سانحے جو سونے نہیں دیتے

یہ جو کہنے والے کہتے ہیں کہ سیاست پاکستانیوں کے لئےاوڑھنا بچھونا ہے، درست کہتے ہیں۔ اس بات میں رتی برا بر شک شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔

پچھتر برس پہلے جب پاکستان دنیا کے نقشہ پر ظہور پذیر ہوا تھا، وہ دور میرےلڑکپن کا دور تھا۔ لڑکپن سے بڑھاپے کے آخری ایام تک میں نے دیکھا ہے کہ سیاست ہم پاکستانیوں کے لئے اوڑھنا بچھونا ہے۔ ریڑھی بانوں سے قبیلوں کے ہیبت ناک سرداروں تک سب لوگ سیاست کے صحرا کے رہ نورد ہیں۔ ٹیلی فون دیکھیں تو سیاست۔ ریڈیو سنیں تو سیاست۔ اخبارپڑ ھیں تو سیاست ضرورت سے زیادہ اوڑھنا بچھونا ہوگئی ہے۔ میری نہ تو کوئی نمائندگی کرتا ہے اور نہ کسی کی نمائندگی میں کرتا ہوں۔ سیاست سے وجود میں بے چینی سی محسوس ہوتی رہتی ہے۔ جب تک سردار، زمیندار، وڈیرے، خان، پیر اور میر سیاست پہ چھائے رہیں گے، پاکستان اسی طرح ہچکولے کھاتا رہے گا۔ آپ کب تک پاکستانیوں کواپنا کسان، مزارع، ہاری اور ہل چلانے والا سمجھتے رہیں گے؟

جس طرح آپ اپنی زمینداری چلاتے ہیں، عین اسی طرح آپ پچھلے پچھتر برسوں سے پاکستان چلارہے ہیں۔ فقیر کی بات آپ یاد رکھیں، پاکستان پر جب تک سرداروں، چوہدریوں، وڈیروں اور پیر سائیں کی اجارہ داری رہے گی، پاکستان اسی طرح بھنور میں گھومتا، ڈگمگاتا رہے گا۔ سردار وں ، وڈیروں نے ہم اللہ سائیں کے بندوں کے لئے نہ اوڑھنے کے لئے کچھ چھوڑا ہے اور نہ کچھ بچھانے کے لئےچھوڑا ہے۔ اس لئے آج ہم ایک کہانی کی نشوونما یعنی کہانی کی تکمیل تک مختلف مراحل کی باتیں کرتے ہیں۔ کہانی، آپ کہانی کو افسانہ بھی کہہ سکتے ہیں، کسی ماجرا ، کسی واقعہ، کسی سانحہ سے متاثر ہوکر لکھی جاتی ہے۔ ہمارے ہاں، روزانہ طرح طرح کے واقعات جنم لیتے ہیں۔ ششدر کرنےوالے ماجرے پیش آتے ہیں۔ سن کر اور اخباروں میں پڑھ کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔

کچھ سانحے روح فنا کردیتے ہیں۔ آپ چاہے کتنے ہی حساس کیوں نہ ہوں، آپ ہر سانحہ، ہر ماجرا پر افسانہ یا ناول لکھ تو سکتے ہیں، مگر یقین جانیے آپ کی کہانی آپ کا افسانہ،آپ کا ناول پبلش نہیں ہوسکتا۔ ہم اپنے پاک اور صاف معاشرے کے گھنائونے واقعات کا سدباب کرنے کے بجائے ، دل خراش واقعات کو اپنے آپ سے اور دنیا سے چھپاتے ہیں۔ ایسے میں کوئی پبلشر آپ کے افسانے یا ناول کی خاطر اپنا کاروبار داؤ پر لگانے کے لئے کبھی ہامی نہیں بھرتا۔ اگر آپ اپنا ناول یا افسانہ کسی اور ذریعے سے شائع کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں، توپھر، نتیجتاً آپ کا افسانہ آپ کی جان کے لئے وبال بن جاتا ہے۔ آپ کے حالات آپ کے لئے اس قدر سنگین کردیے جاتے ہیں کہ آپ اس دن کو کوسنے لگتے ہیں، جب دلخراش واقعے سے متاثر ہوکر آپ نے وہ افسانہ لکھا تھا۔ میں آپ سے سنی سنائی باتوں کا ذکر نہیں کررہا ۔ میں آپ سے اپنی آب بیتی بیان کررہا ہوں۔ سنگین سانحوں کا سدباب کرنے کی بجائے حکومت وقت آپ کو عبرتناک عقوبتوں کا مزا چکھا دیتی ہے۔

