عدالتوں اور ججز کے خلاف بیان پر اسد عمر لاہور ہائیکورٹ میں طلب

  • سوموار 05 / دسمبر / 2022

لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے 26 نومبر کو راولپنڈی میں تقریر کے دوران عدالتوں اور ججز کو متنازع کرنے پر پاکستان تحریک انصاف کے سکریٹری جنرل اسد عمر کو سات دسمبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ کے جج جسٹس جواد حسن نے ایڈیشنل رجسٹرار لاہور ہائی کورٹ پنڈی بنچ کی درخواست پر اسد عمر کے خطاب کی جواب طلبی کی ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 14 کے تحت کسی بھی ادارے اور شخصیت کو متنازع نہیں بنایا جاسکتا۔ عدالت نے اسد عمر کا ویڈیو بیان اور اس کا ٹرانسکرپٹ بھی طلب کر لیا ہے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ اسد عمر نے 26 نومبر کے جلسے میں عدالتوں کو متنازع کیا اور اس تقریر میں ہی اسد عمر نے عدلیہ کے خلاف توہین آمیز الفاظ استعمال کیے۔

جسٹس جواد حسن کا کہنا تھا کہ عدالت کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ آئین کے ارٹیکل 204 کی کلاز بی کے تحت توہین عدالت کے مرتکب شخص کو سزا دے سکتی ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ عدالت پہلے اسد عمر کی تقریر کو دیکھے گی۔ اسد عمر کے بیان سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کے ایڈشنل رجسٹرار کی درخواست پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے دھرنوں کے دوران شہر کی مختلف شاہراوں کو بند کرنے سے متعلق دائر درخواست کی سماعت کے دوران عدالت کے سامنے رکھی گئی۔

درخواست کی سماعت کے دوران روالپنڈی کے کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور پولیس کے اعلی حکام پیش ہوئے۔

اس دوران پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان، پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل اسد عمر اور فواد چوہدری کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کے معاملے پر اسد عمر نے تحریری جواب سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے توہین عدالت کا نوٹس ملنے پر انہوں نے سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کیا ہے۔ اسد عمر کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کا شوکاز نوٹس غیر قانونی و غیر آئینی ہے کیونکہ آئین کا آرٹیکل 204 اعلیٰ عدلیہ کو توہین عدالت پر کارروائی کا اختیار دیتا ہے جبکہ الیکشن کمیشن عدالت نہیں۔

اسد عمر نے اپنے جواب میں عدالت سے استدعا کی ہے کہ الیکشن کمیشن کی اپیل مسترد کی جائے۔ واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے بھی پی ٹی آئی کے ان رہنماؤں کو نوٹس ملنے کے بعد الیکشن کمیشن کو ان کے خلاف کارروائی سے روک دیا تھا۔

loading...