وسعت اللہ خان

  • احسان صاحب چلے گئے تو کیا قیامت آ گئی؟

    کیا ہم نے کبھی مطالبہ کیا کہ ریاست حمود الرحمان کمیشن رپورٹ باضابطہ طور پر شائع کرے؟ ہم اگلے 50 برس بھی یہ مطالبہ نہیں کریں گے کیونکہ بحثیت ذمہ دار پاکستانی شہری ہمیں اپنے نصف صدی پرانے اس ریاستی بیانیے پر صد فیصد اعتماد ہے کہ مشرقی پاکستان کی محبِ وطن بنگالی اکثریت کو چند مٹھی [..]مزید پڑھیں

  • لوگ سچ مچ کا ہی مہتاب اٹھا کر لے آئے

    یہودی پچھلے تین ہزار برس میں کب کے فنا ہو کر دیگر نسلوں اور قوموں اور جغرافیوں میں گھل مل کے خلط ملط ہو کر کتابِ تاریخ کا حاشیہ ہو چکے ہوتے مگر صرف ایک جملے نے نسل در نسل انھیں بچائے رکھا۔ یہ وہ جملہ تھا جو بخت نصر کے قیدی یہودیوں کی زبان پر تھا اور پھر نسل در نسل زبان در زبان یہو [..]مزید پڑھیں

  • کیا یہ ملک فلمیں بنانے کے لیے بنا تھا؟

    جیسے زر منڈی میں نظم و نسق برقرار رکھنا اسٹیٹ بینک کی یا ٹیکس قوانین پر عمل کروانا فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی اور کمپنیوں اور اسٹاک ایکسچینج کو ریگولیٹ کرنا سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن کی ذمے داری ہے۔ اسی طرح فلمیں سنسر کرنا وفاقی و صوبائی سنسر بورڈز کا کام ہے۔ ایک طویل زوالی [..]مزید پڑھیں

loading...
  • آنکھوں میں نسیم حجازیانہ چمک

    جب آپ پرویز مشرف کیس کے تفصیلی فیصلے کے پیرا چھیاسٹھ کے پوسٹ مارٹم، مذمت اور اس پیرے کے مصنف منصف کی دماغی حالت کے بارے میں کسی درست یا غلط نتیجے پر پہنچ جائیں تو اس کے بعد میری درخواست پر ٹھنڈا پانی پی کر ایک جگہ آرام سے تنہائی میں بیٹھ کر یہ بھی سوچیے گا کہ جسٹس وقار سیٹھ نے ا [..]مزید پڑھیں

  • بھارت کا قومیت بل: دوغلا پن بھی اور مزاحمت بھی

    مجھے شری نریندر مودی یا ان کے دستِ راست وزیرِ داخلہ شری امیت شا سے کوئی شکایت نہیں۔وہ جو کچھ بھی کر رہے ہیں اخلاص کے ساتھ سینہ تان کے دھڑلے سے بیچ میدان کر رہے ہیں۔ اگر ان دونوں سے زیادہ خطرناک کوئی ہے تو وہ حزبِ اختلاف ہے۔  جو بظاہر مودی کی پالیسیوں کی کھلی دشمن ہے، آئین کے س [..]مزید پڑھیں

  • کوئی پتھر سے نہ مارے میرے دیوانے کو

    یہ بات ہمیں گھر سے درس گاہ تک متواتر ازبر کرائی جاتی ہے کہ ہر معاملے کے دو پہلو ہوتے ہیں۔ ایک منفی اور دوسرا مثبت پہلو۔ ہمیں منفی سے زیادہ مثبت پہلو کو دیکھنا اور اجاگر کرنا چاہیے۔ جیسے گلاس پانی سے آدھا بھرا ہوا ہے اور آدھا خالی ہے تو ہمیں یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ گلاس آدھا خال [..]مزید پڑھیں

  • اور کتنے غدار باقی ہیں دوست؟

    پولیو کیسز دو ہزار سترہ میں دو اور دو ہزار اٹھارہ میں آٹھ تھے۔ دو ہزار انیس میں سو سے تجاوز کر چکے ہیں اور ابھی سال ختم ہونے میں پانچ ہفتے باقی ہیں۔ مگر پولیو سے اگلی نسل کو بھلے خطرہ ہو لیکن قومی سلامتی کو فی الحال کوئی خطرہ نہیں۔ اب تو ٹائیفائڈ کی سرکاری ویکسینیشن بھی محال ہو [..]مزید پڑھیں

  • اپنے ہی خلاف دھرنا دینے والی سرکار

    سرکردہ ترقی پسند شاعر اسرار الحق مجاز نے کہا تھا کہ ہندوستان میں انقلاب کب کا آ جاتا مگر راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ خود کیمونسٹ پارٹی ہے۔ آج کے پاکستان میں بھی کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ ملک تو تبدیلی کے لیے بے تاب ہے مگر راہ میں سب سے بڑی اڑچن تحریکِ انصاف کی حکومت بن رہی ہے۔ اس برس جن [..]مزید پڑھیں

  • اجالے کے لیے جالے اترنا ضروری ہے

    جامعہ کراچی کے سابق وائس چانسلر پیرزادہ قاسم رضا صدیقی نے کچھ عرصے پہلے یہ قصہ سنایا کہ مرحوم حکیم محمد سعید نے جب کراچی کے مضافات میں مدینتہ الحکمت کے نام سے ایک علمی شہر بسایا تو سب سے زیادہ توجہ اس شہرِ علم کے کتب خانے  بیت الحکمت پر دی۔ ’میں حکیم صاحب کے جمع کردہ کتابو [..]مزید پڑھیں

  • طبلہ مولانا بجا رہے ہیں اور رقص میں سرکار ہے

    ایک سادھو نے کہا تھا کہ افغان خانہ جنگی میں سمندر پار والوں کی شہ پر چند سکوں کے بدلے مت کودو۔ یہ تابعداری اور ڈالرانہ ہوشیاری تمہیں عشروں آٹھ آٹھ آنسو رلائے گی۔ مگر سقراطوں نے سادھو کی بات کو بڑبولا پن جانا اور ناقابلِ تلافی اقتصادی، سیاسی، سفارتی اور سماجی قیمت آج تک بیاج سمی [..]مزید پڑھیں