گم گشتہ شناخت

آپ، میں، ہم سب ایک مسلسل کہانی کا حصہ ہیں۔ اس کہانی میں ہم برصغیر ، افریقہ، امریکہ، یورپ، آسٹریلیا، کینیڈا کے لوگ اپنی اپنی تہذیب، تمدن، ثقافت، زبانوں، بولیوں اور روایتوں کے ساتھ شامل ہیں۔

اس مسلسل کہانی میں ہر وہ شخص شامل ہے جس نے کرہ ارض پر قدم رکھا۔ چرند پرند، پہاڑ، ریگستان، سمندر، دریا، ندی نالے نباتات، حیوانات اس مسلسل کہانی کا حصہ ہیں۔ زمین پر ایسی کوئی چیز نہیں  جو اس مسلسل کہانی میں شامل نہ ہو۔ یہ مسلسل کہانی ازل سے چل رہی ہے، اور ابد تک چلتی رہے گی۔ اس کہانی کے لکھنے والے کے بارے میں صدیوں سے قیاس آرائیاں ہوتی رہی ہیں مگر کوئی نہیں جانتا کہ مسلسل کہانی لکھنے والا کون ہے۔ یہ جاننا انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ کہانی میں اپنا کردار پورا کرنے کے بعد ہم سمجھتے ہیں کہ ازل سے مسلسل کہانی میں ہمارا رول ختم ہوا اور ہم اپنے حتمی اختتام کو پہنچے۔ مگر ایسا نہیں ہے، مسلسل کہانی میں کچھ بھی ختم نہیں ہوتا۔ صرف کہانی کے عناصر کی ہیئت بدلتی رہتی ہے۔

آپ کی طرح اور میری طرح یوسف بھی مسلسل کہانی کا حصہ ہے۔ وہ آپ کی طرح اور میری طرح ہر وہ کام کرتا ہے جو کام آپ اور میں کرتے ہیں۔ انتخابات کے دوران وہ بیلٹ بکس میں ووٹ ڈالنے جاتا ہے۔ کبھی سر پر ڈنڈے کھا کر لوٹتا ہے، اور کبھی دھکم پیل میں زخمی ہو جاتا ہے۔ دفتر جاتا ہے۔ تنخواہ لیتا ہے۔ بساط سے باہر چیزیں خرید کر جب گھر لوٹتا ہے تب اس کی جیب خالی ہوتی ہے۔ وہ کسی سے شکوے شکایتیں نہیں کرتا۔ اضافی آمدنی کے لئے رات گئے کوئی نہ کوئی کام کرتا ہے۔ وہ آپ کی طرح اور میری طرح عام آدمی ہے۔ فلاحی ادارے کوڑے کرکٹ سے ملنے والے بچوں کو پالتے ہیں، پوستے ہیں۔ ان کو پڑھاتے لکھاتے ہیں۔ تعلیم کے زیور سے آراستہ کرتے ہیں۔ اور پھر وہ آپ کی طرح اور میری طرح عالیشان معاشرے کا حصہ بن جاتے ہیں اور ڈر ڈر کر زندگی گزارتے ہیں۔ بیلٹ بکسوں میں ووٹ ڈالتے ہیں۔ تب فلاحی ادارے خوش ہوتے ہیں کہ ایک لاوارث بچے کو انہوں نے کامیابی سے معاشرے کا کارآمد فرد بنا دیا۔

تب وہ جائز طور پر سوچتے ہیں کہ انہوں نے اپنا کام خیر و خوبی سے پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ ادارے کا اور یوسف جیسے بچوں کا مسلسل کہانی میں کردار اختتام پذیر ہوا۔ مگر ایسا نہیں ہوتا۔ ازل سے لکھی جانے والی کہانی میں کچھ اختتام پذیر نہیں ہوتا۔ بظاہر ہم جسے اختتام سمجھتے ہیں، وہیں سے ایک نئے سلسلے کا جنم ہوتا ہے۔ مسلسل کہانی کے ابواب میں نئے باب کا اضافہ ہوتا ہے۔

