یاسر پیرزادہ کے اتباع میں

ہماری دھرتی ہزاروں قرن پر گندھا ایک نقش مسلسل ہے کہ فلک اس کی سمائی کو کم ہے۔ رنگوں اور خوشبوؤں کا جادو ایسا کہ ہر گام پر دامن دل کھینچتا ہے۔ پیڑ بوٹوں کی گلگشت اور چرند پرند کی بوقلمونی کا کیا ذکر، مشت خاک میں ہنر کی کارفرمائی کا ایک سے بڑھ کر ایک معجزہ یہاں گزرا ہے مگر صاحبو میرؔ سا کوئی کیا ہو گا۔

انیسویں صدی اٹھا کر دیکھیے، رام موہن رائے، اسداللہ غالب، لالہ دین دیال، سری آربندو، صدر الدین آزردہ، ڈپٹی نذیر، سید احمد خان، گوہر جان اور ٹیگور۔۔۔ غرض چراغوں کی ایک قطار ہے کہ جنگل کی رات میں امڈے ابر سیاہ کے نیچے کھڑے پیڑوں کی اوٹ میں روشنی کے نشان چھوڑتی چلی جاتی ہے۔ اب اس کا مقابلہ اٹھارہویں صدی سے کیجئے، اورنگ زیب کی موت، دودمان مغلیہ کے زوال، نادر شاہی قتل عام، احمد شاہ ابدالی کی یلغار نیز شاہ ولی اللہ کی ناسخ طبعی سے قطع نظر اٹھارہویں صدی کے بھارت میں میر تقی میر کے سوا کیا رکھا ہے۔ میر تقی ایک ہی ساونت تھا جو ہندوستانی تہذیب کی شکست کے ملبے میں آب مقطر کا چشمہ تھا۔ شعر کے ہنر میں میر کی یکتائی ماورائے بحث ہے۔ اس کا معجزہ تو جذب دروں، احساس کی شیشہ گری اور فکر کی رسائی کا ایسا امتزاج ہے جو ذات کی خود داری اور سعی کی تحدید کے ادراک سے جنم لیتا ہے۔

میر ایسا شاعر نہیں کہ ایک شعر میں نصابی نمونہ کلام پیش کر دیا جائے۔ اس کی تو ایک ایک ترکیب میں ہزار طرزیں ہیں۔ اردو کا ایک سادہ سا لفظ ہے، گلی۔ آبروؔ شاہ مبارک سے فیضؔ، ناصرؔ اور احمد مشتاقؔ تک اردو شعرا نے اپنے اپنے رنگ میں یہ لفظ باندھ رکھا ہے۔ اب خدائے سخن کی کچھ جھلکیاں دیکھئے:

 دل مجھے اس گلی میں لے جا کر / اور بھی خاک میں ملا لایا

گلی میں اس کی گیا سو گیا نہ بولا پھر / میں میرؔ میرؔ کر اس کو بہت پکار رہا

 چلا نہ اٹھ کے وہیں چپکے چپکے پھر تو میرؔ / ابھی تو اس کی گلی سے پکار لایا ہوں

آج میرؔ صاحب کیوں یاد آئے۔ درویش کے ایک مہربان دوست یاسر پیرزادہ اردو کالم لکھتے ہیں۔ کالم کیا لکھتے ہیں، پشمینے کی چادر بنتے ہیں۔ آپ کے نیاز مند کے لئے لکھنا گویا ہسپانوی احتساب کے شکنجے میں عقوبت کی آزمائش ہے۔ ادھر یاسر صاحب کی تحریر کشمیری چائے کی پیالی ایسی خوش ذائقہ اور خوشبو دار ہے۔ دل و دماغ پر پورن ماشی کرنوں کی طرح سبک اترتی ہے۔ کسی ہم عصر کی تعریف کرنا آسان نہیں ہوتا۔ وصل میں رنگ اڑ گیا میرا / کیا جدائی کو منہ دکھاؤں گا۔ مگر صاحب کیا کہنے، یاسر صاحب کے موضوعات تصوف، فلسفے اور سائنس سے لے کر روز مرہ زندگی کے مشاہدات تک پایاب ندی کی سبک خرامی کا نمونہ ہیں۔ بہت سر کھپاتا ہوں کہ ایسے آسان لہجے میں بات کرنا سیکھ لوں۔ مشکل اس یہ ہے کہ ایسا زود فہم لکھنے کے لئے مرتب سوچ اور صفائے قلب ہی نہیں، زندگی کے بارے میں ایک خاص بے نیازی بھی درکار ہوتی ہے۔

