ہم کبھی ایسے تو نہیں تھے!

جب تک دم میں دم ہوتا ہے، جب تک ہم زندہ ہوتے ہیں تب تک کبھی دکھ، کبھی سکھ ملتے رہتے ہیں۔ کبھی خوشی ، کبھی غم ملتے رہتے ہیں۔ کبھی ہار، کبھی جیت سے واسطہ پڑتا رہتا ہے۔ اسی کو زندگی کہتے ہیں۔

اس موضوع پر، اس نوعیت کے موضوعات پر نہ جانے کب سے لیکچرز دینے کا سلسلہ شروع کیا۔ نہ جانے کب سے لیکچر سن رہے ہیں۔ نام کماتے رہےمگر اپنی قوتِ برداشت ، بل، شکتی کی توانائی کا پتہ تب چلتا ہے جب پریشانیوں کی برق اپنے آپ ہم پر پڑتی ہے۔ دیا ہوا اورسنا ہوا ایک بھی لیکچر کام نہیں آتا اورسب کچھ بے معنی لگنے لگتا ہے۔ روح فرسا آزمائش سے گزرتے ہوئے پتہ چلتا ہے کہ دوسروں کو سنائی ہوئی باتوں پر خود عمل کرکے دکھانا کس قدرامکان سے باہر ہوتا ہے۔

آئین میں سب کچھ لکھا ہوا نہیں ہوتا۔ آئین میں یہ لکھا ہوا نہیں ہے کہ آپ جب کشمکش حیات سے گزر رہے ہوں تو ڈاکٹر آپ کا طبی معائنہ کرنے گھر پر آئے۔ کوئی ڈاکٹر گھر پر مریض کو دیکھنے نہیں آتا بلکہ گھر پر مریض کو دیکھنے کے لئے آمادہ نہیں ہوتا۔ اس میں ڈاکٹروں کا قصور نہیں ہے۔ ڈاکٹر تین چار اسپتالوں میں کنسلٹیشن دیتے ہیں۔ کنسلٹیشن کا نعم البدل آپ کو اردو، سندھی، پنجابی، پشتو بلکہ کسی زبان میں نہیں ملے گا۔ صبح کسی ایک اسپتال میں مریضوں کو دیکھتے ہیں۔ دوپہر کو کسی دوسرے اسپتال میں مریض دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ شام کسی تیسرے اسپتال میں اور شام کے بعد رات میں کسی چوتھے اسپتال میں نیکی کا کام کررہے ہوتے ہیں۔

ان کی کنسلٹیشن فیس کااندازہ صرف وہ لوگ لگا سکتے ہیں جن کا واسطہ کنسلٹنٹ ڈاکٹروں سے پڑتا ہے۔ ایسے میں وہ آپ کو دیکھنے کے لئے گھر پر نہیں آسکتے۔ مریض کو اسپتال لے آؤ۔ آپ منتیں کرتے رہیں کہ سر! مریضہ بیاسی برس کی ہیں۔ آرتھرائیٹس کی وجہ سے چل پھر نہیں سکتی۔ مشورہ دیتے ہیں کہ ایمبولنس میں ڈال کر لے آؤ، مجھے دکھا کر اسپتال میں داخل کروانا یا واپس گھر لے جانا۔ آپ اپنا سا منہ لے کر رہ جاتے ہیں۔ آئین آپ کو ایک مریض کو دیکھنے کے لئے ڈاکٹر کے گھر پر آنے کی گارنٹی نہیں دیتا۔

