فوج پر اعتماد کیسے بحال ہوگا؟

ایک ایسے وقت میں جب  سیاست دانوں کو باہمی اختلافات بھلا کر  آئینی بالادستی کے لئے مل جل کر کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ فوج  ’غیر سیاسی ’ رہنے کے فیصلہ پر قائم رہ سکے،  ملکی سیاست میں ایک بار پھر فوج سے   تقاضوں  کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔ عمران خان نے ایک ٹوئٹ میں نئے  چئیر مین جوائینٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی  اور آرمی چیف    کو عہدے سنبھالنے پر مبارک باد دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ’  فوج کی نئی قیادت گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران عوام کے ساتھ پیدا ہونے والے  عدم اعتماد  کو ختم کرنے کے لئے کام کرے  کیوں کہ  ریاست کی طاقت عوام سے ہوتی ہے‘۔

اپنی بات کو صائب اور درست ثابت کرنے کے لئے عمران خان نے قائد اعظم محمد علی جناح کی ایک تقریر کا  اقتباس بھی  اس ٹوئٹ میں شامل کیا ہے۔  قائد اعظم نے  14 اگست 1947 کو مسلح افواج سے خطاب کرتے ہوئے  کہا تھا کہ ’ آپ کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ مسلح افواج عوام کی خادم ہیں اور آپ قومی پالیسی نہیں بناتے۔ یہ طے کرنا ہم شہریوں کا کام ہے۔ ہم فیصلے کرتے ہیں اور آپ  ان فرائض کو بجا لانے کے پابند ہیں جو آپ کو سونپا جائے‘۔   اس تقریر کا حوالہ  دیتے  ہوئے عمران خان ایک خاص سیاسی نقطہ نظر کو  عوام کے ذہن و دماغ میں راسخ کرنا چاہتے ہیں۔  اس نقطہ نظر کے مطابق  فوج نے اس سال اپریل میں عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک   ناکام بنانے میں عملی طور سے کوشش نہ کرکے درحقیقت اپنے عہد کی خلاف ورزی کی  اور ایک حکومت کے خلاف معاشرے کے ’ناپسندیدہ عناصر‘ کو تحریک عدم اعتماد لا نے کی اجازت دے کر اس سازش کا ساتھ دیا۔

عمران خان  اقتدار سے علیحدہ ہونے کے بعد سے فوج کو دوبارہ اپنی طرف رجوع کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ اسی لئے  انہوں نے فوج  کے  غیر سیاسی اور غیر جانبدار ہونے  کے فیصلہ پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے  فوج کی قیادت کو میر جعفر و صادق سے تشبیہ دی اور تحریک انصاف کے حامیوں نے سوشل میڈیا پر  سابق آرمی چیف کے خلاف ’غدار‘ کے ٹرینڈ چلائے۔ا س مدت میں عمران خان کی   دلیل تھی کہ فوج ’کفر و باطل‘ کے معرکہ میں غیر جانبدار نہیں ہوسکتی۔ اسے بہر صورت حق کا ساتھ دینا چاہئے کیوں کہ یہی  ان کے  حلف کا تقاضہ ہے۔ اس بحث میں عمران خان ایک لمحے کو بھی یہ باور کرنے پر آمادہ نہیں تھے کہ سیاسی مباحث میں ایک دوسرے کو غلط قرار دینے اور سیاسی پارٹیوں کے درمیان پالیسیوں سے لے  کر ذاتی اختلافات تک کے مباحث میں ہر گروہ اپنے تئیں  حق  پر ہوتا ہے اور دوسرے کو غلط سمجھتا ہے۔ تاہم عمران خان کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے معمول کے سیاسی اختلافات کو مذہبی رنگ دیتے ہوئے اپنی حکومت  کا تختہ الٹنے والے سیاست دانوں کو نہ صرف  ’باطل‘ قوت قرار دیا بلکہ انہیں امریکی ایجنٹ اور بکاؤ مال تک کہا۔  یہ بحث اگر سیاسی پارٹیوں کے درمیان رہتی تو بھی اسے قبول کیاجاسکتا تھا لیکن عمران نے اس بحث میں فوج کو ملوث کرنے اور کسی بھی قیمت پر اسے  غیر جانبداری چھوڑ کر تحریک انصاف کا ساتھ دینے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی ۔ ایسے میں عمران خان یا تو کسی غلط فہمی کا شکار تھے یا عسکری حلقوں میں انہیں اپنے  ہمدردوں پر اس قدر بھروسہ تھا کہ    فوجی قیادت پر  براہ راست  حملے کرکے ،  آئی ایس آئی کے سربراہ کو مجبور کردیا کہ انہیں  فوج کے شعبہ تعلقات عامہ  کے ڈائیریکٹر جنرل کے ساتھ ملک کر پریس کانفرنس  کرنا پڑی ۔ انہوں نے عمران خان کی تنقید کو مسترد کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ فوج نے طویل  مباحثہ کے بعد غیر سیاسی  ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔

