عمران خان کے سیاسی آپشن محدود ہیں

سوچنا تو  پڑے گا کہ ایسے کون سے  عوامل  ہیں کہ  جن لوگوں کو عمران خان ’چور لٹیرے ‘ قرار دیتے ہوئے، بات کرنے اور ہاتھ ملانے سے گریز کرتے رہے ہیں ، اب ان ہی کی حکومت سے  مذاکرات  کی خواہش کا اظہار کررہے ہیں۔  سیاسی معاملات میں مصالحت اور عمران خان کی طرف سے بات چیت پر آمادگی  بجائے خود ایک مثبت اور اچھی خبر ہے  تاہم  موجودہ ماحول میں بامقصد مذاکرات کے لئے پیشگی شرائط رکھنا مناسب طریقہ نہیں ہوگا۔

عمران خان کی  پیش کش کے دو پہلو  قابل توجہ ہیں۔ 1: تحریک انصاف  اگر حکومت کو واقعی بات چیت پر آمادہ کرنا چاہتی ہے تو اس کے لئے الزامات سے بھرپور سیاسی تقریر کی بجائے براہ راست رابطہ یا مشترکہ دوستوں کے ذریعے  کشیدگی کم کرنے کی کوشش کرنا ضروری ہوگا۔ 2: عمران خان نے  لاہور میں پارلیمانی کے لیڈروں سے  خطاب کرتے ہوئے  جس انداز میں بات چیت کی پیشکش کی ہے ، اس سے مصالحت اور مل جل کر آگے بڑھنے کا کوئی راستہ    ہموار نہیں ہوگا۔ عمران خان کا دعویٰ ہے کہ  ’یہ ناکام حکومت ہے۔ جس نے معیشت کو زیر بار کیا ہے۔  یہ عوام کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہی۔ اب اس کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ وہ انتخابات کی تاریخ دے اور  ہمارے ساتھ اس بارے میں بات کرلے۔ بصورت دیگر میں  دو صوبوں کی اسمبلیاں توڑ دوں گا اور  ملک کے 66 فیصد حصے میں انتخابات ہوں گے اور ایک تہائی میں ایک لولی لنگڑی اور ناکام حکومت رہ جائے گی‘۔

ان دونوں پہلوؤں پر غور کیا جائے تو دیکھا جاسکتا ہے کہ  عمران خان بنیادی طور پر مصالحت  یا سیاسی مکالمہ کی بات نہیں کررہے بلکہ حکومت کو دھمکا رہے ہیں کہ اگر  اس نے انتخابات کی تاریخ نہ دی تو وہ اسمبلیاں توڑ کر ملک کے بڑے حصے میں اپنی طاقت ور حکومتیں قائم کرلیں گے۔   یہی وجہ ہے کہ انہوں نے سیاسی مکالمہ کے ذریعے پارٹی کی بنیاد پر مخالف سیاسی پارٹیوں سے رابطہ کرنے یا مختلف سطح پر سیاسی عناصر کے ساتھ مکالمہ  کی بجائے ایک تقریر میں حکومت کے خلاف چارج شیٹ پیش کرتے ہوئے بات چیت کی پیش کش کی ہے جو ایک نکاتی ایجنڈے پر  مشتمل ہے:  میری بات مان کر انتخابات منعقد کرواؤ اور عبرت ناک سیاسی شکست کے بعد اقتدار میرے حوالے کرکے گھروں کو جاؤ۔

دیکھا جائے اگر حکمران پارٹیوں کو بہر صورت اقتدار سے محروم ہی ہونا ہے اور انتخابات میں انہیں ہر قیمت پر شکست فاش ہی کا سامنا کرنا پڑے گا تو انہیں پھر عمران خان کے ساتھ مل بیٹھ کر کسی وسط مدتی انتخابات پر آمادہ ہونے کی کیا ضرورت ہے۔ جیسا کہ پاکستانی سیاست میں واضح ہے کہ  گو کہ ملک میں پارلیمانی طرز حکومت مروج ہے جس میں حکمران اور اپوزیشن پارٹیاں مل جل کر امور مملکت طے کرتی ہیں لیکن سیاسی لیڈروں کی انا پرستی اور مفاد پسندی کی وجہ سے  مل جل کر کام کرنے کے سارے راستے مسدود کئے جاچکے ہیں۔ ملکی آئینی انتظام کا تقاضہ  تویہی ہے کہ ان راستوں کو کھولا جائے، تصادم کی شدت کو کم کیا جائے اور سیاسی مکالمہ شروع کرنے کے لئے   اسمبلیوں کے اندر اور باہر   تعاون اور مواصلت کا آغاز کیاجائے۔  تاہم یہ بھی طے   ہے کہ جس انداز میں عمران خان نے مذاکرات کی بات  کی ہے ، وہ کسی بامقصد سیاسی مفاہمت کی راہ ہموار نہیں کرے گا بلکہ اس سے فاصلے بھی بڑھیں گے اور ملکی سیاست میں موجودہ ہیجان بھی قائم رہے گا۔

