امر جلیل

  • چند کیر زماتی سیاستدان…

    آل انڈیا مسلم لیگ کی بیالیس سالہ تاریخ میں ایک بھی مثال نہیں ملتی جس میں قائد اعظم نے جلسے کی قیادت کی ہو۔ لوگوں کا لہو گرم رکھنے کے لیے دھواںدھار تقرر کی ہو، سڑکوں اور روڈ راستوں پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کا سامنا کیا ہو اور تصادم میں آئے ہوں۔ فقیر کی بات آپ تحمل سے سن [..]مزید پڑھیں

  • کمزور بنیاد پر بنی ہوئی عمارت

    کیرزما کا طلسم صرف کھیل اور کھلاڑیوں اور فن اور فنکاروں تک محدود نہیں ہوتا۔ امریکی ادب کے بے مثال افسانہ نگار اور ناولسٹ ارنیسٹ ہیمنگوے کو انتظامیہ کی طرف سے ہدایات دی گئی تھیں کہ وہ اپنے سفری پروگرام کو حتی الامکان مخفی رکھیں۔ ہیمنگوے جب بھی سفرکرتے تھے لوگ دیوانہ وار ان کو [..]مزید پڑھیں

  • شخصیت کا طلسم

    اگر آپ میرے فاسٹ بالر کے سخت مخالف ہیں اور اس کا نام سن کر غصہ سے بے قابو ہوجاتے ہیں، پھر بھی آپ بے خوف میرا آج کا قصہ پڑھ سکتے ہیں۔ گھبرا کر آپ اپنا یا کسی اور کا سر نہیں پھوڑیں گے۔ اگر آپ عمران خان کے کٹر حامی ہیں، اس کو دل وجان سے پسند کرتے ہیں، اس پر مرمٹنے کوتیار رہتے ہی [..]مزید پڑھیں

loading...
  • قدیم دور کے وکٹ کیپر کے مشورے

    جب ایک مرتبہ یقین اٹھ جاتا ہے، تب یقین کا دوبارہ بحال ہونا مشکل لگتا ہے۔ اگر ایک سے زیادہ مرتبہ یقین ڈانواں ڈول ہوجائے پھر یقین کا دوبارہ مستحکم ہونا امکان سے باہر لگتا ہے۔ انیس سوسینتالیس سے آج تک اظہار کی آزادی کے دعوے سے میرا یقین متزلزل ہوتا رہا ہے۔ پچھلے 75 برس کے دوران [..]مزید پڑھیں

  • پوچھ گچھ کی ممنوعہ سرحدیں

    دہشت گردوں کے بارے میں آپ سے میں کچھ پوچھنا چاہتا ہوں۔ بلکہ میں کچھ جاننا چاہتا ہوں۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ دہشت گردوں کے بارے میں، میں کچھ نہیں جانتا۔ دہشت گردوں کے بارے میں اچھی خاصی معلومات ہیں مجھے۔ میں کورا کاغذ نہیں ہوں۔ دہشت گردوں کے بارے میں مستند معلومات حاصل کرنے کیلئ [..]مزید پڑھیں

  • اظہار کی آزادی کی سرحدیں

    آپ کیا سمجھتے ہیں، پچھلے دنوں اسلام آباد میں جو کچھ ہوا تھا، وہ سب اچھا تھا؟ یا کہ وہ سب کچھ برا تھا؟ اسلام آبا د میں ویسے بھی بہت کچھ ہوتارہتا ہے۔ اسلام آباد معمولی شہر نہیں ہے۔ پاکستان کا کیپٹل ہے، یعنی دارالحکومت ہے۔ لہٰذا اسلام آباد ایمبیسیز اور ہائی کمیشنز کا شہر ہے۔ [..]مزید پڑھیں

  • پروفیسر دیدار دکھی نے سب کچھ بھلا دیا

    پروفیسر دیدار دکھی کے دکھوں کی فہرست اس قدر لمبی تھی کہ وہ پروفیسر دیدار حسین کی بجائے پروفیسر دیدار دکھی کہلوانے میں آیا۔ عام طور پر لوگ سمجھتے تھے کہ پروفیسر دیدار حسین شاعر تھا۔ اور دکھی اسکا تخلص تھا مگر ایسا نہیں تھا۔ وہ کیمسٹری پڑھاتا تھا۔ اسے شعرو شاعری سے کوئی دلچسپ [..]مزید پڑھیں

  • ہم سب مسافر ہیں

    ہم سب بڑے بوڑھے ملتے جلتے حالات سے گزرتے ہیں۔ کچھ لوگ ہمیں عمر رسیدہ کہہ کر چھوڑ دیتے ہیں۔ ہمیں کسی کام کا نہیں سمجھتے۔ کچھ لوگ ہمیں بزرگ ہونے کے لقب سے سرخرو کرتے ہیں۔ خود بڑھاپے کی دہلیز پر کھڑے ہوئے لوگ ہمیں خبطی کہتے ہیں۔ انگریز نے سب کا کام آسان کردیا ہے۔ انگریز اپنے اور [..]مزید پڑھیں

  • سوال جو پوچھے نہیں جاسکتے

    دماغی، نفسیاتی، جذباتی، فعلیاتی امراض کے ماہر ڈاکٹروں کا فرمانا ہے کہ بچپن میں پوچھے گئے سوالوں کے جواب اگر بچوں کو نہیں ملتے تو آپ یہ مت سوچئے کہ وہ سوال ختم ہوجاتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے۔ وہ سوال بچے کے شعور اور لاشعور میں پنپتے رہتے ہیں۔ تعداد میں بڑھتے رہتے ہیں۔ اس کے ذہن پر س [..]مزید پڑھیں

  • خیالی پلاؤ

    بنیادی اور بے بنیاد حقوق کی باتیں کرنے والے ایک آفت قسم کے دانشور سے میںنے پوچھا، ’سر، خیالی پلاؤ پکانا جرم کے زمرے میں تو نہیں آتا ؟‘ بنیادی حقوق کے جانے، مانے، پہچانے ہوئے دانشور نے کہا ’خیالی پلاؤ پکانا ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ دنیا کا کوئی قانون تمہیں تمہارے ب [..]مزید پڑھیں