سبکدوش ہونے والے جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی جانے سے پہلے اپنی تقریروں  میں اس فیصلہ  کا ذکر کیا اور واضح کیا کہ فوج کا یہ فیصلہ صرف ان کی ذات تک محدود نہیں ہے بلکہ مستقبل کی قیادت بھی غیر جانبداری کی اس حکمت عملی پر کاربند رہے گی۔   گو کہ یہ خوش آئیند  اشارے ہیں لیکن ملکی مبصرین  اور سیاسی لیڈر  ابھی تک اس بات پر واضح نہیں ہیں کہ فوج کے غیر سیاسی  ہونے   کا کیا مقصد ہے۔   اس کی بنیادی وجہ  یہ ہے کہ ملکی  معیشت سے لے کر اہم فیصلہ سازی تک میں فوج کا عمل دخل بہت گہرا رہا ہے۔ اب بھی پاکستان  کی بیشتر پالیسیاں انہی خطوط پر تشکیل پارہی ہیں جو فوج نے متعین کئے ہیں۔ ان میں پاک  بھارت تعلقات، امریکہ کے ساتھ معاملات اور افغانستان کی طالبان حکومت کے  بارے میں پالیسی  شامل ہے۔    نئی فوجی قیادت    کو سیاسی لیڈروں کے ساتھ معاملات طے کرتے ہوئے اب   عسکری خواہشات کو پالیسی معاملات میں  جگہ دلوانے کے لئے حدود کا تعین کرنا پڑے گا ۔ یعنی  پہلے اگر جی ایچ کیو کو  بعض خارجہ و سکیورٹی  امور میں حرف آخر کی حیثیت حاصل تھی تو اب دیکھنا ہو گا کہ کیا اس  رول کو مشاورتی کردار تک محدود کیا جاتا ہے اور اس   کے بعد ملک کی سیاسی قیادت پارلیمنٹ کے ذریعے جو پالیسی اختیار کرتی ہے، اس پر بلا چوں و چرا عمل کیا جائے۔ یہ طرز عمل واقعی قائد اعظم کے بیان کردہ اس اصول کے مطابق ہوگا جس کا حوالہ عمران خان نے اپنے ٹوئٹ بیان میں بھی دیا ہے۔

