وسعت اللہ خان

  • کشمیری قیادت کو تنگ نہ کریں پلیز

    ہمیں یہ جان کے دونی مسرت ہو رہی ہے کہ ایسے وقت جب قومی معیشت گہری کھائی کے دہانے پر کھڑی ہے۔ ڈالر مستقل قومی خزانے کے قلعے میں شگاف بڑھاتا جا رہا ہے۔کفایت شعاری ، لگژری آئٹمز کی درآمد اور بجلی کی بچت کے لیے کاروبار کی جلد بندش سمیت ایک ہا ہا کار الگ مچی پڑی ہے۔ کچھ پتہ نہیں کہ آئ [..]مزید پڑھیں

  • عوام کمر کس لیں تا کہ ہم ’چس‘ لیں

    ہم میں بہت خامیاں سہی پر کچھ اچھائیاں بھی ہیں اور بعضی بعضی تو ایسی ہیں کہ شاید ہی کسی قوم میں دیکھنے کو ملیں ۔ مثلاً تعبیر ملے نہ ملے، ادھ کچی یا مکمل ملے، ہم پرواہ نہیں کرتے اور خواب دیکھنا ترک نہیں کرتے۔ اس کام میں دن رات یا سونے جاگنے کی بھی قید نہیں۔ مثلاً یہ خواب کہ ہم اقبا [..]مزید پڑھیں

  • مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا

    اب تک تو معاملہ لشٹم بشٹم چل رہا تھا۔ خزانچیوں کے لیے ٹیکس بھی آمدن تھا اور قرض ادھار کو بھی انہوں نے کمائی فرض کر لیا تھا۔ سرد جنگ کی رقابت میں آڑے ترچھے اتحادیوں کی تلاش کی دوڑ میں کرپشن ، بدانتظامی ، نااہلی ، فرسودہ طبقاتی ڈھانچہ ، حکمران اشرافیہ کے اللے تللے اور عام آدم [..]مزید پڑھیں

loading...
  • ان بچوں کو ہمدردی نہیں حوصلہ چاہیے

    ہمیں چونکہ خود کو دیکھنے سے ہی فرصت نہیں اس لیے ہمیں آس پاس بسنے والوں کی کم ہی خبر ہوتی ہے کہ وہ کس دنیا میں جی رہے ہیں۔کبھی کبھی اس آس پاس کی جانب ہمدردی کی ایک نظر اٹھ تو جاتی ہے پر اگلے ہی لمحے ہم اپنے آپ میں پھر سے ڈوب جاتے ہیں۔ مثلاً امراضِ چشم میں مبتلا افراد کی فلاح و ب [..]مزید پڑھیں

  • حیاتِ مقصود چپراسی (ایک مطالعہ)

    کہا جاتا ہے کہ ملک مقصود احمد 1973 کے کسی ایک دن لاہور میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم بھی یقیناً حاصل کی ہو گی تب ہی تو بلوغت کے بعد آپ رمضان شوگر مل میں بطور نائب قاصد بھرتی ہوئے۔ آپ کی بنیادی ذمہ داریوں میں چائے بنانا اور سلیقے سے پیش کرنا بھی شامل رہا۔ پھر رفتہ رفتہ جیسا کہ ہوتا [..]مزید پڑھیں

  • تو پھر مرنے والے کو کیسے یاد کریں ؟

    اس سے نفرت تھی، محبت تھی کہ بے زاری تھی کوئی مر جائے اچانک تو پتا لگتا ہے (جاوید صبا) ہمارے ہاں ایک نظریہ یہ ہے کہ جب کوئی مر جائے تو اس کی برائیوں کو نظرانداز کرو اور اس کا ذکر کرو تو اچھے سے ورنہ سکوت اختیار کرو۔دوسرا نظریہ یہ ہے کہ زندگی میں اگر آپ کسی شخص کو محض سیاہ و سفی [..]مزید پڑھیں

  • آخری پاجامہ اور داتا صاحب کا لنگر!

    ون ایلیا نے مشتاق یوسفی سے کہا ’مرشد فقیری کا یہ عالم ہو گیا ہے کہ کرتے بائیس ہیں مگر پاجامہ ایک ہی بچا ہے۔‘ یوسفی صاحب نے برجستہ کہا ’اس سے بھی نجات پا لیجیے تاکہ کسی طرف سے تو یکسوئی ہو۔‘ اوروں کا تو پتہ نہیں البتہ ہمیں ذاتی طور پر خوشی ہے کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف ن [..]مزید پڑھیں

  • سب چاہیے کچھ بھی کیے بغیر

    جو عام آدمی چالیس گز کا مکان ہڑپنے کے چکر میں سگی بہن اور بھائی کو عدالت میں گھسیٹ لیتا ہے، کھیت پر قبضے کی جعلی فرد بنوانے اور اس پر بضد ہونے سے نہیں چوکتا ، قاتل بیٹے کو بچانے کے لیے جعلی برتھ سرٹیفکیٹ کے حصول کے لیے ہر بااثر کے قدموں میں لوٹنیاں لگاتا ہے۔ کسی بے گناہ کو قتل کے [..]مزید پڑھیں

  • ہو رہا ہوں میں کس طرح برباد

    قدرتی آفات کے اثرات کو مختلف تدبیروں سے ہلکا تو کیا جا سکتا ہے مگر یکسر ٹالا نہیں جا سکتا۔ مگر بہت سی آفات محسوس تو قدرتی ہوتی ہیں لیکن ان کے پیچھے کسی نہ کسی عقلِ کل حکمران کی کارستانی ہوتی ہے جو فطرت کے ساتھ ساتھ چلنے کے بجائے اس کا بازو مروڑ کے فطرت کو یرغمال بنانے کی کوشش کرتا [..]مزید پڑھیں

  • پھل موسم دا، گل ویلے دی

    پاکستانی شاہراہوں پر حرکت پذیر کئی بسوں، ویگنوں اور مال بردار ٹرکوں کے پیچھے لکھا ہوتا ہے ” پھل موسم دا ، گل ویلے دی۔” ان دنوں ایک پرانی اصطلاح نئے مطلب کے ساتھ زیرِ بحث ہے ۔نیوٹریلیٹی یعنی غیر جانبداری ۔اور اس اصطلاح کو وہ ادارہ فروغ دینے کی کوشش کر رہا ہے جس کے بارے میں [..]مزید پڑھیں