔

ہندوستان کے بٹوارے اور پاکستان کے عالم وجود میں آنے سے پہلے برصغیر میں ہندو اور مسلمان ایک ساتھ رہتے تھے۔ تب ہندوستان کے کسی کونے سے، اسلام کے لئے خطرے کی گھنٹیاں بجتی ہوئی سنائی نہیں دیتی تھیں۔ ہم مسلمانوں نے پانچ سو برس ہندوستان پر حکومت کی تھی۔ اس عرصہ میں مسلمانوں کے

خلاف ہندوستان چھوڑنے کے نعرے بلند نہیں ہوئے تھے۔ میں آج کل کے فرمانرواؤں کے بنائے ہوئے قاعدے قانون سے نابلد ہوں۔ میں نہیں جانتا کہ تاریخ پر سیر حاصل باتیں کرنے کی اجازت ہے یا کہ نہیں ہے۔ اپنی لاعلمی کی وجہ سے میں نے بڑی ٹھوکریں کھائی ہیں۔ میں کبھی بھی شہ سوار نہیں رہا ہوں۔ میں نے جنگ کا میدان بھی نہیں دیکھا ہے۔ مگر اپنی جہالت اور بے خبری کی وجہ سے بری طرح گرتا رہا ہوں۔ اگر آج کے حاکموں نے تاریخ پر تنقیدی نظر ڈالنے پر پابندی ڈال رکھی ہے، تو پھر آج فقیر کے ساتھ کچھ اچھا ہونے والا نہیں ہے۔
اپنے خدشے کا اظہار میں نے اس لئے کیا ہے کہ جس دورِ رفتہ کا میں نے حوالہ دیا ہے، اس دور میں خاص طور پر تاریخ پر کسی قسم کی تحقیق یا چھان بین کی اجازت نہیں تھی۔ فرمانرواؤں سے ملک تو چلتا نہیں تھا۔ ہفتے ڈیڑھ ہفتے کے بعد وزیراعظم بدل دیے جاتے تھے۔ گونا گوں مسائل سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لئے حاکموں نے عوام کا نفسیاتی استحصال کر رکھا تھا۔ لوگ کچھ پوچھنا چاہتے، لوگ کچھ جاننا چاہتے تو ان کو یہ کہہ کر ششدر کر دیا جاتا تھا، کہ خاموش رہو۔ کچھ مت پوچھو۔ پاکستان اپنے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے اور اسلام خطرے میں ہے۔ مگر حقیقت اس کے برعکس تھی اور آج تک برعکس ہے۔

پاکستان میں کبھی اسلام خطرے میں نہیں تھا اور نہ آج خطرے میں ہے۔ پچھتر برس کی تاریخ میں کبھی آپ نے سنا ہے کہ کوئی مسلمان اپنا عقیدہ چھوڑ کر کسی دوسرے عقیدہ کا معتقد بن گیا ہو؟ اسی طرح ہم پچھتربرس کی تاریخ میں اپنی نااہلی، نالائقی اور بدکرداری کی وجہ سے مصیبتوں کے بھنور کی بھینٹ چڑھتے رہے ہیں۔ اپنی اندرونی ناانصافیوں، بدگمانیوں اور تعصب کی وجہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتے رہے ہیں۔ حاکم جان بوجھ کر پاکستان کو نازک ترین دور کی دلدل میں دھکیلتے رہے ہیں۔ ان تکلیف دہ دنوں میں تاریخ پر کسی قسم کی بات چیت نہیں ہو سکتی تھی۔ مجھے خوش فہمی ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے دور میں کوئی اپنی تاریخ کی پردہ پوشی نہیں کر سکتا۔ دنیا کے ایک ایک انچ کا جائزہ لیا جا چکا ہے۔ نقشے بنا کر انٹرنیٹ پر ڈال دیے گئے ہیں۔ اگر آپ سفر میں ہیں، تو پھر آپ کو راستوں اور منزل ِمقصود کے بارے میں کسی سے کچھ پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ انٹرنیٹ پر، راستوں، فاصلوں، رہائش گاہوں، ہوٹلوں، دفتروں اور چھوٹے بڑے اداروں، ندی نالوں، سمندروں اور پہاڑوں کے بارے میں مستند معلومات مل جاتی ہیں۔

میرے کہنے کا مطلب ہے کہ انیس سو پچاس اور آج کے دور میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ تب طلبا کو یہ نہیں بتایا جاتا تھا کہ ہم نے ہندوستان پر پانچ سو برس حکومت کی تھی۔ ہم کبھی بھی راجاؤں اور مہاراجاؤں کے ماتحت نہیں رہے تھے۔ ہم ہندوستان کے حاکم تھے، برے تھے بھلے تھے، مگر ہندوستان کی حکومت ہم سے رانا پرتاب سنگھ، چندر گپت موریا، اشوک اور پرتھوی راج چوہان نے نہیں چھینی تھی۔ ہندوستان کی حکومت ہم سے انگریز نے چھینی تھی۔ ہم سے حکومت چھین کر انگریز نے دو ڈھائی سوبرس ہندوستان پر حکومت کی تھی۔ حکومت گنوانے کے بعد ہم چپ سادھ کر بیٹھ گئے تھے۔

ہندوستان پر انگریز کی دو سو سالہ حکومت کی تاریخ پڑھ کر دیکھیں۔ آپ حیران رہ جائیں گے۔ اتنی بڑی حکومت گنوانے کے بعد ہم نے کبھی انگریز کے خلاف بغاوت نہیں کی۔ کوئی تحریک نہیں چلائی۔ انڈیا چھوڑو کا شور وغوغا بلند نہیں کیا۔ ہم نے صرف یہ کیا کہ انگریزی زبان اور انگریزی زبان میں لکھے ہوئے علوم کا دوسو برس بائیکاٹ کیا۔ اس کے برعکس ہندوستان کے اپنے اصلی نسلی اور موروثی لوگوں نے دو طرح کے رویے اپنائے۔ ایک تو انہوں نے انگریزی اور انگریزی میں لکھے ہوئے علوم اپنائے اور دوسری طرف انہوں نے انگریز کو ہندوستان سے بے دخل کرنے کے لئے ملک گیر تحریک چلادی۔

جیتی ہوئی دوسری جنگ عظیم نے انگریز کی کمر توڑ کر رکھ دی تھی۔ اوپر سے ہندوستان کی بغاوت نے ان کو زچ کر دیا تھا۔ مسلم لیگ کے مطالبے کو مان دیتے ہوئے انگریز نے ہندوستان چھوڑتے ہوئے اس کا بٹوارا کر دیا۔ دو ممالک وجود میں آئے۔ ایک ملک اعلیٰ تعلیم اور ٹیکنالوجی میں بہت آگے اور دوسرا بہت پیچھے تھا۔
(بشکریہ:روزنامہ جنگ)

loading...