تحریک انصاف کے پاس  اسمبلیاں توڑنے کا آپشن ہمیشہ سے موجود تھا۔  پنجاب میں حمزہ شہباز کے چند ہفتوں کی وزارت اعلیٰ کے دور کے علاوہ تحریک انصاف ہی کی  حکومت رہی ہے لیکن عمران خان  یا پارٹی کی طرف سے پہلے کبھی اسمبلیاں توڑنے کی بات نہیں کی گئی ۔ حالانکہ اپنے خلاف عدم اعتماد کو ناکام بنانے  کے لئے عمران خان جس وقت پرویز الہیٰ کو وزیر اعلیٰ بنانے کے لئے عثمان بزدار سے استعفی  لے رہے تھے تو اس وقت  پنجاب  اور خیبر پختون خوا اسمبلی توڑنا نسبتاً     آسان اور مؤثر راستہ ہوسکتا تھا۔ دو اسمبلیاں ٹوٹ جانے  کے  بعد اگرچہ اپوزیشن کی طرف سے عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ تو کروانا پڑتی لیکن اس صورت میں شاید اپوزیشن خود ہی  اس تحریک کو واپس لینا مناسب سمجھتی۔ یوں    شاید عمران خان وزارت عظمی بچانے کے ناممکن مشن میں  کامیاب ہوجاتے۔ تاہم عمران خان نے ایک وفادار وزیر اعلیٰ عثمان بزدار سے استعفیٰ لے لیا  اور پنجاب کی وزارت اعلیٰ  محض 10 نشستیں رکھنے والی مسلم لیگ (ق) کے حوالے کردی لیکن صوبائی اسمبلیاں توڑنے کا حوصلہ  نہیں کیا۔

متعدد مبصرین اور حکمران جماعتوں کے ترجمان  البتہ یہ بات کرتے رہے ہیں کہ اگر عمران خان واقعی قبل از وقت انتخابات چاہتے ہیں تو وہ  صوبائی اسمبلیاں توڑ کر یہ مقصد حاصل کرسکتے ہیں۔ لیکن عمران خان نے ان  تبصروں پر کان دھرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔  اب پنجاب اسمبلی توڑنا  بہر صورت اتنا آسان نہیں رہا جتنا سہل عثمان بزدار کے وزیر اعلیٰ ہوتے ہوئے  تھا کیوں کہ پرویز الہیٰ کو عمران خان کے ساتھ اتحاد کے علاوہ  مستقبل میں اپنی سیاسی حیثیت کے بارےمیں بھی غور کرنا ہوگا۔ پرویز الہیٰ اس وقت تحریک انصاف کی اعانت سے وزیر اعلیٰ بنے ہوئے ہیں۔ تحریک انصاف کے پاس انہیں اس پوزیشن میں قبول کرنے کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں ہے۔ البتہ اگر فوری طور سے اسمبلی توڑ کر نئے انتخابات منعقد ہوتےہیں تو کامیابی کی صورت میں تحریک انصاف یہ عہدہ  بہر حال پرویز الہیٰ کو نہیں دے گی۔ مسلم لیگ (ق) کو شاید  مستقبل  کے کسی انتخاب میں اتنی نشستیں بھی نہ مل سکیں جو  اسے اس وقت حاصل ہیں۔ اور جو نشستیں ملیں گی ، وہ بھی عمران خان کے تعاون یا  سرپرستی ہی کی وجہ سے ملیں گی۔  پرویز الہیٰ کو کسی  خاص سیاسی نمائیندگی کے بغیر پورے پنجاب پر حکومت کرنے کا جو موقع اس وقت ملا ہؤا ہے ، وہ شاید  زندگی میں دوبارہ نہیں مل سکے گا۔ وہ اس کے ایک ایک لمحے سے لطف اندوز ہونا چاہیں گے۔ فی الوقت وہ عمران خان کو ’جو حکم سرکار‘ کی یقین دہانی کرواتے ہوئے،  درحقیقت اپنے اقتدار کی حفاظت کا سامان ہی  بہم پہنچا رہے ہیں۔

