ایک کالم نگار کے دو کالم!

انسان کی زندگی کا کوئی پتہ نہیں یہ پانی کے بلبلے کی طرح ہے۔ یہ نہ ہو کہ کل کلاں ملک میں مارشل لا لگے اور میں اسے خوش آمدید کہنے سے محروم رہ جاؤں اور پھر جب یہ مارشل لا ختم ہو اور اس کی جگہ کوئی جمہوری حکومت آئے تو میں اسے بھی خوش آمدید کہنے کی پوزیشن میں نہ ہوں۔

لہٰذا یہ کام اپنی زندگی ہی میں کر لیا جائے تو بہتر ہے ۔ چنانچہ میں نے دونوں کالم پیشگی لکھ لئے ہیں جو قارئین کے افادہ کے لئے درج ذیل ہیں:

(1)مارشل لا ناگزیر تھا

چیف مارشل لاایڈمنسٹریٹر نے صحافیوں اور دانشوروں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بڑی دلسوزی سے یہ بات کہی ہے کہ وہ مارشل لا کے حق میں نہیں ہیں اور انہیں یہ انتہائی قدم محض اس لئے اٹھانا پڑا کہ ملک خانہ جنگی کے دہانے پر کھڑا تھا ۔ چیف مارشل لاایڈمنسٹریٹر نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ مارشل لا ضرورت سے ایک منٹ بھی زیادہ برقرار نہیں رکھا جائے گا کیونکہ وہ جمہوری عمل پر یقین رکھتے ہیں۔ اور ان کی خواہش ہے کہ جمہوریت کو نشوونما کے مواقع ملتے رہیں !

میرے خیال سے کوئی ذی ہوش چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کے ان خیالات سے اختلاف نہیں کر سکتا۔ ان کے ارشادات پاکستان کے پچیس کروڑ محب وطن عوام کے دل کی آواز ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بدکردار سیاست دانوں کے چنگل سے رہائی پانے پر عوام بے حد خوش ہیں اور گھر گھر چراغاں ہو رہا ہے ۔ ان سیاست دانوں نے سیاست کو تماشا بنا کر رکھ دیا تھا۔ ملک میں سب کا روبار مندے میں جا رہے تھے صرف ایم پی ایز اور ایم این اے ایز کے کاروبارتھے جو مندے میں نہیں تھے۔ یہ لوگ بکاؤ مال بن گئے تھے اور ان کی قیمت ایک کروڑ روپے سے پانچ کروڑ روپے تک تھی۔ اور یہ قیمت وہ صرف ایک بار نہیں وقفے وقفے کے بعد وصول کرتے تھے۔ اسی طرح پنجاب حکومت اور مرکزی حکومت کے مابین جھگڑے نے ایسی صورتحال پیدا کردی تھی کہ ایک ملک میں دو حکومتیں قائم ہو کر رہ گئی تھیں۔ اور محب وطن عوام ملکی سلامتی کے حوالے سے سخت خدشات کا اظہار کرنے لگے تھے ۔ جمہوریت کے نام پر قائم ہونے والی صوبائی حکومتیں اور مرکزی حکومت اپنے اقتدار کو برقرار رکھنے کے لئے کرپشن کو فروغ دینے میں مشغول تھیں۔ قواعد و ضوابط کی کھلم کھلا مٹی پلید ہو رہی تھی۔ اسی طرح مہنگائی نے غریب عوام کی زندگی اجیرن کر دی تھی۔

 امن عامہ کی صورتحال بھی تشویشناک تھی خصوصاً سندھ کے حالات پر تو پاکستان کا ہر محب وطن شہری پریشان تھا۔ ملک کا یہ صوبہ مکمل طور پر دہشت گردوں کے کنٹرول میں تھا ۔ اسی طرح ملک کے دوسرے صوبوں میں بھی ڈاکوؤں اور قاتلوں نے عام شہریوں کی زندگی اجیرن بنائی ہوئی تھی۔ یہ جرائم پیشہ لوگ ایم پی ایز کے کارندے تھے چنانچہ جب کبھی پولیس مجبور ہو کر انہیں گرفتار کرنا چاہتی تو یہ اپنے سر پرستوں کے پاس پناہ لیتے اور پولیس دورکھڑی تماشا دیکھتی رہ جاتی۔ یہ اور اسی طرح کے دوسرے حالات تھے کہ مارشل لا واقعی ملک کے لئے ناگزیر ہو گیا تھا۔

