خوش رہنا اتنا بھی ضروری نہیں

پرانی بات ہے ، کسی کتاب میں پڑھی تھی مگر ذہن سے چپک کر رہ گئی ۔ سوال تھا کہ مسرت کا حصول کیسے ممکن ہے ؟ جواب کچھ اِس قسم کا تھا کہ مسرت کا حصول کسی ایک چیز سے منسلک نہیں ، آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ اگر فلاں ہدف حاصل کرلو گے تو ہمیشہ خوش رہوگے یا مسرت کاراز فلاں کام کرنے میں مضمر ہے۔

ارسطو کا ماننا تھا کہ کُل زندگی کا احاطہ کرکے ہی اِس بات کا تعین کیا جا سکتا ہے کہ کوئی شخص کتنا خوش اور کتنا نا خوش ہے۔ بقول ارسطو ایک مسرت بھری زندگی ہی دراصل اچھی زندگی ہے ۔ لیکن دیکھا جائے توبچے ہم سے کہیں زیادہ خوش اور مسرور رہتے ہیں ،انہیں اِس بات کی پروا ہی نہیں ہوتی کہ اُن کے ارد گرد کیا ہورہا ہے ، حال کیا ہے اور مستقبل کیا ہوگا۔ حال ہی میں ہم نے سیلاب میں گھرے ہوئے بچوں کی تصاویر دیکھیں ، وہ تباہ شدہ گھروں میں اپنے ماں باپ کی گود میں بیٹھے تھےمگر اُن کے چہروں پر ملین ڈالر کی مسکراہٹ تھی۔ کیا سمجھا جائے کہ یہ بچے مسرور تھے ؟ ظاہر ہے کہ وہ معصوم تھے، انہیں اندازہ ہی نہیں تھا کہ زندگی میں اُن کے ساتھ کیا ہوچکا ہے اور آئندہ کیا ہوگا، اُن بچوں کے مسکراتے ہوئے چہروں کی جو تصاویر ہم جیسے آسودہ حال گھرانوں تک پہنچیں، وہ فقط چند لمحوں کی عارضی خوشی تھی ۔ اسے مسرت سے جوڑنا کسی طرح بھی دانشمندی نہیں ۔

دائمی مسرت کا تعین اسی صورت میں ہوسکتا ہے جب زندگی کے ماہ و سال گزر چکے ہوں اور پھر انہیں کسی پیمانے پر رکھ کر جانچا جائے کہ آیا زندگی پُر مسرت تھی یا نہیں ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون سا پیمانہ ہو جس پر زندگی کو پرکھاجائے، اِس کاجواب یہ تھا کہ سب سے پہلے تو زندگی میں دولت اور صحت چاہیے ، اِس کے ساتھ جسمانی لذت بھی ضروری ہے ، اِس لذت کا برٹرینڈ رسل بھی کسی حد تک قائل ہے۔ سماجی پہلو سے زندگی کوپرکھا جائے تو عزت اور وقار کے ساتھ جینا بھی ضروری ہے، اسی طرح محبت اور دوستی کے بغیر بھی پُر مسرت زندگی کا تصور بے معنی ہے ۔یہ تمام باتیں اکٹھی ہوجائیں تو لگتاہے جیسے زندگی کا مقصد پورا ہوگیا، لیکن نہیں، اِس کے ساتھ ذہنی نشونما بھی لازمی ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ ایک مثالی اور بہترین زندگی کی تصویر کشی کریں اور اُس میں علم کےحصول کارنگ نہ بھریں۔ لہذا دانائی اور حکمت کی باتیں سیکھنا ، کتابیں پڑھنا، علم و آگہی کے موتی سمیٹنا بھی پُر مسرت زندگی کا خاصہ ہے۔

اسی طرح بعض لوگوں کے نزدیک روحانی مسرت بھی ، جو کچھ بھی اِس کا مطلب ہے، ضروری ہے ۔ یوں دنیاوی، مادی ،غیر مادی، روحانی ، سماجی اور فکری اہداف کو حاصل کرنے سے ہی اُس مسرت اور خوشی کا حصول ممکن ہے جو پوری زندگی پر محیط ہو، ہم کسی شخص کو محض اُس کی دولت یا فقط اُس کی دانشوری کے بل پر خوشی کی سند نہیں دے سکتے۔ خوشی کے لیے یہ تمام باتیں ضروری ہے اور یہ سب آپس میں جُڑی ہوئی ہیں، اِن میں سے ہر بات زندگی میں خوشی کو بڑھاوا دینے کے لیے ضروری ہے۔ زندگی میں نہ راہب بننے سے کامل خوشی مِل سکتی ہے اور نہ جوگی بننے سے۔  لتا منگیشکر اگر جسمانی لذت سے محروم رہے گی تو وہ بھی نا خوش ہی رہے گی چاہے پوری دنیا اُس کے گیت گاتی رہے! لیکن استاد ارسطو سے معذرت کے ساتھ، اگر انسان اپنی زندگی میں خوشی کے اِس حصول کے لیے جُت جائے اور اِن اہداف کو حاصل کرنے کے لیے باقاعدہ چاٹ بنا کر اپنے شب و روز گزارنا شروع کردے تو کیا وہ زندگی میں خوش رہ سکے گا ؟ فرض کریں کہ ایک بندہ پوری تندہی کے ساتھ یہ تمام کام کرنے کی ٹھان لے تو کیا وہ ایک میکانکی طرز کی زندگی نہیں بن جائے گی اور کیا ایسی زندگی کو پُر مسرت قرار دیا جا سکتا ہے ؟