قائد اعظم کا نقطہ نظر واضح، دوٹوک اور  غیر مبہم ہے۔ لیکن پاکستان کی تاریخ شاہد ہے کہ قائد کی رحلت کے بعد ملکی سیاست میں فوجی لیڈروں نے دھیرے دھیرے  سول حکومت کو  فوج کے فیصلوں کا  پابند کرنا شروع کردیا۔ یہ مداخلت بالآخر اکتوبر  1958   میں ایوب خان کی سربراہی میں نافذ کئے جانے والے مارشل لا   کی صورت میں اپنے انجام کو پہنچی۔ اس کے بعد فوج نے  کبھی پیچھے کی طرف  قدم نہیں اٹھایا بلکہ  ملکی معاملات کو اپنی صوابدید کے مطابق چلانے ہی کو بہترین قومی مفاد کا نام دیا گیا۔ اسی طریقہ  کار کی وجہ سے جب بھی سول  و فوجی  قیادت میں اختلاف پیدا ہؤا  یا فوجی لیڈروں سے  مختلف حکمت عملی پر کام  کی درخواست کی گئی تو اس کی قیمت متعلقہ لیڈر کو اپنی سیاسی حیثیت سے محروم ہونے اور انتقامی کارروائی  کی صورت میں چکانا پڑی۔  یہ ایک پیچیدہ اور مشکل کہانی ہے۔ تاہم ماضی کے اس بوجھ کو  فوج کی نئی قیادت  کے سرپر نہیں لادا جاسکتا البتہ یہ امید ضرور کی جاسکتی ہے کہ وہ غیر سیاسی رہنے کے اعلان پر قائم رہے گی اور ملکی سیاسی قیادت بھی فوج  کے اس ارادے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں معاونت کرے گی۔

اس کے لئے سب سے پہلے تو یہ ضروری ہوگا کہ سیاسی لیڈر  سکیورٹی اور خارجہ امور کے ان پہلوؤں پر مہارت حاصل کریں جن پر اس وقت فوج کو مکمل اجارہ داری تفویض کی جاچکی ہے۔ فوج چونکہ اب خود اس ناروا بوجھ سے جان چھڑانے کا ارادہ ظاہر کررہی ہے تو وہ بھی متعلقہ مہارت سول لیڈروں کو منتقل کرنے میں معاونت کرے ۔ اس کے بعد  سول قیادت ایسی حدود متعین کرسکتی ہے جو معیشت، رئیل اسٹیٹ اور سماجی زندگی کے دیگر اہم شعبوں میں فوجی سرگرمیوں کو ایک مقررہ مدت کے اندر سویلین کنٹرول میں لانے کا اہتمام کریں۔ ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ جب  تک کسی ادارے کا ملکی معیشت میں اسٹیک رہے گا، اسے اپنے مفادات کے لئے سیاسی  پالیسیوں  پر اثر انداز ہونا پڑے گا۔ یہ پیچیدہ عمل بھی اسی وقت پایہ تکمیل تک پہنچ سکتا ہے جب  ملک کی تمام سیاسی قوتیں مل کر  یہ مقصد حاصل کرنے کے لئے ایک خوشگوار ماحول پیدا کریں ۔

البتہ عمران خان نے    نئی فوجی قیادت سے  ’عدم اعتماد‘ کی فضا ختم کرنے کا  جو مطالبہ کیا  ہے،  وہ    فوج  کو بطور ادارہ ’غیر سیاسی‘ کرنے کے منصوبہ سے میل نہیں کھاتا۔  عمران خان کا دعویٰ ہے کہ فوج کو اس عدم اعتماد کو ختم کرنے کے لئے کام کرنا ہوگا جو گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران پیدا کیا گیا ہے۔  یہ ایک ناجائز مؤقف ہے کیوں کہ اس میں ماضی قریب کے اس مؤقف کو دہرایا گیا ہے کہ فوج نے اپریل  میں تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک  ناکام بنانے کے لئے مناسب کارروائی نہیں کی تھی اس لئے اسے عوامی ناراضی کا سامنا کرنا پڑا۔  عمران خان کے بیان کردہ اس اصول کو مان لیا جائے تو ہر سیاسی پارٹی فوج کو اپنے مقاصد کی تکمیل  کے لئے استعمال کرنا چاہے گی۔ یہ طرز عمل نہ تو قائد اعظم اس فرمان سے مطابقت رکھتا ہے جس کا حوالہ عمران خان کے ٹوئٹ میں دیا گیا  ہے اور نہ ہی اس اصول کو نمایاں کرتا ہے کہ ملک میں سیاسی حکومت  بنانے یا توڑنے میں فوج کا کوئی کردار نہیں ہونا چاہئے۔  ستم ظریفی یہ ہے کہ عمران خان  حوالہ   تو قائد کے اس بیان کا دے رہے ہیں جس میں   فوج کو عوام کا خادم  بن کر رہنے کی تلقین کی گئی ہے لیکن تقاضہ یہ کررہے ہیں کہ  فوج ایک لیڈر اور پارٹی کی سیاسی ناکامی  کی ذمہ داری قبول کرے ۔ دوسرے لفظوں میں  یہ کہا جارہا ہے کہ  فوج کا وہی کردار قابل قبول ہوگا جس میں وہ عمران خان کی سیاسی خواہشات  کی تکمیل میں آلہ کار بننے پر تیارہو۔ عمران خان کو جان لینا چاہئے کہ اب ان کا یہ خواب پورا نہیں ہوسکتا۔ فوج  کی طرف سے غیر سیاسی ہونے کا  خواہ کچھ بھی مفہوم ہو لیکن اس  کا ایک اشارہ تو بہت واضح ہے  کہ پاک فوج  اب اپنے ہی ’پراجیکٹ عمران خان‘ سے تائب ہونے کا اعلان کررہی ہے۔