ازل سے لکھی جانے والی مسلسل کہانی میں یوسف کا کردار اس وقت اختتام کو نہیں پہنچا جب فلاحی ادارے نے یوسف کو پال پوس کر بڑا کیا۔ اعلیٰ تعلیم دلوائی۔ مقابلے کے امتحانوں میں آگے نکل جانے کے بعد یوسف کو ایک اعلیٰ عہدے پر تعینات کیا گیا۔ مسلسل کہانی میں کرداروں کا عمل ختم نہیں ہوتا۔ کردار کی کارکردگی کی ہیئت بدل جاتی ہے۔ یوسف اس گھڑی مکمل طور پر بدل گیا جب اسے احساس ہوا کہ فلاحی ادارے نے اسے فرضی باپ جعفر کا نام دے دیا تھا۔ یوسف کے کردار میں اور زیادہ ابھر کر سامنے آنے والی ہیئت کا پتہ تب چلا جب اس نے ایک روز فلاحی ادارے کے کرتا دھرتا سے اپنی والدہ کا نام پوچھا۔ فلاحی ادارے کے ارکان نے چپ سادھ لی۔ تب یوسف نے کہا تھا۔ ’میں جانتا ہوں، آپ مجھے کچرے کے ڈھیر سے اٹھا کر لے آئے تھے۔ آپ نے مجھے فرضی باپ کا نام دیا۔ آپ نے مجھے فرضی ماں کا نام کیوں نہیں دیا‘؟

کسی کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔ ازل سے لکھی جانے والی مسلسل کہانی میں یوسف نے نیا جنم لے لیا۔ اپنی گم گشتہ شناخت کی تلاش نے یوسف کو سوچ کی نئی دھارائوں میں دھکیل دیا۔ اعلیٰ تعلیم، اثر و رسوخ، تعلقات، کچھ اس کے کام نہیں آیا۔ وہ صرف اتنا جان سکا کہ فلاحی ادارے کے کارکنوں نے اسے برنس روڈ سے گزرنے والے گندے نالے کے قریب پڑے ہوئے کچرے کے ڈھیر سے اٹھایا تھا۔ تب وہ مشکل سے ایک دن کا تھا۔ یوسف نے اگر بتیوں کا ایک پیکٹ خریدا۔ اگر بتیاں سلگا کر اس نے کچرے کے ڈھیر پر لگا دیں۔ اور پھر بہت دیر تک وہ کچرے کے ڈھیر کے قریب کھڑا رہا۔ اور شب تک گاہے گاہے اگر بتیاں لگا کر کچرے کے ڈھیر کے پاس پہروں کھڑا رہتا ہے۔

نئے یوسف کے وجود میں تلاطم تھا۔ اس کی سوچ اس سے آگے نکل گئی۔ اپنی ماں اور اپنے باپ کے بارے میں اس نے سوچنا چھوڑ دیا۔ اس نے سوچا میں اگر واسوانی آشرم والوں کو کچرے کے ڈھیر پر پڑا ہوا ملتا، تو آج میں ہندو ہوتا۔ میں اگر کرائسٹ آرفانیج

 والوں کو کچرے کے ڈھیر پر پڑا ہوا ملتا تو آج کرسچن ہوتا۔ بے ضبط اور بے قابو سوچ اسے سمندروں تک بہا کر لے گئی۔

ایک روز یوسف نادرا کے دفتر پہنچا اپنا شناختی کارڈ افسر کو دکھاتے ہوئے یوسف نے کہا۔ ’شناختی کارڈ میں ایک اندراج غلط ہے‘۔ افسر نے چونک کر تعجب سے یوسف کی طرف دیکھا۔ یوسف نے کہا میں جعفر کا بیٹا نہیں ہوں۔ افسر ہکا بکا رہ گیا۔ یوسف نے کہا، ’فلاحی ادارے کو میں کچرے کے ڈھیر پر پڑا ہوا ملا تھا۔ کوئی نہیں جانتا کہ میری ماں کون تھی۔ کوئی نہیں جانتا کہ میرا باپ کون تھا‘۔

کچھ کہنے کی بجائے افسر تعجب سے یوسف کی طرف دیکھتا رہا۔ یوسف نے کہا۔ ’میرے شناختی کارڈ میں آپ ترمیم کریں۔ فرضی باپ جعفر کی بجائے آپ مجھے لکھ کر دیں، والد، نامعلوم‘۔

مسلسل کہانی میں یوسف کا کردار اختتام پذیر نہیں ہوتا۔ بلکہ مسلسل کہانی میں کسی کردار کا اختتام نہیں ہوتا۔

(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

loading...