عمران خان کی طرف سے مذاکرات کی پیش کش کو اگر مونس الہیٰ کے تازہ ٹی وی انٹرویو کی روشنی میں پرکھنے کی کوشش کی جائے تو اس پیچیدہ سیاسی گتھی کی کچھ گرہیں  کھولی جاسکتی ہیں۔ مونس الہیٰ  نے ایک طرف سبک دوش ہونے والے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی  وکالت کی ہے اور واضح کیا ہے کہ تحریک انصاف کی سیاسی طاقت کی اصل وجہ جنرل قمر  جاوید باجوہ ہی تھے جنہوں  نے ’دریا کا رخ تحریک انصاف کی حمایت میں موڑ دیا‘۔  دوسری طرف انہوں نے  اسمبلی توڑنے کے بارے میں عمران خان کے ساتھ ہونے والی  بات چیت کی کچھ تفصیلات بھی پیش کی ہیں۔ انہوں نے بتایا ہے کہ پرویز الہیٰ نے عمران خان پر واضح کردیا ہے کہ فوری طور سے اسمبلیاں توڑنے کا سیاسی نقصان ہوگا، اس لئے اس معاملہ پر اچھی طرح غور کرلیا جائے۔ اسی  تجویز پر دونوں  پارٹیاں (تحریک انساف اور مسلم لیگ ق) متفق ہوئی ہیں کہ وہ اپنے ارکان سے رابطہ کرکے حتمی رائے قائم کریں گی۔ تاہم اس کے ساتھ ہی مونس الہیٰ نے ایک بار پھر ’یقین‘ دلایا ہے کہ حتمی فیصلہ عمران خان کا ہی ہوگا۔ وہ جب  چاہیں اسمبلیاں توڑ سکتے ہیں۔

جنرل باجوہ کے خلاف تحریک انصاف کی مہم جوئی کو سختی سے  مسترد کرتے ہوئے مونس الہیٰ جس  سیاسی ہوشمندی  کی بات کررہے ہیں، اس  میں عمران خان اور تحریک انصاف کے لئے بہت سے پیغام پوشیدہ ہیں۔ مونس الہیٰ نے تو یہ بھی واضح کردیاہے کہ   مسلم لیگ (ق)    جنرل باجوہ ہی کی خواہش پر تحریک انصاف کے ساتھ ہے۔  مونس الہیٰ  نے  یہ بھی کہا ہے کہ  فوج  کی نئی قیادت سے ان کا کوئی رابطہ نہیں ہے لیکن انہوں نے اس بارے میں کو ئی شبہ بھی  نہیں رہنے دیا کہ مونس الہیٰ اور پرویز الہیٰ کا سیاسی  کعبہ کہاں ہے۔  عمران خان کو اپنی جس مقبولیت اور عوامی تائید پر یقین ہے، اس کے دو پہلو  قابل غور ہیں۔ ایک تحریک انصاف کا اینٹی اسٹبلشمنٹ بیانیہ اور دوئم  موجودہ حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے  عوام کی بیزاری۔  پرویز الہیٰ حلقوں میں ترقیاتی کام کے نام پر ارکان اسمبلی کو کثیر وسائل فراہم کررہے ہیں اور امید کررہے ہیں کہ   ان کے امید وار جب روپے کی چمک کے  ساتھ انتخابی میدان میں اتریں گے تو مخالف سیاسی  جماعتوں کے امیدواروں کو درحقیقت اس بوجھ کا جواب دینا پڑے گا جو وفاق میں حکومت سنبھالنے کی وجہ سے عوام کے سروں پر مہنگائی اور معاشی  بے یقینی کی صورت میں لاد دیا گیا تھا۔

اب اگر عمران خان واقعی  تحریک انصاف کے ’کھمبوں‘ کو اپنے نعرے کی بنیاد پر کامیاب کروانا چاہتے ہیں تو  صرف شریف  و زرداری خاندان کو چور کہنے سے کام نہیں چلے گا۔ انہیں کسی نہ کسی صورت اینٹی اسٹبلشمنٹ  سیاست کو  بھی زندہ رکھنا پڑے۔ مونس الہیٰ جیسے حلیف ایسی کسی حکمت عملی میں ساتھ دینے پر آمادہ نہیں ہوں گے۔   ویسے بھی عمران خان نے دو روز پہلے نئے آرمی چیف  سے  مطالبہ کیا ہے کہ وہ عوام کے ساتھ  عدم اعتماد کا ماحول ختم کریں۔ نئی فوجی قیادت  اس حوالے سے  جو بھی کام کرے گی ، اس سے فوج  کا اعتماد بحال ہوگا اور اینٹی اسٹبلشمنٹ سیاست کمزور ہوگی۔ عمران خان کے پاس اگر اسٹبلشمنٹ کے خلاف نعرہ زن ہونے کا موقع  بھی نہ رہا تو ان کی سیاسی  زنبیل میں  ’قابل فروخت‘ مال کم ہی  ہوگا۔

loading...