امر جلیل

  • پہلے پچیس برس

    لفظ سرکار کی جمع ہے سرکاریں۔ تمام سرکاریں سمجھتی ہیں بلکہ تمام سرکاریں چلانے والے حکمرانوں کو یقین ہوتا ہے کہ عام آدمی یعنی رعایا سمجھ بوجھ سے پیدل ہوتی ہے، یعنی عام آدمی سرکاری باتیں سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ عام آدمی ڈبے میں ووٹ ڈالنے کے علاوہ کچھ نہیں جانتا۔ درست! ہ [..]مزید پڑھیں

  • وہ بھی ایک دور تھا

    نئی نسلوں کے نوجوان سمجھتے ہیں، بلکہ ان کو یقین ہے کہ ملک میں سیاسی کھلبلی اور خلفشار پچھلی دو تین دہائیوں کے دوران سیاست پر بعض بے ایمان، بے اصول، فاسد اور فاسق لوگوں کے چھا جانے کا نتیجہ ہے۔ ورنہ اس سے پہلے سب کچھ اچھا تھا۔ شیر اور بکری ایک گھاٹ سے پانی پیتے تھے۔ تب چراغ تلے [..]مزید پڑھیں

  • ٹارزن کو موت سے ڈر نہیں لگتا

    اکثر نوجوان مجھ سے پوچھتے ہیں: خیر سے آپ چھیاسی برس کے ہوگئے ہیں۔ کیا محسوس کرتے ہیں آپ؟ جواب دینے کی بجائے میں نے نوجوانوں کی طرف دیکھا ۔ کچھ نوجوان اٹھارہ انیس برس کے لگ رہے تھے۔ کچھ نوجوان چوبیس پچیس برس کے دکھائی دے رہے تھے۔ کچھ نوجوان گریجویٹ ہونے کے دہانے پر کھڑے تھے۔ [..]مزید پڑھیں

loading...
  • الرجی کی قسمیں اور سیاست

    کچھ چیزوں سے ہم سب کو الرجی ہوتی ہے۔ الرجی کا مناسب نعم البدل لفظ ہماری اپنی زبانوں میں نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم سب لوگ پتھر ہضم، لکڑ ہضم قسم کے لوگ ہیں۔ سب کچھ کھا ہی لیتے ہیں، اور ڈکار تک نہیں لیتے۔ مگر کچھ لوگ ہمارے درمیان ایسے ہیں جو کسی کو شائبہ تک ہونے نہیں دیتے [..]مزید پڑھیں

  • دنیا سے دل مت لگانا

    اپدیشوں ، نصیحتوں، لیکچروں، تلقینوں اور سرزنشوں کا سلسلہ تب جاکر ختم ہوتا ہے جب ہم ختم ہوجاتے ہیں۔ یعنی اس دنیا سے کوچ کرجاتے ہیں۔ سیانے فرماتے ہیں کہ یہ دنیا ایک اسٹیج ہے۔ اسٹیج پر اپنی کارکردگی دکھانے کے بعد ہم ہمیشہ کے لئے اسٹیج چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ تنبیہوں اور تلقینوں کا [..]مزید پڑھیں

  • کچھ نصیحتیں

    پچھلے چھیاسی برس سے وعظ، نصیحتیں، درس سنتے سنتے میرے بھیجے کی ہارڈ ڈسک بھر گئی ہے۔ اب میرے بھیجے میں مزید مشوروں اور صلاحوں کیلئے گنجائش نہیں ہے۔ اگلے وقتوں میں ایسی صورتحال کو کہتے تھے ہائوس فل، میں نے سوچا ہے کہ سر میں نئی سوچ، نئے خیالات، نئی بات کیلئے جگہ بنانی چاہئے ۔ سر [..]مزید پڑھیں

  • ایک اور پرانی کہانی

    آج آپ ایک اور پرانی کہانی گوش گزار کیجئے۔ کہانی سننےکے بعد، کہانی کے مفہوم پرغور کیجیے گا۔ آپ کہانی سنئے۔ ایک نیکو کار پروفیسر35 برس درس و تدریس سے وابستہ رہنے کے بعد ریٹائر ہوئے۔ کالج انتظامیہ اور کولیگ اساتذہ نے فیئر ویل یعنی الوداعی دعوتیں دیں۔ دعوتوں کے دوران دوست احب [..]مزید پڑھیں

  • نئی پرانی کہانی

    آج ایک روز کیلئے سیاست کو جانے دیجئے۔ آج ایک پرانی کہانی سنئےاور پھر اس کہانی پر غور کیجئے۔ اس نوعیت کی کہانیاں ہر دور میں، ہر معاشرے میں، ہر ملک میں، ہرزبان میں لکھی گئی ہیں۔ آپ نے کئی مرتبہ یہ کہانی پڑھی ہوگی یا اس کہانی کے بارے میں سنا ہوگا۔ کوئی حرج نہیں ہے اگر اس کہانی [..]مزید پڑھیں

  • میں کا مرض

    جب بھی آپ چھوٹے منہ سے بڑے بڑے دعوے سنیں تب سمجھ جائیے گا کہ دال میں کچھ کالا ہے۔ بلکہ دال میں کچھ ضرورت سے زیادہ کالا ہے۔ دال کم، سب کچھ کالا دکھائی دیتا ہے۔ اس نوعیت کی کارستانی اگر چھوٹے موٹے عرصہ تک محیط ہوتی تو پھر شاید قابل فراموش ہوتی… مگر اس نوعیت کی کارستانی ہم تقر [..]مزید پڑھیں

  • چند کیر زماتی سیاستدان…

    آل انڈیا مسلم لیگ کی بیالیس سالہ تاریخ میں ایک بھی مثال نہیں ملتی جس میں قائد اعظم نے جلسے کی قیادت کی ہو۔ لوگوں کا لہو گرم رکھنے کے لیے دھواںدھار تقرر کی ہو، سڑکوں اور روڈ راستوں پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کا سامنا کیا ہو اور تصادم میں آئے ہوں۔ فقیر کی بات آپ تحمل سے سن [..]مزید پڑھیں