عثمان بزدار کو وزیراعلیٰ بنانے کا فیصلہ جنرل فیض اور جہانگیر ترین کا تھا: پرویز الٰہی

  • سوموار 05 / دسمبر / 2022

وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی نے کہا ہے کہ عثمان بزدار کو وزیراعلیٰ بنانے کا فیصلہ جنرل فیض اور جہانگیر ترین کا تھا۔ ہم نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی تھی۔ اگر فیض صاحب میری باتیں مان لیتے تو پچھلے چار سال ضائع نہ ہوتے۔

ہم نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے پرویز الٰہی نے کہا کہ ججز، عدلیہ، فوج سمیت تمام اداروں کے ساتھ بہت پرانا تعلق ہے۔ یہ 80کی دہائی سے چلا رہا ہے۔ ہمارا یہی ماننا ہے کہ ان کے جتنا قریب رہیں گے، اتنا ہی حالات و واقعات پر زیادہ نظر رہے گی۔ عمران خان صاحب ہمارے ساتھ چار سال سے چل رہے ہیں جبکہ اس سے قبل ہم قادری صاحب کے ایونٹس میں بھی ہم اکٹھے تھے۔ شروع شروع میں خان صاحب کے اردگرد لوگوں نے بڑی غلط فہمیاں پیدا کیں لیکن حالات و واقعات نے وہ غلط ثابت کیں۔

انہوں نے کہا کہ جب میں نے حلف لیا تو میں نے کہا تھا کہ میں اسمبلی توڑنے میں ایک منٹ بھی نہیں لگاؤں گا۔ اب بھی میرا یہی کہنا ہے کہ خان صاحب جب بھی کہیں گے تو اسمبلیاں توڑ دوں گا لیکن اب آپ نے یہ سوچنا ہے کہ اس میں فائدہ کیا ہے اور نقصان کیا ہے۔

پرویز الٰہی نے کہا کہ فی الحال چار ماہ تو کچھ نہیں ہو رہا۔ اپوزیشن کے پاس مذاکرات کا اچھا موقع ہے کہ وہ بیٹھ کر بات کریں۔ مارچ تک انہیں اپنا ہوم ورک کرنا چاہیے کہ الیکشن کیسے ہو گا۔ چیف الیکشن کمشنر پر ہمیں بڑے اعتراضات ہیں۔ ان کی یہ کوشش ہے کہ عمران خان کو نااہل کردیں۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ اس کا مطلب ہے کہ اسمبلی اپنی مدت پوری کرے گی تو انہوں نے کہا کہ یہ بات نہیں ہے۔ اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ اپوزیشن کا کیا رویہ رہتا ہے اور جو بٹھانے والے ہیں، وہ بٹھائیں گے لیکن مارچ تک اسی طرح معاملہ چلے گا۔

پنجاب میں حکومت کے قیام میں سابق آرمی چیف کے کردار کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ مجھے شریف برادران کے بارے میں ہمیشہ سے شک تھا کیونکہ میں نے 18سال ان کے ساتھ گزارے۔ مجھے پتا تھا کہ میں جو صوبے کے لیے کام کرنا چاہتا ہوں تو وہ کرنے نہیں دیں گے۔ جب ادارے سے بات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ آپ خود سوچ لیں کہ آپ کے لیے کیا بہتر ہے۔ ہم نے انہیں بتایا کہ عمران خان سے بات ہو گئی ہے تو انہوں نے بھی کہا کہ یہ بہتر راستہ ہے۔

ایک اور سوال پر ان کا کہنا تھا کہ نہ خان صاحب نے ڈبل گیم کھیلی ہے اور نہ باجوہ صاحب نے ڈبل گیم کھیلی۔ حالات و واقعات آپ کو ایسی جگہ پر چھوڑ دیتے ہیں کہ آپ کے پاس کوئی راستہ نہیں ہوتا۔ میرے نظر میں خان صاحب کا صحیح فیصلہ تھا، میرا اور مونس کا فیصلہ بھی درست تھا اور اس کا نتیجہ بھی درست نکلا۔

انہوں نے کہا کہ ڈی جی آئی والے مسئلے پر بھی ہمارا یہی موقف تھا کہ باجوہ صاحب نے آپ کے لیے بہت کچھ کیا ہے اور عزت دینے سے آپ کی عزت بڑھے گی۔ فیض صاحب کا معاملہ عجیب طرح کا تھا تو اس کا یہی حل تھا کہ وہ ریٹائر ہو گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ فیض صاحب میری کچھ باتیں مانیں، مزید کچھ اور مان لیتے تو پچھلے چار سال ضائع نہ ہوتے۔ حالانکہ عثمان بزدار کو میں نے ہی بنوایا تھا کیونکہ اس کے والد کے ساتھ تعلق تھا لیکن ہمارا صوبہ کئی ممالک سے بڑا ہے۔ اس طرح سے صوبہ نہیں چلتا، اس کا نقصان ہوا ہے۔

چوہدری پرویز الٰہی نے کہا کہ عثمان بزدار کو وزیراعلیٰ بنانے کا فیصلہ جنرل فیض اور جہانگیر ترین کا تھا اور ہم نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کو میر جعفر میر صادق والی بات نہیں کہنی چاہیے تھی۔ جن کے ساتھ آپ رہے ہیں، جنہوں نے آپ کی مشکل وقت میں اتنی مدد کی، ان کے بارے میں ایسا نہیں کہنا چاہیے تھا۔ لیکن عمران خان ہمارا لیڈر ہے تو ان کے بارے میں زیادہ نہیں کہہ سکتا۔

