اب ہم مہنگی بجلی کے متحمل نہیں ہو سکتے: وزیراعظم

  • سوموار 05 / دسمبر / 2022

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی ترقی کا راز پن بجلی میں ہے۔ اب ہم مہنگی بجلی کے متحمل نہیں ہو سکتے کیونکہ یوکرین اور روس کے درمیان جنگ کی وجہ سے تیل کی قیتمیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔

منگلا ڈیم پن بجلی کے یونٹ نمبر 5 اور 6 کی منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اس منصوبے کا افتتاح امریکا اور پاکستان کے درمیان تعاون کی بہترین مثال ہے۔ 1960 میں اس منصوبے کا آغاز کیا گیا تھا اور سب سے بڑے آبی ذخائر کے ڈیم کو عمل میں لایا گیا تھا جس کا کریڈٹ اس وقت کی حکومت کو جاتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ کئی دہائیوں سے قوم کی خدمات سرانجام دینے والے اس ڈیم کو اب مرمت، بہتری اور تجدید کاری کی ضرورت ہے۔ منگلا کی اپ گریڈیشن نہایت اہم ہے کیونکہ یہ منصوبہ لائق تحسین ہے اور اس کی اپ گریڈیشن کے لیے یو ایس ایڈ کی طرف سے 15 کروڑ ڈالر ہیں جبکہ فرانس کی ترقیاتی ایجنسی نے 9 کروڑ یورو دیے ہیں اور اضافی 6 کروڑ 50 لاکھ یوروز دینے کا عزم بھی کیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ واپڈا نے بھی اپنے وسائل سے 20 ارب روپے کی رقم دی ہے۔ پاکستان آج مشکل چیلنجز سے نبرد آزما ہے اور ہماری مخلوط حکومت چیلنجز کا مقابلہ کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ منگلا، تربیلا اور دیگر زیر تعمیر ڈیم اللہ تعالیٰ کی طرف سے پاکستان کو تحفہ ہیں اور اگر 75 سالوں میں جمہوری اور فوجی حکومتوں میں اس طرح کے ڈیم بنے ہوتے تو پاکستان ایندھن مصنوعات کا بل 27 ارب ڈالر نہ ہوتا۔ پتا نہیں وہ کون سی قوتیں تھیں جنہوں نے ڈیمز نہ بننے دیے جن سے پاکستان کو پن بجلی فراہم ہوتی اور اسی طرح ملک ترقی کی راہ ہر گامزن ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ اگر ڈیمز بنے ہوتے تو 27 ارب ڈالر کا عشر عشیر بھی خرچ نہ کرتے اور چند ارب خرچ کرکے باقی رقم بچا لیتے اور وہ پیسا دیگر شعبوں پر لگایا ہوتا۔ اب رونے دھونے سے کچھ نہیں ہوگا ہمیں آگے بڑھنا ہے۔

موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سیلاب نے پاکستان میں تباہی مچا دی جبکہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی میں ایک فیصد بھی شامل نہیں کرتا اور دیگر ممالک کو سمجھنا چاہیے۔ دیگر ممالک کو پاکستان کو سمجھنا اور اس کی تعریف کرنا ہوگی اور مدد کے لیے آنا ہوگا کیونکہ ہم خیرات نہیں انصاف مانگ رہے ہیں۔

پاکستانی قیادت کی مشترکہ کاوشوں سے پاکستان کا بیانیہ بین الاقوامی سطح پر سنا گیا اور یوں ’لاس اینڈ ڈیمیج‘ تشکیل دیا گیا جس کے تحت فنڈز آگے چل کر ملیں گے۔

وزیراعظم نے زور دیا کہ ہمیں اپنا خود محاسبہ کرنا ہوگا اور باہر کی طرف دیکھنے کے بجائے خود میں توانائی اور ہمت پیدا کرنی ہوگی۔ آج کے منصوبے کا افتتاح ہمیں پیغام دیتا ہے کہ آگے بڑھو۔ پاکستان کی ترقی کا راز بن بجلی میں ہے اور اب ہم مہنگی بجلی کے متحمل نہیں ہو سکتے کیونکہ یوکرین اور روس کے درمیان جنگ کی وجہ سے تیل کی قیتمیں آسمانوں سے باتیں کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہوا، کوئلہ اور پاکستان کے اپنے ذخائر ہم نے استعمال نہیں کیے اور دن رات تیل خرید کیا جاتا رہا جس کو کارٹلز ڈکٹیٹ کرتے رہے۔ تعمیر و ترقی عمل سے ہوتی ہے نعروں اور دھرنوں سے نہیں اور جب تک ملک میں سیاسی استحکام نہیں آئے گا ترقی نہیں ہوگی۔

loading...