یاسر پیرزادہ

  • میری عینک، میرا ورلڈ ویو

    میں نو عمری کے زمانےمیں ایک انگریزی اخبار میں کام کیا کرتا تھا، وہ اخبار اُس گروپ کا تھا جو دائیں بازو کا نظریاتی اردو اخبار نکالتا تھا۔ سو ایک عمومی تاثر یہ تھا کہ انگریزی اخبار کی پالیسی بھی اردو اخبار جیسی ہوگی۔ تاہم حیرت انگیز طور پر یہ انگریزی اخبار اپنے اردو پیٹی بند بھ [..]مزید پڑھیں

  • سوچ کے وائرس کی ویکسین

    پہلی مثال : ایک ڈاکٹر صاحب سے میری گفتگو ہوئی ، سانس کی بیماریوں اورانتہائی نگہداشت کے امور کے ماہر ہیں۔ آج کل اِن کے پاس کرونا کے مریضوں کا بہت رش ہوتا ہے ۔ میں نے ڈاکٹر صاحب سے پوچھا کہ کیا آپ نے ویکسین لگوا لی ہے ؟ کہنے لگے ’میں نے ویکسین نہیں لگوائی ، میں روسی ویکسین سپو [..]مزید پڑھیں

  • کیا پنجابی واقعی مزاحمت نہیں کرتے؟

    میرا دوست ’الف ‘آج کل کچھ تشکیک کا شکار ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک جب اُس سے بات ہوتی تھی تو وہ اپنے خیالات کا اظہار قطعیت کے ساتھ کرتا تھا، اُس کی رائے دو ٹوک ہوتی تھی اور وہ پاکستانی تاریخ کے حوالے سے کسی قسم کے ابہام کا شکار نہیں لگتا تھا۔  شہاب الدین غوری اور محمود غزنوی ا [..]مزید پڑھیں

loading...
  • ویکسین کی دوڑ میں ہم کہاں کھڑے ہیں؟

    دنیا میں ویکسین بنانے والی سب سے بڑی کمپنی کا نام ’سیرم انسٹیٹیوٹ پرائیویٹ لمیٹڈ‘ ہے، یہ بائیو ٹیکنالوجی اور فارماسیوٹیکل کمپنی ہے جو 1966 میں نجی طور پر قائم کی گئی تھی اور یہ بھارت کے شہر پونا میں واقع ہے۔ یہ کمپنی ایک باپ اور بیٹے کی ملکیت ہے اور اس کمپنی میں آکسفورڈ کی [..]مزید پڑھیں

  • مخلوط تعلیم اور میرے فیورٹ مولانا

    ’ہر گائے دودھ دیتی ہے، گائے ایک جانور ہے لہذا ہر جانور دودھ دیتا ہے‘۔ ’تم ایک کرپٹ شخص ہو، تم نے ناجائز کمائی سے محل نما گھر خریدا ہے۔ جواب :تم نے بھی تو لڑکی کو بھگا کر شادی کی تھی‘۔ ’زید:پاکستان میں ہر پانچ عورتوں میں سے ایک عورت کبھی نہ کبھی اپنی زندگی میں جنسی [..]مزید پڑھیں

  • باعزت زندگی گزارنے کا صحیح طریقہ

    دروازے کی گھنٹی بجی، صاحب خانہ نے گھڑی دیکھی، رات کا پہر تھا، اُن کے سونے کا وقت ہو چلا تھا۔ شب خوابی کا لباس پہنے انہوں نے دروازہ کھولا تو بھونچکے رہ گئے۔ دروازے پر ڈیڑھ درجن پولیس کی گاڑیاں اور باوردی اہلکار بندوقیں سنبھالے یوں چوکس کھڑے تھے جیسے انہوں نے گھر سے کسی دہشت گرد ک [..]مزید پڑھیں

  • مجسمے گرانے والے انقلابی

    تین سوالوں کے جواب تلاش کرنے ہیں۔ پہلا۔ کیا اخلاقی اقدار کا کوئی ایسا پیمانہ بنایا جا سکتا ہے جو آفاقی ہو اور جس پر کُل عالم کا اتفاق ہو جائے؟ دوسرا۔ کیا آج کے دور میں ایسی شخصیات کے مجسمے گرانا درست اقدام ہے جنہوں نے اپنے وقت میں غلامی اور نسل پرستی کو غلط سمجھنے کی بجائے الٹا ا [..]مزید پڑھیں

  • کرونا وائرس کی مادہ کہاں ہے؟

    مبلغ اڑھائی مہینے گھر میں مقید رہنے کے بعد یکایک آج مجھ پر القا ہوا ہے کہ میں نے اب تک کووڈ 19 کا شکریہ ادا نہیں کیا۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ اور کہوں، یہ واضح رہے کہ اشرافیہ میں اس بیماری کا نام کووڈ 19 جبکہ عوام میں کرونا ہے، سو دھوتی سے جینز میں آنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ آپ کووڈ 19 کہ [..]مزید پڑھیں