کشمیر کی عید گاہ ہی کیوں؟

سری نگر کا عید گاہ میدان اس وقت سے موضوع بحث بنا ہوا ہے جب سے یہاں پر کینسر ہسپتال بنانے کے منصوبے کا ارادہ ظاہر کیا گیا ہے۔ 650 کنال پر مشتمل یہ میدان تاریخی اور مذہبی اہمیت کا حامل ہے، جہاں لاکھوں کی تعداد میں لوگ عید کی نماز پڑھنے آتے ہیں۔

30 برس سے جاری عسکری تحریک کے دوران ہلاک کیے جانے والے ایک ہزار سے زائد لوگوں کو عید گاہ کے ایک حصے میں دفن کیا گیا ہے، عوام نے اس کا نام ’شہید مزار‘ رکھا ہے۔ یہاں کئی صدیوں پرانی ایک تاریخی مسجد بھی قائم ہے۔ اس کے علاوہ مقامی نوجوانوں کے لیے کرکٹ کھیلنے کے لیے جگہ مختص ہے، جبکہ چند برس پہلے مقامی حکومت نے ایک حصے پر چھوٹا پارک بھی بنایا تھا۔

حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی مقامی رہنما اور کشمیر کے وقف بورڈ کی سربراہ درخشاں اندرابی نے حال ہی میں ایک بیان میں کہا کہ وہ عید گاہ کے کچھ حصے پر کینسر ہسپتال قائم کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہیں، جس کا سنگ بنیاد ڈالنے کے لیے انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو دعوت بھیجی ہے۔ خیال کیا جا رہا تھا کہ امت شاہ کے حالیہ دورہ کشمیر کے دوران وہ اس کا سنگ بنیاد رکھیں گے یا اس پر کوئی بیان دیں گے لیکن ایسا نہیں ہوا۔

نیشنل کانفرنس کے ایک سینیئر رہنما کہتے ہیں کہ ’بی جے پی اصل میں کشمیر کی تحریک سے متعلق وہ ساری علامات ختم کرنا چاہتی ہے جس سے یہاں کے مسلمانوں کی جذباتی وابستگی ہے۔ عیدگاہ محض نماز پڑھنے کی جگہ ہی نہیں بلکہ اس مقام پر بڑے علما اور مشائخ نے تاریخ رقم کی ہے۔ بی جے پی کا مقصد کشمیر کی مسلم شناخت اور اس سے جڑی تمام علامات کو مٹانا ہے۔‘

عوام کے بڑے حلقے میں اس بات پر کافی تشویش پائی جاتی ہے کہ ’شہید مزار‘ کی اہمیت کو ختم کرنا بی جے پی کی پہلی ترجیح ہو گی اور کینسر ہسپتال کی تعمیر کا شوشہ چھوڑ کر وہ اپنے ایجنڈا پر پردہ ڈالنا چاہتی ہے۔ پی ڈی پی کی رہنما محبوبہ مفتی نے مشورہ دیا تھا کہ بمنہ سے ملحق علاقے ٹٹو گراؤنڈ میں ہسپتال قائم کیا جا سکتا ہے، اگر واقعی ہسپتال بنانا ہے تو۔ مگر انسانی حقوق کے بعض کارکنوں نے کہا کہ سری نگر میں پہلے ہی دو ہسپتال کینسر کے مریضوں کے لیے موجود ہیں اور دوسرے اضلاع میں اس سہولت کی شدید کمی محسوس کی جا رہی ہے، جس پر وقف بورڈ کو توجہ دینی چاہیے۔

عیدگاہ کی زمین کشمیر میں بانیِ اسلام میر سید علی ہمدانی کے صاحبزادے میر محمد ہمدانی نے 15ویں صدی میں خرید کر مسلمانوں کو نماز پڑھنے کے لیے وقف کی تھی، جہاں مورخین کے مطابق حضرت شیخ حمزہ اور شیخ العالم نے خطبات دیے تھے۔ ڈوگرہ مہاراجہ کے خلاف 1931 کی تحریک کے دوران یہ زمین کا ٹکڑا مزاحمت کا بڑا مرکز بنا تھا، جس کی اہمیت عسکری تحریک کے جلسوں اور ریلیوں کے دوران مزید گہری ہو گئی۔