اس ٹوئٹ میں یہ غلط فہمی پیدا کرنے کی کوشش بھی کی گئی ہے کہ  جیسے ریاست پاکستان پاک فوج ہی کا دوسرا نام ہے حالانکہ اسی غلط تصور کو مسترد کرنے کی ضرورت ہے  تاکہ فوج آئینی حدود میں رہ کر کام کرسکے۔ فوج  مملکت پاکستان کی دفاعی ضروریات پوری کرنے کے لئے قائم کیا جانے والا ایک محکمہ ہے جو وزارت دفاع کے تحت کام کرتا ہے۔  فوج ، ریاست پاکستان کی کسٹوڈین   نہیں ہے۔  ریاست پاکستان یہاں آباد عوام کی ملکیت ہے ، اسی لئے ملکی آئین  اور جمہوری اصولوں کا تقاضہ ہے کہ ان کی خواہشات  کے مطابق اس ملک کے معاملات طے کئے  جائیں۔ عوام کی یہ مرضی ان کے منتخب نمائیندوں کے ذریعے پوری ہوتی ہے ۔ اس لئے ریاست  کی حفاظت و نمائیندگی کی  حقیقی علامت ملکی پارلیمنٹ ہے، پاک فوج نہیں۔ عمران خان  فوج اور عوام کے درمیان جس عدم اعتماد کا حوالہ دے رہے ہیں، اس کی بنیاد آٹھ ماہ پہلے نہیں بلکہ ستر سال پہلے رکھی گئی تھی۔  اس لئے 8  ماہ کا جائزہ لے کر  عسکری ادارے اور عوام کے درمیان حائل  فاصلوں کا احاطہ نہیں کیا جاسکتا ۔  عمران خان خود فوج کے ا س  تصور حکمرانی کی پیداوار ہیں جس کے تحت ملک پر مرضی کی حکومتیں مسلط کرنے کا  اختیار پارلیمنٹ کی بجائے جی ایچ کیو منتقل کیا گیا تھا۔

موجودہ عدم اعتماد  فوج کی طرف سے عمران خان کی سیاسی امداد بند کرنے کی وجہ سے پیدا نہیں ہؤا  بلکہ   تحریک انصاف کے جھوٹے پروپیگنڈے  نے   اپنی اس ناکامی کو فوج مخالف تحریک کی شکل دینے کی کوشش کی  ہے جو بوجوہ ناکام ہوچکی ہے۔  اس عمل میں فوج کی شہرت  ضرور متاثر ہوئی  ۔  اسے بحال کرنے کے لئے فوج کو دوبارہ عمران خان سے رجوع کرنے کی بجائے قائد اعظم کے فرمان کے مطابق منتخب حکومت کے احکامات کا پابند  رہنے کا قصد کرنا ہوگا۔ تب  ہی  عوام  فوج کو  عوامی حکمرانی  کے نظام  کا حصہ مانیں گے اور  سیاسی لیڈر   خود  معاملات طے کرنے کا حوصلہ و صلاحیت پیدا کریں گے۔

loading...