سانحے یا ماجرے سے کہانی کی نشوونما پربات چیت کرنے کے لئے میں نے ایسے سانحےکو چنا ہے جو روزانہ ایک نہیں، کئی بار ہمیں جھنجھوڑکر رکھ دیتا ہے۔ اس نوعیت کے دردناک سانحے اس قدر ہمارے معاشرے میں روزانہ ہوتے رہتے ہیں کہ سرکار نے ان واقعات کا نوٹس لینا چھوڑ دیا ہے۔ نومولود، نوزائیدہ، زندہ یا مردہ کچرے کے ڈھیر پر پڑا ملے، گٹرسے ملے، گندے نالے سے ملے ، جنگل سے ملے، ویرانوں سے ملے، سرکار اور سرکار کے اداروں کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ حکومت کا کاروباربخیروخوبی چلتا رہتا ہے۔ ضمیر مطمئن رہتے ہیں کسی کی نیند نہیں اڑتی۔ کسی کو رتی برابر فرق نہیں پڑتا۔

آج ہم ایسے نومولودکی کہانی یا افسانہ لکھتے ہیں، بلکہ افسانے کا خاکہ پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو کسی فلاحی ادارے کو کچرے کے ڈھیر پر پڑا ہوا ملا تھا۔ اللہ سائیں کے کچھ نیک بندوں نے ایسے ہی لاوارث بچوں کی پرورش کرنے کے لئے ادارہ کھولا تھا، بلکہ ادارہ کھولا ہے۔ ادارے نے نومولود کو یوسف علی نام دیا، ادارے نے پڑھا لکھا کر یوسف علی کو بڑا کیا۔ ذہین تھا۔ اسے اچھی ملازمت ملنے میں دیر نہیں لگی۔ فلاحی ادارے نے یوسف علی کو الوداع کیا۔ وہ فلیٹ لے کر الگ رہنے لگا مگر اس نے فلاحی ادارے میں آنا جانا نہیں چھوڑا۔ تقریباً روزانہ اس کا فلاحی ادارے میں آنا جانا ہوتا تھا۔ ہم سب کی زندگی میں ایک لمحہ ایسابھی آتا ہے، جوسب کچھ بدل کے رکھ دیتا ہے۔ اس کے بعد ہم وہ نہیں ہوتے ، جوہوتے تھے۔ سوچ اور رویوں کی دھارائیں بدل جاتی ہیں۔ ایک روز ادارے کے کارکن کچرے کے ڈھیر سے بلکتے ہوئے نوزائیدہ کو اٹھاکر لے آئے۔ نومولود کو دیکھ کر یوسف علی کانپ اٹھا۔ اس کے بعد وہ سوچ میں ڈوبا ہوا، چپ چپ رہنے لگا۔ جب ادارے میں آتا، تب خاموش رہتا۔

ایک روز یوسف علی نے ادارے کے ایک بزرگ سے پوچھا  ’ میں آپ کو کچرے کے ڈھیر پرپڑا ہوا ملاتھا ؟‘

بزرگ نے تعجب سے یوسف علی کو دیکھتے ہوئے کہا ’ کیا فرق پڑتاہے بیٹے۔ تم اعلیٰ تعلیم یافتہ اور بینکر ہو‘۔

یوسف علی نے کہا ’ میں آپ کو کچرے کے ڈھیر پرپڑا ہوا ملا تھا۔ تو پھر آپ کو کیسے پتہ چلا کہ میرے والد کا نام جعفر تھا؟‘۔ بزرگ نے جھرجھری محسوس کرتے ہوئے بات بنانے کی کوشش کی، مگر بزرگ سے بات بن نہ پائی۔ انہوں نے یوسف کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا ’ ہم بچوں کو فرضی والد کا نام دے دیتے ہیں‘۔

یوسف علی نے آہستہ سے کہا ’ میں کسی فرضی جعفر کا بیٹا کہلوانے کی بجائے نا معلوم باپ کا بیٹا کہلوانا چاہوں گا‘۔

اور یہاں سے شروع ہوتی ہے یوسف علی کی المناک کتھا۔

(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

loading...