اس کے عقب میں ’شہید مزار‘ میں میر واعظ کشمیر مولوی محمد فاروق اور حریت رہنما عبدالغنی لون کے علاوہ سینکڑوں مشہور عسکریت پسندوں کو لاکھوں کی موجودگی میں دفن کیا گیا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکن رمیز رینہ کہتے ہیں کہ ’بی جے پی نے لال چوک کی ہیت بھی تبدیل کر دی، جو کشمیر کی تاریخ کا ایک بڑا مرکز رہا ہے۔ لگتا ہے کہ بی جے پی مسلم علامات کو ختم کرکے ہندو دور کے نشانات تلاش کرنے لگی ہے۔‘

اس حقیقت سے انکار نہیں کہ جموں و کشمیر میں حالیہ چند برسوں میں سرطان کے مریضوں کی تعداد میں کافی اضافہ ہو رہا ہے۔ وادی کے چند ہسپتالوں میں اتنی سہولیات میسر نہیں کہ سب کا علاج و معالجہ کیا جا سکے، اکثر مریض دلی یا انڈیا کی دوسری ریاستوں کا رخ کرتے ہیں، جس پر کافی پیسہ خرچ کرنا پڑتا ہے، جو عام لوگوں کی بساط سے باہر ہے۔ سرطان کے ہسپتال کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے اور اگر اس کا قیام سری نگر کے بجائے اس کے مضافات میں کیا جائے گا تو اس کی سہولیات دور دراز علاقوں میں رہنے والوں کو بھی میسر ہو سکتی ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق کشمیر میں اس وقت 27 ہزار سے زائد افراد کینسر کے مرض میں مبتلا ہیں۔ شمالی کشمیر کے تین اظلاع کپواڑہ، بارہ مولہ اور بانڈی پورہ میں ان مریضوں کی بڑی تعداد ہے جنہیں ہر حالت میں علاج کے لیے سری نگر آنا پڑتا ہے۔ شمالی کشمیر کے کئی سماجی کارکنوں نے بارہا حکومت سے یہاں کینسر ہسپتال قائم کرنے کی درخواست کی جو اب تک کسی نے نہیں سُنی۔ اب جبکہ وقف بورڈ نے عید گاہ میں ہسپتال قائم کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے تو شمالی کشمیر میں یہ ہسپتال قائم کرنے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے، جس میں سیاست دانوں کی آوازیں بھی شامل ہو رہی ہیں۔

بی جے پی کے زیر کنٹرول وقف بورڈ نے زیارت گاہوں میں سیاست دانوں کی دستار بندی اور مجاورں کی جانب سے عطیات کی بندر بانٹ پر پابندی عائد کر دی ہے۔ عوام کے بعض حلقوں نے اسے سراہا ہے مگر عید گاہ کے مقام پر ہسپتال بنانے کے منصوبے پر بیشتر لوگ اسے بی جے پی کے ہندوتوا ایجنڈا سے جوڑ رہے ہیں۔ گو کہ وقف کی سربراہ کشمیری خاتون درخشاں اندرابی ہیں۔

ایک سرکردہ سوشل ایکٹوسٹ نے حال ہی میں سوشل میڈیا کی ایک سپیس میں کہا کہ ’بی جے پی نے درخشاں اندرابی کو پاکستان نواز رہنما آسیہ اندرابی کے مقابلے میں کھڑا کیا ہے لیکن شبیہ بہرحال مسلمانوں کی ہی متاثر ہو رہی ہے، مسلمان ہی بٹ رہے ہیں، پس رہے ہیں اور پھر رونا بھی رو رہے ہیں۔‘

(بشکریہ: انڈی پنڈنٹ اردو)

loading...