اس سے قبل بول نیوز کے اینکرپسن سمیع ابراہیم کو انٹرویو دیتے ہوئے چوہدری پرویز الٰہی نے کہا ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ نئے انتخابات صاف اور شفاف ہوں اور جو نیا ’سیٹ اپ‘ آیا ہے وہ اس بات پر قائم ہے کہ منصفانہ اور شفاف انتخابات کرائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم دعا کرتے تھے کہ کوئی ایسا شخص آئے جو شریفوں کو نتھ ڈالے کیونکہ وہ کام بھی غلط کرتے ہیں، کسی حکومت کو چلنے بھی نہیں دیتے اور جو ان کو لاتا ہے اسے ختم کرتے ہیں۔

وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی نے کہا کہ عمران خان کی ایک چیز کو تسلیم کرنا ہوگا کہ انہوں نے گولیاں برداشت کرنے کے باوجود بھی شریف خاندان کے لیے خوف پیدا کردیا ہے اور اب ہر وقت ان کی زبان اور سوچ میں صرف عمران خان کا نام ہے جس کی پاکستان کو بہت ضرورت تھی۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ ہر بار جب بھی کسی سے جھگڑا ہوا ہے تو اس میں قصوروار نواز شریف ہی تھے جن کو بہت تکبر ہے اور اب یہ چیز ان کے بچوں میں منتقل ہوگئی ہے۔ مگر لگتا ہے کہ عمران خان ہی ان کو سزا دیں گے۔

جب چوہدری شجاعت اور محسن نقوی میرے پاس آئے اور بتایا کہ میاں صاحب نے پیشکش کی ہے مگر اسی دوران عمران خان نے بھی پیشکش کی اور میرے دل میں یہ تھا کہ کسی طرح شریف خاندان سے دور رہیں کیونکہ انہوں نے میرے ساتھ 5 بار دھوکا کیا ہے۔ عمران خان چاہتے تھے کہ ہم ان کے ساتھی بنیں اور مونس الٰہی کی بھی ضد تھی کہ ہمیں عمران خان کا ساتھ دینا ہے اور اسی طرح جاتے جاتے اللہ نے ہمیں راستہ دکھانے کے لیے قمر جاوید باجوہ کو بھیج دیا۔

انہوں نے کہا کہ جب میں نے باجوہ صاحب سے بات کی کہ ہمیں شریفوں سے یہ خطرات ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ آپ خود سوچ کر چلیں کیونکہ آپ اور آپ کے دوستوں کے لیے عمران خان کا راستہ بہتر ہے۔ میں نے 2004 سے 2008 تک اپنے پہلے دور میں شریف خاندان کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کی اور اب بھی ایسا کچھ نہیں کیا مگر وہ جب بھی حکومت میں آتے ہیں تو وہیں سے شروع کرتے ہیں جہاں زیادتیوں کا سلسلہ چھوڑتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان نے سیلاب زدہ صوبوں کے لیے فنڈ جمع کیا جو ہم نے پنجاب میں تقسیم کرنا شروع کردیا ہے اور سندھ کے لیے بھی ایک ارب رکھا گیا ہے لیکن ابھی تک سندھ میں سروے مکمل نہیں ہوا۔ ہم نے ایمرجنسی ہسپتالوں میں ادویات مفت کردی ہیں اور وہاں کام کرنے والے طبی عملے کی تنخواہیں بھی تین گنا بڑھا دی گئی ہیں۔

اورینج لائن پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے ہر سال اربوں روپے کا نقصان ہو رہا تھا اس لیے ہم نے اس میں تبدیلی کرکے سفر کے لحاظ سے کرایہ مقرر کردیا ہے جس سے ریونیو بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کی وفاقی حکومت نے پنجاب میں سیلاب متاثرین کے لیے ایک پیسا بھی نہیں دیا یہاں تک کہ 170 ارب روپے بھی روکے ہوئے ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ نئے انتخابات منصفانہ بنیادوں پر ہوں اور جو نیا ’سیٹ اپ‘ آیا ہے وہ اس بات پر قائم ہے کہ منصفانہ اور شفاف انتخابات کرائیں گے اور اس صورت ہمیں راستہ مل جائے گا کیونکہ نیا سیٹ اپ خود کو ماضی سے علیحدہ رکھے گا۔

پرویز الٰہی نے کہا کہ فوج اور اداروں کے ساتھ ہماری انڈرسٹینڈنگ 1983 سے چلتی آرہی ہے۔ آصف زرداری کی بہت مہربانیاں رہی ہیں اور میں ان کا نائب وزیراعظم بھی رہا ہوں مگر جب ملک و قوم کی بات آجائے تو اپنی ذات کی بات ختم ہوجاتی ہے۔ تاہم زرداری صاحب کو یہ سمجھنا چاہیے کہ شریفوں کے بارے ہمیشہ سے ان کے کیا خیالات رہے ہیں، یہ مجھے کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ تعلقات پہلے بھی تھے اور اب بھی ہیں مگر سیاست اور سوچ اپنی اپنی ہے بلکہ جب وہ حکومت میں نہیں آئے تھے تو مجھے کچھ کام کرنے کے لیے فون کرتے تھے۔

چوہدری پرویز الٰہی نے کہا کہ عمران خان خود تو ایماندار شخص ہیں لیکن اس سے قبل پنجاب میں جس غیر تجربہ کار ٹیم کو لایا گیا اس نے بیڑا غرق کردیا۔ پچھلے تین چار سال میں پنجاب کا بالکل ستیا ناس ہوا ہے۔

loading...