میرا خیال ہے کہ ایسی زندگی بے کیف ہوگی کیونکہ مسرت کے حصول کی مسلسل تگ و دو بھی آپ کو زندگی سے بیزار کر سکتی ہے ۔ ویسے بھی دنیا کا ہر انسان دوسرے سے مختلف ہے۔ جسمانی اور روحانی دونوں اعتبار سے، دو لوگوں کوایک ہی بیماری ہوتی ہے ، وہ ایک ہی ڈاکٹر سے علاج کرواتے ہیں ، ایک وہی دوا استعمال کرتے ہیں ، اُن کی عمریں بھی برابر ہوتی ہیں اور عادتیں بھی ایک جیسی ہوتی ہیں مگر اِس کے باوجود دونوں کا جسم مختلف طریقے سے بیماری سے نمٹتا ہے۔ اسی طرح ہر انسان کی خوشی کا پیمانہ اور اُس کا اظہار بھی مختلف ہوتا ہے ، دنیا میں کوئی ایسا آفاقی پیمانہ نہیں بنایا جا سکتا جو تمام سماجی اقدار اور انسانی جذبات کا احاطہ کرکے ایسا سانچہ بنادے جس کےمطابق خو د کو ڈھالنے سےمسرت سے لبریز زندگی مل جائے۔ اورپھر سماجی اقدار اور انسانی جذبات بھی بدلتے رہتے ہیں۔ آج سے دو سو سال پہلے جو بات معیوب سمجھی جاتی تھی وہ آج باعث افتخار ہے سو آپ عزت اور وقار کے ساتھ جینے کی کیا ایسی تعریف کریں گے جو تمام زمانوں میں رائج کی جا سکے؟

اسی طرح انسانی جذبات میں بھی تغیرات آتے رہتے ہیں ۔ آج کے دور کا انسان شاید ماضی کے مقابلے میں زیادہ بے حس ہو چکا ہے یا ہوسکتا ہے کہ یہ بات اُلٹ ہو مگر یہ ممکن نہیں کہ آج کے اور ماضی کے انسان کے جذبات میں کوئی فرق ہی نہ آیا ہو۔ چلیں ایک منٹ کے لیے فرض کرلیتے ہیں کہ ہر انسان اپنی زندگی میں خوشی کا حصول ہی چاہتا ہے تو اِس مفروضے کو ذہن میں رکھ کر امریکی فلسفی رابرٹ نوزک نے ایک ذہنی تجربہ کیا ۔ اُس نے سوال کیا کہ فرض کریں کہ ایک مشین ہو ، جیسے کہ ایم آر آئی کرنے کی ہوتی ہے ، اُس میں آپ کو لٹا دیا جائے اور آپ کی خواہش پوچھی جائے اور جو خواہش بھی آپ بیان کریں اُس پر مِن و عن عمل ہوجائے تو کیا آپ خود کو اُس مشین میں سے گزارنا چاہیں گے؟ رابرٹ نوزک نے کہا کہ آپ جو چاہیں گے مشین آپ کو وہ بنا دے گی ، یعنی وہ ایسی تصوراتی دنیا بنائے گی کہ جس میں آپ کو یقین ہوگا کہ آپ بادشاہ ہیں  یا دنیا کے سب سے بڑے فلسفی ہیں  یا بہترین قسم کے جرنیل ہیں  مگر حقیقت میں آپ بے ہوشی کے عالم میں پڑے ہوں گے اور آپ کاجسم زندگی بچانے والے ایک سسٹم سے منسلک ہوگا ۔ کیا آپ یہ چاہیں گے ؟

ظاہر ہے کہ نہیں کیونکہ نوزک کہتا ہے کہ انسان اپنی زندگی میں ٹھوس عمل کرنا چاہتا ہے اور گوشت پوشت کے حقیقی انسانوں کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتا ہے۔ یاد رہے کہ مشین میں رہتے ہوئےبھی آپ کو حقیقت وہی لگے گی جو مشین دکھائے گی بالکل اسی طرح جیسے میری انگلیاں اِس وقت یہ تحریر ٹائپ کر رہی ہیں مگر اِس کے بعد باوجود جب نوزک نے سروے کیا تو لوگوں کی اکثریت نے مشین کا تجربہ  جو یقینی مسرت کا ضامن تھا، لینے سے انکار کر دیا۔ اِن تمام باتوں سے ایک بات ثابت ہوتی ہے کہ ہر شخص کا خوشی اور مسرت کا پیمانہ مختلف ہے ، چونکہ یہ تمام تحقیق اور فلسفہ زیادہ تر مغرب سے مستعار لیا گیا ہے اِس لیے اِس بات کا امکان بھی موجود ہے کہ ہم جیسے غریب ممالک میں رہنے والوں کی ترجیحات اُن سے مختلف ہوں جہاں بہرحال زندگی گزارنے کے لیے لوگوں کی اکثریت کو روزانہ جہاد نہیں کرنا پڑتا ۔ اسی لیے مغرب کے مفکرین میں سے ایمانویل کانٹ کی بات میں زیادہ وزن ہے جو کہتا ہے کہ مسرت کا حصول خود غرض قسم کی خواہش ہے۔ بطور انسان ہمیں اخلاقی قوانین کی غیر مشروط پاسداری کرنی چاہئے چاہے آسمان ہی کیوں نہ گر پڑے  ہمارے اِس اخلاقی عمل کے نتیجے میں مسرت کا جنم ہو تو ہو مگر ہمارا واحد مقصد یہ نہیں ہونا چاہیے۔

(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

loading...