محض سادہ بیانی کا معاملہ ہوتا تو میں زیادہ نہیں تو دو چار ہم عصروں کے نام گنوا دیتا۔ ان عزیزوں کی سادگی مگر عجز بیان کا پردہ ہے۔ یاسر پیرزادہ کی رواں نثر میں فکر دنیا کی ذمہ داری بھی ملتی ہے۔ سیاست پر بات کرنے سے عموماً اجتناب کرتے ہیں لیکن اگر کوئی قسمت کا ہیٹا ہاتھ آ جائے تو اسے تانگے میں بٹھا کے گھر چھوڑ آتے ہیں۔ دوست کی  یہ تعریف محض دل آسائی نہیں، سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا ہے اب درویش بھی یاسر صاحب کے اتباع کی کوشش کرے گا۔ آج کا موضوع سیاست نہیں، نوجوانوں کے لئے کچھ تجاویز ہیں۔ اگر اس میں نصیحت کی ناگواری کا احساس ہو تو بوڑھے دیہاتی کی خود کلامی سمجھ کر معاف کر دیجئے گا۔

اپنے پیشہ ورانہ فرائض میں مجھے روزانہ نوجوان لکھنے والوں کی کوئی 30 سے 40 تحریریں پڑھنا ہوتی ہیں۔ کچھ تاثرات عرض ہیں۔ آج کےلکھنے والے سے ہرگز تقاضا نہیں کہ وہ مقفیٰ مسجع تحریر لکھے لیکن یہ درخواست تو کی جا سکتی ہے کہ معمولی املا اور گرامر کا خیال رکھا جائے۔ یہ اسی صورت میں ممکن ہو کہ لکھنے والا مطالعے کو بھی کچھ وقت دے۔ مطالعے کے بغیر زبان تو خراب ہوگی، ایک بڑا نقصان یہ ہے کہ دلائل، اعداد و شمار اور قابل تصدیق حقائق کی کمزوری سے آپ کی تحریر بے اثر ہو جائے گی۔ آج کی دنیا بہت آگے جا چکی ہے۔ سکول میں اساتذہ نے ہمیں "جواب مضمون” لکھنے کا جو نسخہ بتایا تھا، وہ آج بے معنی ہو چکا۔ اردو میں مقامی زبانوں کی لغت کا استعمال قابل تحسین ہے لیکن اس کے لئے اشفاق احمد اور عطاالحق قاسمی جیسی باریک نقاشی سیکھئے۔ گالی دشنام کو سیاسی دلیل نہیں کہتے۔

دوسری عرضداشت یہ ہے کہ بھلے پاکستان کے مسائل ہی پر لکھئے لیکن پاکستان کسی سیارے پر واقع نہیں ہے۔ آپ کے فکری ذخیرے میں ہم عصر دنیا کے معاشی اور سیاسی حقائق سے شناسائی ضروری ہے۔ ورنہ ہم 50 برس پرانا آموختہ دہراتے رہیں گے۔ انٹرنیٹ نے ہمارے لئے دنیا بھر کے علمی خزانے کھول دیے ہیں۔ اپنی دلچسپی کے موضوعات کا انتخاب کر کے حالیہ برسوں میں شائع ہونے والی کتب ضرور دیکھئے۔ ایک آخری گزارش یہ کہ سیاسی نقطہ نظر مسائل و حقائق کی مسلسل کوہ کنی کا کام ہے۔ اپنی رائے پراستقامت کی بہترین صورت یہ ہے کہ ہم نئے شواہد، بدلتے ہوئے حالات کے مشاہدے اور مسلسل غور و فکر کی مدد سے اپنی رائے بدلنے کا امکان زندہ رکھیں۔

سیاسی رائے اور عقیدے میں فرق ہے۔ عقیدہ دلیل سے ماورا ہے جبکہ مکالمے کی مدد سے سیاسی رائے میں تبدیلی کا امکان زندہ رکھنا ایک ذمہ دار شہری کا نشان ہے۔ ہم میں سے کوئی ایسا نہیں جو سب جانتا ہوں۔ اسی طرح ہمارے سیاسی مخالفین میں کوئی ایسا نہیں جس کی ہر رائے لاعلمی یا بددیانتی پر مبنی ہو۔ جمہوریت بہت سے دھاروں سے تشکیل پاتی ہے۔ ان موجوں کے باہم ربط سے وہ دریا تشکیل پاتا ہے جس سے قوم آگے بڑھتی ہے۔

(بشکریہ: روزنامہ ہم سب لاہور)

loading...