ہندوستان کے دو لخت ہونےسے پہلے بھی انگریز کے آئین میں کہیں یہ نہیں لکھا ہوا تھا کہ مریض کی بنیادی تشخیص کرنے کے لئے ڈاکٹر آپ کے گھر آئیں گے۔ مگر ڈاکٹر آتے تھے، وہ فیملی ڈاکٹر کہلواتے تھے۔ کچھ عرصہ بعد فیملی کے لوگ ڈاکٹر سے مانوس ہوجاتے تھے۔ ڈاکٹر ان کو گھر کا فرد محسوس ہوتا تھا۔ اب مجھے یہ مت بتایئے گا کہ یورپ اور امریکہ میں ڈاکٹر کسی مریض کی بنیادی تشخیص کرنے مریض کے گھر نہیں جاتے۔ وہ ترقی یافتہ ممالک ہیں۔ ان کا نظام حیرت انگیز طور پر فول پروف ہے۔ یعنی غلطیوں سے مبرا ہے۔ میں مانتا ہوں کہ انسان ہونے کے ناطے، یورپ، امریکہ ، آسٹریلیا وغیرہ میں بھی چھوٹی موٹی غلطیاں ہوتی ہوں گی مگرفاش نہیں۔ کوئی وجہ تو ہے کہ پڑھے لکھے لوگ جوق در جوق یورپ، امریکہ، آسٹریلیا اور کینیڈا کا رُخ کرتے ہیں اور پھر وہیں کے ہوکر رہ جاتے ہیں۔ کیوں اعلیٰ دماغ ہمیں چھوڑ کر چلے جاتے ہیں اور پردیس کو اپنا وطن بنالیتے ہیں؟ کچھ توہے کہ جس کی ہم پردہ داری کرتے رہتے ہیں۔

ٹھاننے والوں نے روزِ اول سے ٹھان رکھا تھا کہ وہ ہمارے معاشرے کو مختلف مہلک قسم کے امراض میں مبتلا کردیں گے۔ انہوں نےبڑی کامیابی سے ہمارے معاشرے کو انسانیت سے قریب تر کرنے والے اوصاف اور خوبیوں سے محروم کردیا ہے۔ عدم تحمل، عدم برداشت اور ناروا داری نے ہمارے معاشرے کو کھوکھلا کردیا ہے۔ اسی معاشرے میں کچھ عرصہ پہلے تک مسلمان، مسیحی ، ہندو، سکھ، پارسی، یہودی ، بدھ مت کو ماننے والے صدیوں سے ایک ساتھ رہتے تھے۔ ایک دوسرے کی عبادت گاہوں کا احترام کرتے تھے۔ کسی کو مسجد، مندر، گرجا، سیناگاگ، گروددوارے جانے اور عبادت کی روک ٹو ک نہیں تھی۔ مختلف عقائد کے لوگ ایک دوسرے کی عزت کرتے تھے۔ ایک دوسرے کا احترام کرتے تھے۔ ایک دوسرے کی حفاظت کرتے تھے۔ سب سے بڑی اور حیران کون بات، خاص طور پر نوجوان نسل کے لئے کہ مختلف مذاہب کے لوگ ایک دوسرے کے تہواروں میں شریک ہوتے تھے۔

ایسا معاشرہ ترقی یافتہ معاشرہ ہوتا ہے۔ ایسا معاشرہ آگے نکل جانے کی جستجو میں مگن رہتا ہے۔ ایسے معاشرے سے ہمیں محروم کردیا گیا ہے۔ اب ہم اپنے آپ کو قانون سمجھتے ہیں۔ نابالغ بچے کی الزام تراشی کے سدباب کی خاطر ملزم کو پکڑتے ہیں۔ کھڑے کھڑے اسے موت کی سزا سنا دیتے ہیں۔ لوگ اپنی مرضی کے مطابق ملزم کو سنگسار کرتے ہیں۔ یا پھر اس کا سرتن سے جدا کردیتے ہیں، یا اسے آگ لگا دیتے ہیں۔

اکثر لوگ ایک ہی ملزم کو تینوں طریقوں سے مارتے ہیں۔ اور پھر مقتول کو جیپ کے ساتھ باندھ کر شہر کی سڑکوں پر گھسیٹتے پھرتے ہیں۔ ایسا معاشرہ جس میں جائز کام کے لئے رشوت دینی پڑتی ہو، اور ریڑھی پر روزی روٹی کمانے والے کو دہاڑی، ہفتہ وار اور ماہوار بھتہ دینا پڑتا ہو، ایسے معاشرے میں ذہنی توازن برقرار رکھنا آسان کام نہیں ہے۔

(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

loading...