یاسر پیرزادہ

  • جوتے چاٹ کر معافی مانگو

    جب میں انڈیپنڈنٹ اردو کے لیے کالم لکھنے کے لیے موضوع کا چناؤ کرتا ہوں تو میری کوشش ہوتی ہے کہ کوئی ہلکا پھلکا سا موضوع ہو جس پر طبع آزمائی کی جائے۔ سنجیدہ، گمبھیر اور فلسفیانہ موضوعات سے یہاں پرہیز کرتا ہوں۔  یہ پرہیز مدیر اعلیٰ نے نہیں بتایا بلکہ میں نے خود اپنے آپ پر لاگو [..]مزید پڑھیں

  • آزادی اظہار کا حق اب کیوں یاد آیا؟

    ایک سوال بہت زور وشور سے پوچھا جا رہا ہے کہ کیا آپ آزادی اظہار کی حمایت کرتےہیں اور اگر کرتے ہیں تو کیا آپ اُن لوگوں کے ساتھ کھڑے ہیں جو اِس آزادی کا حق استعمال کرنے کی پاداش میں آج کل زیر عتاب ہیں ؟ یادش بخیر ، ایک ایسا ہی سوال جنرل ضیا الحق مرحوم نے بھی پوچھا تھا کہ کیا آ [..]مزید پڑھیں

  • حب الوطنی کا پارہ آسمان کو چھو رہا ہے

    آج صبح جب میں بیدار ہوا تو حسب عادت تمام اخبارات پر نظر دوڑائی، شہ سرخیاں پڑھیں، جید لکھاریوں کے کالموں کا جائزہ لیا، سیانے لوگوں کے تبصرے پڑھے اور پھر اس نتیجے پر پہنچا کہ ملک خداداد پاکستان میں اس وقت حب الوطنی کا پارہ آسمان کو چھو رہا ہے۔ یہ جان کر روح کو بہت شانتی ملی۔ ویسے [..]مزید پڑھیں

loading...
  • یزید کی بیعت کرنے میں کیا حرج تھا؟

    8 ذوالحج سن 60  ہجری تاریخ کا ایک عجیب و غریب دن ہے۔ یہ وہ دن ہے جب امام حسین ؓ اپنے خاندان کے چند افراد اور بیوی بچوں کے ساتھ مکّے سے نکلتے ہیں اور کوفے کی جانب روانہ ہو جاتے ہیں۔ گو کہ امام حسین ؓ کے پاس کوئی ہتھیار نہیں تھا ، وہ کوئی فوج لے کر نہیں جا رہے تھے اور نہ ہی اُن کا ار [..]مزید پڑھیں

  • مزاح لکھنا مشکل کیوں ہے

    اللہ کو جان دینی ہے، جتنا مشکل کام مزاح لکھنا ہے اتنا مشکل شاید بچہ جننا بھی نہیں۔ مجھے بچہ جننے کا کبھی تجربہ تو نہیں ہوا ( اور مستقبل میں بھی کوئی ارادہ نہیں ) البتہ مزاح میں منہ مارتا رہتا ہوں اسی لیے جب بھی یہ سوچ کر لکھنے بیٹھتا ہوں کہ آج شگفتہ سی تحریر لکھوں گا تو دانتوں تلے [..]مزید پڑھیں

  • منافقت کا طلائی تمغہ جیتنے والے

    ایک سوال ایسا ہے جس پر کم و بیش تمام کالم نگار کالم لکھ چکے ہیں، ہر اینکر پرسن ٹی وی پروگرام کر چکا ہے اور ہر تجزیہ نگار اپنا تجزیہ دے چکا ہے۔ ہر محفل میں اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور ہر سیانے بندے سے اس پر رائے لی جاتی ہے۔ لیکن عجیب بات ہے کہ اب تک اس سوال کا کو [..]مزید پڑھیں

  • میرا جسم ، اُس کی مرضی

    1969 میں امریکی ریاست ٹیکساس میں ایک عورت نے مقدمہ دائر کیا کہ اسے اسقاط حمل کی اجازت دی جائے ، اُن دنوں ٹیکساس میں اسقاط حمل غیر قانونی تھا اور اُس کی اجازت صرف اُس صورت میں تھی جب ماں کی جان کو خطرہ لاحق ہو۔ اُس عورت نے عدالت میں استدعا کی کہ اُس کا ریپ ہوا تھا جس کی وجہ سے وہ حا [..]مزید پڑھیں

  • زبان و بیان کا آئین

    آج کل ملکی سیاست نے ہر خاص و عام کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، چرند، پرند، درند کوئی بھی اِس سے محفوظ نہیں، جہاں چلے جاؤ ایک ہی موضوع سننے کو ملتا ہے، یوں لگتا ہے جیسے پورے ملک میں کوئی وبا پھیلی ہوئی ہے جس کے اثر سے بچنا ممکن نہیں۔ غالب کی طرح مجھے بھی چونکہ وبائے عام کی زد میں ا [..]مزید پڑھیں

  • پاکستانی جامعات کے دو نمبر پی ایچ ڈی

    ” ہم پاکستان کے ہر ضلع میں یونیورسٹی بنائیں گے۔“ یہ نعرہ آپ نے اکثر سنا ہو گا۔ کبھی کوئی جماعت اسے اپنے منشور کے طور پر پیش کرتی ہے تو کبھی کوئی لیڈر جلسوں میں اپنے ’ویژن‘ کے طور پر بیان کرتا ہے۔ بظاہر یہ تصور بہت دلفریب ہے کہ ملک کے چپے چپے میں یونیورسٹیاں کھلی ہوں ا [..]مزید پڑھیں

  • حکمرانوں کا رپورٹ کارڈ

    ایک ستم ظریف نے سوشل میڈیا پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا رپورٹ کارڈ بنا کر جاری کیا ہے۔ یہ رپورٹ کارڈ بالکل اسی قسم کا ہے جیسے اسکول کے بچوں کا ہوا کرتا ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ اس میں نصابی مضامین کی بجائے بھارت کی عالمی درجہ بندی کو بنیاد بنا کر مودی جی کی آٹھ برس کی کارکردگی [..]مزید پڑھیں