(2)سلطانی جمہور کا آتا ہے زمانہ

خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ آمریت کے سیاہ بادل چھٹ گئے ہیں اور ان کی جگہ جمہوریت کی خوبصورت صبح طلوع ہوئی ہے ۔ ملک کے نومنتخب وزیر اعظم نے صحافیوں اور دانشوروں کو ایک بریفنگ میں بجا طور پر یہ ارشاد فرمایا ہے کہ گزشتہ دور آمریت نے ملک کی بنیادیں ہلا دی ہیں اور اب استحکام پاکستان کے لئے ہمیں پورے جوش اور جذبے سے کام کرنا پڑے گا  تاکہ تعمیر وطن کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے۔

میں وزیر اعظم کے ان خیالات پر اپنی رائے کے اظہار سے پہلے اس امر پر خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ ملک میں آمریت کے خلاف پہلی آواز میں نے اپنے کالم میں اٹھائی۔ پاکستان کی تاریخ کے بدترین آمر نے جب اپنی پہلی پریس کانفرنس میں مار شل لا کا جواز پیش کیا تو میں نے اگلے ہی روز ان کے اس بیان پر سخت گرفت کی۔ میں نے لکھا جمہوریت اور پاکستان لازم و ملزوم ہیں اور یوں جمہوریت کو نشو ونما کے پورے مواقع ملنا چاہئیں۔ اسی کالم میں یہ بھی مطالبہ کیا کہ جمہوریت کی جلد از جلد بحالی کے لئے مثبت اقدامات کئے جائیں۔ خدا کا شکر ہے کہ آمریت کے خلاف میری جنگ ثمرآور ثابت ہوئی ہے۔

جہاں تک وزیر اعظم کے ارشادات کا تعلق ہے کوئی محب وطن پاکستانی ان سے اختلاف نہیں کر سکتا۔ گزشتہ دور آمریت نے واقعی ملک کی بنیادیں ہلا دی ہیں اور افسوس کی بات یہ ہے کہ دور آمریت کی باقیات آج بھی ہمارے درمیان موجود ہیں اور اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل میں مشغول ہیں۔ یہ لوگ اپنےآقاؤں کو خوش کرنے کے لئے جمہوریت پر مسلسل الزام تراشی میں مشغول رہتے ہیں حالانکہ جب ملک میں مارشل لا لگا اس وقت جمہوریت نے اپنی افادیت ثابت کرنا شروع کر دی تھی۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ سیاست دان باہم دست و گریبان بھی ہوئے تھے مگر کسی قومی نوعیت کے مسائل کے حل کے لئے وہ ایک پلیٹ فارم پر جمع بھی ہو جاتے تھے ۔

چیف مار شل لا ایڈمنسٹریٹر نے اپنے پہلے بیان میں جمہوریت پر جو الزامات عائد کئے تھے ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ ایم پی ایز اور ایم این ایز بکاؤ مال بن کر رہ گئے تھے۔ اس طالع آزما سے کسی نے یہ پوچھنے کی جرات نہیں کی کہ اس طرح کے لوگ تعداد میں کتنے تھے؟ دوچار چھ دس؟ کیا ان چند افراد کی وجہ سے پورے جمہوری نظام کو بدنام کرنا کسی بھی اخلاقی ضابطے کی رو سے جائز ہے؟

میں نومنتخب وزیر اعظم کو اپنی مکمل حمایت کا یقین دلاتا ہوں اور اس یقین کا اظہار کرتا ہوں کہ ان کی قیادت میں ملک پوری تیزی کے ساتھ ترقی کی راہوں پر گامزن ہو گا۔ کالم کے آخر میں نومنتخب وزیراعظم سے میری ایک درخواست ہے کہ وہ موقع پرستوں سے محفوظ رہیں کیونکہ دور آمریت کی یہ باقیات مختلف ذرائع سے انہیں اپنے دام میں پھنسانے کی کوشش کریں گی۔

وزیر اعظم کو چا ہئے کہ وہ ان لوگوں کو اپنے قریب آنے کا موقع دیں جنہوں نے آمریت کے خلاف سب سے پہلے آواز اٹھائی اور میں جانتا ہوں کہ وزیر اعظم ان لوگوں کے نام اور ان کی خدمات سے بے خبر نہیں!

(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

loading...